پاکستان کی درخواست پر چند ٹوئٹر اکاؤنٹس بحال

بھارتی ایماپر ٹوئٹر کی جانب سے پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس کی معطی کے بارے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ چند ہفتوں میں جن پاکستانیوں کے اکاؤنٹس بلاک ہوئے تھے اتھارٹی نے ٹوئٹر انتظامیہ کو ان میں سے 578 کی بحالی کی درخواست دی تھی تاہم اب تک صرف 61 تک رسائی ممکن ہو پائی ہے۔
جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھی ٹوئٹر کو ان آٹھ اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے درخواست کی گئی ہے جو ملک کے ٹوئٹر صارفین کے خلاف ایک منظم مہم چلانے میں ملوث ہیں تاہم ان کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستانی اکاؤنٹس انڈیا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو دی جانے والی درخواست کی بنا پر معطل ہوئے تھے؟ پی ٹی اے کے ترجمان نے بتایا کہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان میں سے کتنے انڈیا کی جانب سے شکایت پر معطل ہوئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی طرف سے آٹھ اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کی درخواست کسی قومیت کی بنا پر نہیں دی گئی بلکہ وہ اکاؤنٹس پاکستانی ٹویٹر صارفین کے خلاف ایک منظم مہم چلانے میں ملوث ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پی ٹی اے کی طرف سے بلاک کرنے کی درخواست پر ٹوئٹرکا ردعمل کیا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ آئی ایس پی آر کے سبکدوش ہونے والے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے بھی کہا تھا کہ پاکستانی صارفین کو ٹوئٹر پر مشکلات کا سامنا ہے جس میں ایک بڑی وجہ کشمیر کی حمایت میں اظہار خیال ہے۔ تین دسمبر کو اپنے ایک ٹویٹ میں آصف غفور نے لکھا کہ ’پاکستانی صارفین کو ٹوئٹر پر کشمیر کی حمایت میں اظہار خیال کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی ایک بہانے سے یا دوسرے بہانے سے ان کے اکاؤنٹس معطل کیے جا رہے ہیں۔ حکام اس سلسلے میں رابطے میں ہیں اور جلد یہ مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس میں ملوث افراد کو شکست دینے کےلیے ذمہ دار صارفین کی حیثیت سے ثابت قدم رہیں۔‘
پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارم سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ان تک قوانین اور قواعد کے مطابق پاکستان کی شکایات پہنچاتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ٹوئٹر پر مقامی قوانین عائد ہوتے ہیں۔
ٹوئٹر کی جانب سے پاکستان میں کئی ایسے اکاؤنٹس کو معطل کیا گیا ہے جن کو مبینہ طور پر مختلف ہیش ٹیگ شروع کرنے یا مہم چلانے سے جوڑا جاتا رہا ہے۔ بلاک کیے جانے والے اکاؤنٹس میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کے سرگرم رکن فرحان وِرک کا اکاؤنٹ بھی شامل تھا جو ٹوئٹر کے بقول اس کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث تھا۔ فرحان ورک کے حامیوں نے دسمبر میں ان کے اکاؤنٹ کی بحالی کےلیے ٹوئٹر ٹرینڈ بھی چلایا تھا جو اس دن ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا تاہم ان کا اکاؤنٹ تاحال معطل ہے۔
گزشتہ ہفتے حکومت نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بتایا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے پاکستانی حکام اور اداروں کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے جس پر کمیٹی نے حکام سے فیس بک اور ٹوئٹر کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات طلب کرلی تھیں۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انھوں نے جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فیس بک اور ٹوئٹر کے ساتھ اٹھا رکھا ہے تاہم، فیس بک اور ٹوئٹر کی جانب سے عدم تعاون کا مسئلہ درپیش ہے۔
