پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں

پاکستانی فلم ساز مہرین جبار کا کہنا ہے کہ ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگانے سے متعلق ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے اور پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو اسی طریقہ کار پر چلنا چاہیے۔
مہرین جبار نے کہا کہ پیمرا والے خود بھی کنفیوژڈ ہیں اور انہیں یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پہلے جن ڈراموں اور اشتہارات پر پابندی لگائی گئی تو بعد ازاں ان سے پابندی ہٹائی کیوں گئی؟ میں خود بھی کسی طرح کی پابندیوں کی حامی نہیں ہوں، کیوں کہ کسی بھی مواد پر پابندی لگانے کا مطلب اس مواد کو زیادہ وائرل کرنا ہوتا ہے۔ مہرین جبار نے پاکستان میں فلموں پر پابندی اور بعض مواد کو سینسر کرنے پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ اگرچہ مہرین جبار نے کہا کہ بعض اوقات ایسی فلموں پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، جن پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، تاہم اس باوجود ان کاکہنا تھا کہ ہماری فلم انڈسٹری کا مسئلہ سینسر بورڈ کے علاوہ کچھ اور ہے لیکن انہوں نے دوسرے مسئلے کی وضاحت نہیں کی۔ مہرین جبار کا کہنا تھا کہ دنیا میں ہر جگہ سینسر بورڈ ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے لیکن ہمارے ہاں بعض جگہ پر لگائی جانے والی پابندی بلکل غلط ہوتی ہے، ہمارے ہاں کسی ایک شخص کو اگر کوئی چیز غلط لگ جاتی ہے تو پابندی لگائی جاتی ہے جب کہ پابندی لگانے کا ایک باضابطہ طریقہ کار ہوتا ہے۔ مہرین جبار نے کرونا کی وبا کے باعث فلم انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات بھی بات کی اور کہا کہ بحران سے بچنے کے لیے فلم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے اور زیادہ سے زیادہ فلمیں بنا کر سینما کو آباد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں بھارتی اور ہولی وڈ کی فلمیں ریلیز ہوتی تھیں تو سینما انڈسٹری بحران کا شکار نہیں ہوتی تھی مگر اب وہاں سے فلمیں آنا بھی بند ہوگئی ہیں، اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ فلمیں بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنا کیریئر بنانے والے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے پاس اپنا مواد دکھانے کے لیے اور کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں تو انہیں اپنا مواد یوٹیوب پر ریلیز کرنا چاہیے۔ مہرین جبار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی نیٹ فلیکس طرز کی اسٹریمنگ ویب سائٹ ہونی چاہیے اور اس ضمن میں ہمارے ملک میں کچھ لوگ کوششیں بھی کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button