پولیس کا پی ٹی آئی رہنمائوں کیخلاف رات گئے کریک ڈائون

تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے کے ساتھ ہی حکومت نے تحریک انصاف کے رہنمائوں کیخلاف کریک ڈائون شروع کر دیا، رات گئے شروع کیے گئے آپریشن میں پی ٹٰی آئی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ حکومت نے ان لوگوں کی فہرست تیار کر لی جنہیں وہ احتجاج روکنے کیلئے حراست میں لیں گے۔
پولیس کی جانب سے حماد اظہر کے گھر پر رات گئے کارروائی کی اطلاعات ہیں جبکہ راولپنڈی میں شیخ رشید احمد کی رہائش گاہ لال حویلی سمیت فیاض الحسن چوہان اور اعجاز خان ججی کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے۔
سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کے گھر کی نگرانی کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر جہلم روانہ ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز شام کو وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی زیرصدارت وزیراعلیٰ آفس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کے احتجاجی پلان کو کنٹرول کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا اور وزیراعلیٰ نے پولیس کو کارروائی کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اسی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتحادی حکومت جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہے، عمران خان جب تک سب کچھ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کریں گے، اسے قبول کیا جائے گا، اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی تو حکومت مظاہرین سے نمٹے گی۔
پنجاب کی سابق وزیر صحت یاسمین راشد نے حماد اظہر کی رہائش گاہ پہنچ کر پولیس کی کارروائی کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا، فوٹیج میں سابق وزیر صحت پنجاب زمین پر بیٹھے ہوئے دکھائی دیں جبکہ پس منظر میں پولیس کی گاڑیاں دکھائی دیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنوں اور قیادت کے گھروں پر چھاپوں سے مسلم لیگ (ن) کا چہرہ پھر عیاں ہوگیا، پرامن احتجاج تمام شہریوں کا حق ہے، مسلم لیگ (ن) جب بھی اقتدار میں آتی ہے اس کی یہ فاشسٹ فطرت ظاہر ہوجاتی ہے۔
