پریانتھا کمارا کی لاش ہمیں کیوں ہانٹ کرتی رہے گی؟

معروف لکھاری اور کالم نگار یاسر پیرزادہ نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے کے بعد ہم بے شک اگلے سو سال تک یہ نعرے لگاتے رہیں کہ ہمارا دین امن و آشتی کا درس دیتا ہے، پاکستان اقلیتوں کے لیے سب سے محفوظ ملک ہے، اور ہم بے حد مہمان نواز قوم ہیں، لیکن کسی کو ہماری بات پر یقین نہیں آئے گا۔ کیونکہ مقتول سری لنکن پریانتھا کمارا کی لاش ہمیں ہانٹ کرتی رہے گی!
اپنی تازہ تحریر میں یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ 3 دسمبر کو صبح 10 بج کر 35منٹ پر سیالکوٹ میں ’مشتعل ہجوم ‘نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو ڈنڈوں اور لاتوں سے مار کر قتل کیا، اِس کی لاش کو برہنہ کرکے سڑک پر گھسیٹا، اُس کے مردہ جسم پر ٹھڈے اور ڈنڈے برسائے اور جب تسلی نہ ہوئی تو اس کی لاش کو جلا کر کوئلہ بنا ڈالا۔ اِس دوران ہجوم نے کیا نعرے لگائے،یہ قتل کیوں ہوا، پریانتھا کمارا کا اصل مجرم کون ہے؟یہ سب لکھنے سے میرا قلم قاصر ہے کیونکہ مجھے صرف دس فیصد سچ لکھنے کی آزادی ہے اور وہ بھی اشاروں کنایوں میں اور یہ دس فیصد سچ لکھنے سے پہلے بھی مجھے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے۔ آج کا دس فیصد سچ یہ ہے کہ پریانتھا کمارا کا قتل اِس نوعیت کا پہلا قتل ہے اور نہ ہی آخری۔مشال خان کی اندوہناک موت، بہاولپور میں شاگرد کے ہاتھوں استاد کا قتل، کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو بھٹی میں زندہ جلادینے کا واقعہ،خوشاب میں سیکورٹی گارڈ کا بینک منیجر کو گولی مارنا….. اِس قسم کے واقعات کی ایک طویل فہرست ہے جو ہمارے نامۂ اعمال میں لکھی جا رہی ہے اور روز قیامت یہی نامہ اعمال ہمارے منہ پر مارا جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ بظاہر چند دن میں لوگ یہ واقعہ بھول جائیں گے مگر پھر کوئی اور واقعہ رونما ہوگا جو پہلے سے بھی زیادہ دلخراش ہوگا جس کے بعد ہم نئے سرے سے نوحہ گری میں مصروف ہو جائیں گے اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ اِن تمام واقعات میں ایک بات بہت عجیب ہے اور وہ یہ ہے کہ اِس قسم کے واقعات کے مجرمان فوراً گرفتار بھی کر لیے جاتے ہیں، اُن پر مقدمہ بھی چلتا ہے، عدالتیں نہایت جرات سے کام لے کر سزائیں بھی سنا دیتی ہیں، اِن سزاؤں پر عمل بھی ہو جاتا ہے مگر اِس کے باوجود یہ واقعات نہیں رکتے !
یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ آپ سیالکوٹ واقعے کی مثال ہی لے لیں، اِس کے رونما ہونے کے بعد محض چند گھنٹوں کے اندر پولیس نے 50 سے زائد ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے حوالات میں ڈال دیا، یقیناً اِن پر مقدمہ بھی چلے گا اور قانون کے مطابق سزا بھی ہوگی مگر اِس کے باوجود پاکستان کے 22 کروڑ عوام میں سے کسی کو اِس میں رتی برابر بھی شبہ نہیں کہ سیالکوٹ جیسے واقعات آئندہ بھی پیش آئیں گے اور تب تک پیش آتے رہیں گے جب تک ہم انکی اصل وجوہات کا تدارک نہیں کریں گے۔ اصل وجوہات ہم سب جانتے ہیں مگر لکھ نہیں سکتے۔ دس فیصد سچ یہ ہے کہ اصل وجہ وہ آگ ہے جو ہم نے معاشرے کی کیتلی کےنیچے بھڑکائی ہوئی ہے، جب اس کیتلی میں سے جنونیت کا دودھ ابل کر باہر آنے لگتا ہے تو ہم آگ بجھانے کی بجائے دودھ کو پھونکیں مار کر واپس کیتلی میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ کار لا حاصل ہے۔
یاسر کہتے ہیں کہ سیالکوٹ واقعے پر ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے شخص نے مذمتی بیان جاری کیا، حتّیٰ کہ اُن لوگوں نے بھی مذمت کی جو سارا سال معاشرے میں انتہا پسندی کی کیتلی کے نیچے آگ بھڑکا کر رکھتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہےکہ مذمتی بیانات دینے اور یہ کہنے سے کہ آئین، قانون اور مذہب اِس ظلم کی اجازت نہیں دیتا، وہ بری الذمہ ہو جاتے ہیں جبکہ دس فیصد سچ یہ ہے کہ یہ واقعہ پیش ہی اِس وجہ سے آیاہے کہ ملک کی فضا اس جنونیت کے لیے سازگار بنا دی گئی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ سالہا سال تک ایک مخصوص بیانیے کی آبیاری کریں، اس بیانئے کی مخالفت کرنے والوں پر مذہب دشمن ہونے کی پھبتی کسیں، ریاست کو بلیک میل کرنے والے گروہوں کی ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کریں، ایسے گروہوں کے ہر جائز نا جائز اقدام کا دفاع کریں، پہلے ان پر پابندیاں لگائیں اور پھر پابندیاں اٹھائیں اور جب اِس انتہا پسند بیانئے کے زیر اثر ایک غیر ملکی شہری کو قتل کر کے اُسکی ننگی لاش کا سڑکوں پر گھسیٹا جائے تو آپ اِس سے اعلان لاتعلقی کردیں !ہم سب نے ٹویٹر پر وہ مذمتی بیانات پڑھے ہیں جو اِس واقعے کے بعد جاری کیے گئے ہیں، اِن میں سے کئی مذمتی بیانات میں تو اتنےغم و غصے کا اظہار بھی نہیں کیا گیا جتنا اُس موقع پر کیا گیا تھا جب دو بچوں نے اسلام آباد میں قائد اعظم کے پورٹریٹ کے سامنے کھڑے ہو کر تصاویر بنوائی تھیں اور بات غم و غصے کی بھی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ نظریاتی طور پر کہاں کھڑے ہیں ! یہ جاننے کے لیے گزشتہ ایک ماہ کے اخبارات اٹھا لیں اور پڑھنا شروع کردیں کہ کیسےہمارے مہربانوں نےمذہبی بنیاد پر ہونے والے پر تشدد احتجاج کی حمایت میں تاویلیں گھڑیں اور کہاں کہاں سے دلیلیں ڈھونڈ کر لائے۔
یاسر پیرزادہ کہتے ہیں کہ مجھے مایوسی پھیلانے کا کوئی شوق نہیں مگر یہ کہے بغیر چارہ بھی نہیں کہ اب اِس بیانئے کو ریورس کرنا آسان کام نہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں جس قسم کا نصاب رائج کر دیا گیا ہے اس کے بعد معاشرے کے نارمل ہونے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ سیالکوٹ جیسے واقعات صرف پاکستان میں ہی پیش آتے ہیں، مگر ہم میں اور باقی دنیا میں فرق یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب ان واقعات میں تیزی آتی جس رہی یے اور معاشرے کا بڑا طبقہ ان کی بالواسطہ حمایت بھی کرتاہے جو کہ خوفناک بات ہے۔ لہذا ہم بے شک اگلے سو سال تک یہ نعرے لگاتے رہیں کہ اسلام امن و آشتی کا درس دیتا ہے اور پاکستان اقلیتوں کے لیے محفوظ ترین ملک ہے، کسی کو ہماری بات پر یقین نہیں آئے گا اور یاد رکھیے کہ پریانتھا کمارا کی لاش ہمیں ہانٹ کرتی رہے گی!
