پولنگ عملہ ’غائب‘ ہونا انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کی کمزوری ہے: الیکشن کمیشن

ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور ’23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران’ کے کئی گھنٹوں تک ’غائب‘ رہنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنیچر کو جاری کیے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہٰذا مکمل انکوائری کے بغیر غیر حتمی نیتجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے اور یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔
ای سی پی کے مطابق این اے 75 کے نتائج اور پولنگ عملہ ‘لاپتہ’ ہونے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ معاملے کی اطلاع ملتے ہی رات گئے مسلسل آئی جی پنجاب، کمشنر گوجرانوالہ اور ڈی سی گوجرانوالہ سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہوا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب سے رات تین بجے رابطہ ہوا اور ان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ گمشدہ افسران اور پولنگ بیگز کی تلاش کی جائے گی لیکن بعد میں ان سے دوبارہ رابطہ ممکن نہ ہو سکا اور کئی گھنٹوں کے بعد ‘تقریباً صبح چھ بجے پریزایئڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ حاضر ہوئے۔ ای سی پی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کوتاہی برتنے پر اور پولنگ میٹریل میں ردوبدل کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئیر رہنما احسن اقبال نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ’23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کے اغوا’ کی تحقیقات سامنے آنے تک نتیجہ روکیں۔ احسن اقبال نے بی بی سی کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ 23 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ پولنگ مکمل ہونے کے بعد نتائج لے کر ‘کہاں غائب ہوگیا تھا۔’ قانونی طور پر تو ان نتائج کو ریٹرننگ آفیسر کے آفس جانا تھا جو کہ وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔ لیکن چار گھنٹے تک لاپتہ رہنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ مسلم لیگ کے رہنما نے الیکن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کی بھی تحقیقات کرے کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز پر چار گھنٹے تک پولنگ رکوائی گئی جس سے ان کے بقول ہزاروں نون لیگ کے ووٹرز ووٹ ڈالنے سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کے حالات پیدا کیا گئے اس سے حلقے میں ہونے والا الیکشن مشکوک ہوگیا ہے۔ اس سے قبل احسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہ ڈسکہ کے مسلم لیگ نون کے مضبوط علاقوں میں سارا دن فائرنگ کرکے خوف و ہراس کی فضا بنائی گئی جس کی مقصد نون لیگ کے ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم کرنے کی کوشش تھی۔ رہنما نون لیگ نے مطالبہ کیا کہ جہاں پولنگ بند تھی اور جن پولنگ اسٹیشنز کے پریزائڈنگ افسران ‘لاپتہ’ تھے وہاں پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔ میڈیا سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ این اے 75 کا نتیجہ روکنے کی درخواست نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخار نے جمع کرائی ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں گذشتہ روز ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج ریٹرنگ آفیسر نے روک دیے اور ان کے مطابق حلقہ کے حتمی نتیجے کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان کرے گا۔
اس سے قبل اس حلقے کے کل 360 میں سے 337 پولنگ اسٹیشنوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نون کی سیدہ نوشین افتخار 97 ہزار 588 ووٹ لے کر آگے تھیں جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی 94 ہزار 541 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے 75 کا حلقہ پی ایم ایل نون کے رکن صاحبزادہ سید افتخارالحسن شاہ کے انتقال سے خالی ہوا تھا۔ حلقہ این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں شدید بے نظمی بھی دیکھنے میں آئی اور فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے الزام لگایا ہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کے گارڈز نے پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ کی۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ن لیگ کے ورکرز نے فائرنگ کی اور پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں جہاں جہاں موقع ملا پولنگ روکنے کےلیے ہر حربہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ والوں کی ان حرکتوں کے باعث دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی عثمان ڈار نے لیگی رہنما رانا ثناء اللہ پر ڈسکہ میں حالات خراب کرانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ایف آئی آر کٹوائیں گے۔ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے گڑھ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی حیران کن کامیابی سے پی ٹی آئی 2018 میں جیتی گئی نشست کھو بیٹھی۔ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی ڈسکہ کی این اے 75 اور قبائلی ضلع کرم کی نشست این اے 45 اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پی پی 51 وزیر آباد اور پی کے 63 نوشہرہ میں ضمنی انتخابات کےلیے پولنگ ہوئی جہاں روایتی حریف پی ایم ایل این اور پی ٹی آئی ایک دوسرے کے مدمقابل رہے۔ سال 2018 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے این اے 75 اور پی پی 51 کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور گزشتہ شب آنے والے غیرسرکاری نتائج کے مطابق پارٹی سخت مقابلے کے بعد وزیر آباد کی نشست جیت گئی جب کہ ڈسکہ کی نشست پر نتیجہ روک لیا گیا ہے۔ تاہم نون لیگ کےلیے سب سے اہم جیت پی کے 63 نوشہرہ سے ہوئی جہاں پی ٹی آئی کو شکست کی توقع نہ تھی۔ مسلم لیگ نون کے امیدوار افتخار ولی، جنھیں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حمایت بھی حاصل تھی، نے ضمنی انتخاب میں 21 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے فتح سمیٹی جب کہ ان کے مقابلے پی ٹی آئی کے میاں عمر کاکا خیل 17 ہزار سے کچھ زیادہ ووٹ لے سکے۔ نوشہرہ کی نشست پی ٹی آئی کے قانون ساز اور عمر کاکا خیل کے والد میاں جمشید الدین کی موت کے بعد خالی ہوئی تھی۔ اس نشست کے بارے میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے دعوی کیا تھا کہ پی ٹی آئی یہ انتخاب باآسانی جیت جائے گی۔ پی پی 51 وزیر آباد کے غیر حتمی نتائج کے مطابق (ن) لیگ کی بیگم طلعت محمود صرف پانچ ہزار ووٹ کے فرق سے پاکستان تحریک انصاف کے چوہدری یوسف کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے کارکنوں نے پی پی51 وزیرآباد میں پی ٹی آئی کےلیے ہونے والی ووٹ چوری کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کے لوگوں کی جانب سے کی جانے والی ووٹوں کے بیگز کی چوری کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی عادل چٹھہ اور عطااللہ تارڈ نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔’ مریم نواز نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں پیغام دیا کہ ‘میں ان سب کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ جنھوں نے ڈسکہ اور وزیرآباد سے نتائج روکے ہیں اور نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں یہ مہنگا پڑے گا۔’ انہوں نے کہا کہ ‘یہ سرعام دھاندلی ہے’ اور دعویٰ کیا کہ یہ سب پی ٹی آئی کی ایما پر کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازنے ٹوئٹر پر کئی ویڈیوز جاری کیں جس میں ان کے مطابق دھاندلی کرنے کے مناظر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ ‘پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متحرک تمام کارکن وہاں موجود تھے اور انہوں نے جانے نہیں دیا، ہم ایسے جانے نہیں دیں گے، جو 2018 میں ہوا اب مزید نہیں ہوگا۔’ صحافی حامد میر نے بھی اسی حوالے سے ٹویٹ کی اور لکھا کہ گمشدہ ہونے والے چند افسران واپس آ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دھند کی وجہ سے گم ہو گئے تھے۔ اسی تناظر میں صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ ’جن جن پولنگ ااسٹیشنز کا عملہ ’غائب‘ ہوا, صرف انہی کو دھند کا سامنا کرنا پڑااور انہی کے موبائل بند ہوئے۔‘
