جنرل باجوہ کے خاندان کا ٹیکس ریکارڈ مصدقہ کیسے نکلا؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے اہل خانہ کے انکم ٹیکس ریکارڈ کے غیر قانونی طور پر لیک ہونے کی انکوائری کے حکم نے تصدیق کردی ہے کہ معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر شائع ہونے والی اثاثوں اور جائیدادوں کی کہانی مصدقہ دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جو کہ ایف بی آر سے چوری کی گئیں۔

وزیرخزانہ نے اس ڈیٹا لیکیج کی انکوائری رپورٹ 24 گھنٹے میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ اس حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ کی ٹیکس معلومات کا اس طرح سے لیک ہونا مکمل رازداری کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یعنی بلاواسطہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ جو دستاویزات لیک ہوئی ہیں وہ مصدقہ ہیں۔ وزرات خزانہ کی جانب سے انکوائری کا بیان تحقیقاتی نیوز ویب سائٹ ’فیکٹ فوکس‘ کی رپورٹ جاری ہونے کے ایک روز بعد سامنے آیا کیونکہ آرمی چیف نے اپنے خاندان کا ٹیکس ڈیٹا لیک ہونے پر اظہار ناراضی کیا تھا۔

یاد رہے کہ فیکٹ فوکس نے ایک ایسے نازک موقع پر یہ رپورٹ شائع کی ہے جب حکومت اور فوجی قیادت کے مابین مبینہ طور پر نئی فوجی تقرریوں کے حوالے سے ڈیڈلاک چل رہا ہے۔چنانچہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کہ ڈیٹا حکومت کی مرضی سے لیک ہوا ہوگا، وزیر خزانہ نے فوری طور پر انکوائری کا حکم جاری کیا یے۔ وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا کو ہدایت کی ہے کہ وہ خود ڈیٹا لیکیج کی خلاف ورزی کی تحقیقات کریں۔ طارق محمود پاشا کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر ذمہ دار افراد کا تعین کریں اور 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ جمع کروائیں۔

یاد رہے کہ ’فیکٹ فوکس‘ ہر شائع ہونے والی احمد نورانی کی رپورٹ میں مبینہ طور پر ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خاندان نے گزشتہ 6 برسوں میں 12 ارب روپے سے زائد کی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔باجوہ خاندان کی جائیداد اور اثاثوں کے حوالے سے خبر بریک کرنے سے پہلے فیکٹ فوکس نامی تحقیقاتی ویب سائٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف اور سابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن کے حوالے سے بھی خبریں شائع کی ہیں۔

آرمی چیف کے خاندان کے مبینہ ٹیکس ریکارڈ کے حوالے سے جاری فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے دعووں کے مطابق پاکستان کے اندر اور باہر آرمی چیف کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں 2013 سے 2021 تک جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کی مبینہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس بھی شیئر کی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے اثاثے جو 2016 میں صفر تھے، وہ بعد کے 6 برسوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے ہو گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کہا گیا ہے کہ اس رقم میں فوج کی جانب سے ان کے خاوند کو ملنے والے رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور مکانات شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اکتوبر 2018 کے آخری ہفتے میں جنرل قمر باجودہ کی بہو ماہ نور صابر کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں کی کُل مالیت صفر تھی اور ان کی شادی سے صرف ایک ہفتہ قبل ہی یعنی 2 نومبر 2018 کو ان کے اثاثے ایک ارب 27 کروڑ روپے سے زائد ہوگئے۔

اسی طرح فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ ماہ نور کی بہن ہمنا نصیر کے اثاثے 2016 میں صفر تھے جو 2017 تک ’اربوں‘ میں پہنچ گئے۔ رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ماہ نور کی 3 بہنوں میں سب سے چھوٹی نابالغ بہن کے ٹیکس ریٹرن پہلی بار 2018 میں جمع کرائے گئے جب کہ ابھی وہ صرف 8 سال کی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکے 2017 کے ریٹرن ظاہر کرتے ہیں کہ اسے پانچ عدد جائیدادیں بطور تحفہ دی گئیں، رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ آرمی چیف کے دوست اور ان کے صاحبزادے کے سسر صابر حمید مٹھو کے ٹیکس گوشوارے 2013 میں 10 لاکھ سے بھی کم تھے، تاہم آنے والے برسوں میں وہ بھی ارب پتی ہوگئے اور لاہور کے طاقتور بزنس ٹائیکون بن گئے اور بیرون ملک اثاثے منتقل کرنے شروع کر دیئے۔

فیکٹ فوکس کے مطابق وہ تمام تر کوششوں کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ کے دونوں بیٹوں کے نام پر موجود اثاثوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ یہ خبر شائع کیے جانے کے بعد سے ان کی ویب سائٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

Back to top button