پیمرا کی یوٹیوب اور ویب چینلز پر بھاری فیس عائد کرنے کی تجویز

پیمرا نے ٹی وی چینلز پر حکومت مخالف آوازیں دبانے کے بعد یو ٹیوب اور ویب چینلز پر بھاری لائسنس فیسیں عائد کر نے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر آزادی کے ساتھ اٹھنے والی آوازوں کو بھی دبایا جا سکے۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا نے حکومت کو اوور دا ٹاپ یعنی او ٹی ٹی ٹی سروس اور ویب ٹی وی کیلئے بھاری فیس کے عوض لائسنس جاری کرنے کی تجویز دی ہے۔ پیمرا نے او ٹی ٹی سروس کے لائسنس کے اجراء کیلئے حکومتی اجازت نامہ اور 50 لاکھ روپے لائسنس فیس مقرر کرنے کی تجویز دی یے۔ اسی طرح نیوز اینڈ کرنٹ آفئیرز کے ویب چینل کے لائسنس کیلئے ایک کروڑ روپے جبکہ انٹرٹینمنٹ ویب چینل لائسنس کے اجراء کیلئے 50 لاکھ روپے فیس مختص کرنے کی تجویز دی ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو بتایا گیا ہے کہ نہ تو یہ چھوٹے ویب چینلز اور یوٹیوب چینلز اتنی بھاری فیس ادا کر سکیں گے اور نہ ہی وہ یہ کام جاری رکھنے کے بارے میں سوچیں گے۔
دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ حکومت کے اندرر سے سینیئر افسران نے پیمرا کی سوشل میڈیا کو پابند کرنے اور بھاری فیسوں کی ادائیگی پر ویب چینلز کیلئے لائسنسز کے اجراء کی تجویز کو معیشت دشمن قرار دیتے ہوئے اسکی مخالفت کر دی یے اور قرار دیا ہے کہ سوشل میڈیا کو پابند کرنا تحریک انصاف کے اپنے بیانیہ کی نفی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات سے پارٹی کا تشخص شدید مجروح ہو گا اس لئے ایسی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے سے باز رہنا چاہیے۔
حکومتی تجویز کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پیمرا کی طرف سے 50 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک فیس ادا کر کے ویب چینلز کے لائسنسز کا اجراء کا کوئی نظام ترقی یافتہ ممالک میں بھی موجود نہیں، ان کا کہنا ہے کہ سنگا پور، آسٹریلیا، انگلینڈ اور ملائیشیا سمیت مختلف ممالک میں ویب چینلز کے لائسنسز کا اجراء تو کیا جاتا ہے لیکن اس کیلئے کوئی فیس مختص نہیں جبکہ اکثر ممالک میں بغیر کسی لائسنس کے ویب چینلز کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے چلنے والے یوٹیوب اور ویب چینلز سے مجموعی طور پر 50 کروڑ سے 75 کروڑ ڈالر زرمبادلہ سالانہ پاکستان آتا ہے جس کے مستقبل قریب میں ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ لہذا ان چھوٹے چینلز کیلئے 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کی ادائیگی پر لائسنسز کے اجراء سے جہاں یوٹیوبرز کی حوصلہ شکنی ہو گی وہیں لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور پاکستان کروڑوں ڈالرز کے زرمبادلہ سے محروم ہو جائے گا۔ حکومتی حلقوں نے یہ تجویزبھی دی ہے کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے نام پر بھاری فیسوں کی ادائیگی پر لائسنسز کے اجراء کی بجائے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غیر ذمہ دار عناصر بھی کنٹرول ہو جایئں اور لوگوں کا روزگار بھی چلتا رہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حکومت ریونیو کے حصول کیلئے بھاری فیسوں کے نفاذ کی بجائے ویب چینلز کی سالانہ آمدن پر ایک یا دو فیصد ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔ ورنہ ویب چینلز پر بھاری فیسوں کے نفاذ سے جہاں چینلز بند ہو جائیں گے وہیں پر ملکی ساکھ بھی شدید متاثر ہو گی اورپاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر جانا جائے گا جہاں پرعوام کواظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے یوٹیوب کو ماضی میں بھی بلاک کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے اس لئے بھاری غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کیلئے سوشل میڈیا کو پابند کرنے کی بجائے اسے ریگولیٹ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔
دوسری طرف وزارت قانون نےسوشل میڈیا کے غلط استعمال کو کنٹرول کرنے کیلئے آپریشن کلین اپ شروع کرنے کی تیاری کرلی ہے اورسائبر کرائمزایکٹ میں تبدیلی کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے جو کہ سوشل میڈیا سائٹس کےعدم تعاون پرسفارشات پیش کرے گی۔
