پہلی بار پاکستانی گلوکارہ ’گریمی ایوارڈز‘ کے لیے نامزد


گریمی ایوارڈز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی گلوکارہ کو موسیقی کے شعبہ میں اعلیٰ ترین ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ 36 سالہ پاکستانی نژاد امریکی سنگر عروج آفتاب کو دو کیٹیگریز میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان میں سے پہلی کیٹگری بیسٹ نیو آرٹسٹ کی ہے جبکہ دوسری کیٹیگری بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس کی ہے۔
یاد رہے کہ ’گریمی ایوارڈز‘ میوزک کی دنیا میں سب سے معتبر ایوارڈ کا درجہ رکھتا ہے، جس کی تقریب ہر سال کے آغاز میں جنوری کے مہینے میں ہوتی ہے۔ سال 2022 میں گریمی کی 64 ویں سالانہ تقریب ہوگی، جس کے لیے نامزدگیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
رواں سال ایوارڈز کے لیے 86 کیٹیگریز میں نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں سے دو’بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس‘ اور ’بیسٹ نیو آرٹسٹ‘ کی کیٹیگریز میں پاکستانی گلوکارہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستانی گلوکارہ کو پہلی بار اعلیٰ ترین میوزک ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے اور ان کا مقابلہ عالمی سطح کے گلوکاروں سے ہوگا۔ عروج آفتاب کا جن گلوکاروں سے مقابلہ ہے ان کے مقابلے میں جیتنا ایک مشکل کام ہے لیکن گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد ہو جانا بھی کوئی چھوٹی بات نہیں۔
یاد رہے کہ عروج آفتاب ان چند گلوکاروں میں سے ہیں جنھیں امریکی میوزک انڈسٹری کے بڑے اعزاز گریمی ایوارڈز 2022 کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستان اور امریکہ میں اس کا ردعمل کچھ ایک جیسا لگتا ہے: کچھ لوگ کئی برسوں سے عروج آفتاب کی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں تو بعض کے لیے یہ نام کچھ خاص جانا پہچانا نہیں۔ اگر عروج کی زندگی کو ایک جملے میں سمویا جائے تو وہ ایک 36 سالہ پاکستانی ہیں جنھوں نے لاہور سے اپنی موسیقی کا آغاز کیا، امریکہ کے برکلے کالج آف میوزک سے تعلیم حاصل کی اور اب تک ان کی تین سولو البم آ چکی ہیں۔
مگر ان کی زندگی کی اصل کہانی دراصل اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔۔۔
سعودی عرب میں پیدا ہونے والی عروج آفتاب جب اپنے والدین کے ساتھ لاہور آئیں تو انھوں نے اپنے میوزک کیریئر کا آغاز بطور کوور آرٹسٹ کیا یعنی وہ کسی مشہور گانے کو اپنے انداز میں گا کر نیا رنگ دیتی تھیں۔ 18 سال کی عمر میں ان کے ایسے ہی دو گانے ’ہالیلویا‘ اور عامر ذکی کا ’میرا پیار‘ انٹرنیٹ پر وائرل ہوئے جس سے انھیں ابتدائی طور پر پذیرائی ملی۔امریکہ کے برکلے کالج سے میوزک پروڈکشن اور انجینیئرنگ پڑھنے کے دوران وہ نیو یارک آ گئیں۔
عروج کو بچپن سے کلاسیکی موسیقی، غزل اور قوالی سے لگاؤ رہا ہے۔ 90 کی دہائی میں لاہور میں ان کے دوست اور رشتہ دار سب استاد نصرت فتح علی خان سے متاثر تھے اور ان کی نایاب ریکارڈنگز بڑے شوق سے سُنا کرتے تھے۔ 2010 کے دوران نیویارک میں صوفی میوزک فیسٹیول کا میلا سج رہا تھا جب عروج کو پتا چلا کہ ’صوفی موسیقی کی ملکہ‘ عابدہ پروین بھی وہاں پرفارم کرنے والی ہیں۔ عروج یاد کرتی ہیں کہ انھوں نے ہوٹل میں عابدہ پروین کا روم نمبر پتہ کیا اور ان کے دروازے پر بن بلائے دستک دے دی۔ عابدہ پروین نے انھیں آڈیشن سے پہچان لیا، ہاتھ پکڑا اور کمرے میں بلا لیا۔ اور یوں دونوں ہارمونیم پر ساتھ گانے لگے۔
ایک موقع پر عروج نے عابدہ پروین سے پوچھا ’میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کروں؟‘ عابدہ پروین نے جواب دیا ’میری البمز سُنو!‘عروج یہ تسلیم کرتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں اُردو شاعری سے کافی متاثر ہوئی ہیں۔ وہ اپنی موسیقی کو نیو صوفی سیمی پاکستانی کلاسیکل کہتی ہیں۔
گریمی میں نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر عروج سے متعلق طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ جہاں اکثر لوگ انھیں اس پر داد دے رہے ہیں وہیں کچھ لوگ بظاہر ان کی موسیقی سے زیادہ متاثر نہیں۔ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو صرف تب ہی سراہا جاتا ہے جب انھیں عالمی شہرت ملے، جو ٹھیک نہیں۔ خیر عروج اس سے پہلے بھی عالمی سطح پر سب کی نظروں میں آ چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ان کا گانا ’محبت‘ اپنے آفیشل سمر 2021 پلے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ حفیظ ہوشیارپوری کی ایک غزل پر مبنی یہ گانا عروج کے ہٹ گانوں میں سے ہے جسے ان سے پہلے مہدی حسن گا چکے ہیں۔
عروج نے بتایا کہ 2018 میں ان کے بھائی اور ایک قریبی دوست کی موت نے ان کی زندگی اور موسیقی پر گہرا اثر چھوڑا۔ جب ان سے پوچھا گیس کہ وہ پاکستان کے معروف میوزک شو کوک سٹوڈیو میں حصہ کیوں نہیں لیتیں جو ان کی طرح صوفی اور کلاسیکل موسیقی کو نئے انداز میں پیش کر رہا ہے، تو ان کا جواب تھا کہ ’میں سوڈا نہیں پیتی! کوکا کولا ایک ایسی کمپنی ہے جس نے ماضی میں انڈیا اور پاکستان کے کسانوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا ہے۔ لہٰذا میں کوک سٹوڈیو کو بالکل بھی سپورٹ نہیں کرتی۔

Back to top button