پنجاب میں سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی عائد

پنجاب حکومت نے سرکاری دفاتر میں واٹس ایپ استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ خفیہ معلومات افشاں ہونے کے خدشا ت کی وجہ سے سرکاری دستاویزات کی واٹس ایپ پر شیئرنگ کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے.
پنجاب حکومت کی طرف سے خفیہ معلومات افشاں ہونے کے خدشات کی وجہ سے واٹس ایپ کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے. پنجاب حکومت کی طرف سے تمام سرکاری اداروں کو جاری کئے گئے سرکلر میں ایسے تمام واٹس ایپ گروپس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے معلومات لیک ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ زرائع کے مطابق پنجاب حکومت کو اس معاملے میں کافی شکایات ملی تھیں جس میں کہا جا رہا تھا کہ پنجاب حکومت کی اکثر معلومات اس لئے لیک ہو جاتی ہیں کیونکہ یہاں کے سرکاری دفاترمیں معلومات کا تبادلہ سوشل میڈیا موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کے کسی بھی سرکاری دفتر کی دستاویزات کو واٹس ایپ کے ذریعے شئیر نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل وفاقی کابینہ نے بھی خفیہ معلومات لیک ہونے کے خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیئر حکومتی اور فوجی ارکان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے موبائل فون تبدیل کر لیں کیونکہ ممکن ہے کہ غیر ملکی جاسوس ایجنسیاں خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ان کے موبائل فون ہیک کر سکتی ہیں۔وفاقی کابینہ کے نوٹس کے بعد پنجاب حکومت نے ایسے ہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری دستاویزات واٹس ایپ کے ذریعے شیئر نہیں کی جائیں گی کیونکہ اس سے حساس معلومات لیک ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ محکمہ سروسز ایند جنرل ایڈمنسٹریشن نے نوٹس جاری کیا ہے جس کے بعد سکیشن افسران، لاء افسران اور ریاستی افسران کو بھی احکامات کے بارے میں بتاتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر فوری عمل شروع کر دیں۔
