حکومتی مشینری کا جج کیخلاف ریفرنس کیلئے استعمال غیر قانونی ہے

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی کونسل کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رضا ربانی کا کہنا ہے کہ حکومتی مشینری کو جج کے خلاف ریفرنس بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا،صدر مملکت، وزیراعظم ایسی کوئی انکوائری نہیں کرواسکتے، ایسی غیر قانونی انکوائری کو صرف عدالت عظمٰی ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہے دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعظم بے اختیار ہوئے تو سارا نظام شتر بے مہار ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے سماعت کی جس میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل رضا ربانی نے دلائل دئیے۔ دوران سماعت انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنس کی بد نیتی کا جوڈیشل کونسل جائزہ نہیں لے سکتی جس جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا ادارے ریفرنس دائر کرنے کے لیے مواد اکھٹا کر سکتے ہیں۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ‘ججز کے خلاف مواد اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے اکٹھا کیا جبکہ ادارے اپنے طور پر مواد اکٹھا نہیں کر سکتے، اثاثہ جات یونٹ صرف وحید ڈوگر کی درخواست کو صدر کو بھیج سکتا تھا’۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ ‘آپ کے دلائل افتخار چوہدری فیصلہ کے بر عکس ہے’۔
رضا ربانی نے بتایا کہ ‘اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے ایف آئی اے ایف بی ار اور آئی ایس آئی کو متحرک کرکے مواد اکٹھا کیا’۔ جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ ‘عدالتی فیصلے کے مطابق ججز کے خلاف شکایت کے ساتھ مواد اکٹھا کیا جا سکتا ہے، شکایت کی تصدیق اور انکوائری میں بہت فرق ہے’۔ انہوں نے سوال کیا کہ ‘کیا آپ کہنا چاہتے ہیں صدر تصدیق کے بغیر شکایت کونسل کو بھیج دے؟’۔ رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ ‘ایف آئی اے میں ججز کے خلاف مواد جمع کرنے کے لیے خصوصی اجلاس منعقد ہوئے’۔
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘ایک موقف یہ آیا کہ صدر کی اجازت سے ججز کیخلاف مواد جمع کیا جا سکتا ہے، دوسرا موقف آیا کہ جوڈیشل کونسل کی ہدایت پر مواد جمع ہوسکتا ہے، کیا حکومت صدر کو ریفرنس کیلئے نامکمل شکایت یا مواد بھجوائے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ جن باریکیوں میں آپ جا رہے ہیں وہ اپنی جگہ اہم ہونگی، ججز کا احتساب مرکزی اور اہم نقطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘افتخار چوہدری کیس میں ریفرنس کے میرٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی، افتخار چوہدری کیس میں بدنیتی صدر پاکستان کی جانب سے تھی’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کیس میں کئی اصول وضع کیے، جسٹس فائز عیسی کیس میں بھی عدالت کچھ اصول وضع کرے گی۔
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ‘ججز کی تعیناتی میں ایگزیکٹو اور صدر کا کوئی کردار نہیں تو جج کے خلاف انکوائری کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟’۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم کا عہدہ آئینی ہے وہ حکومت کے سربراہ اور قائد ایوان ہیں، وزیراعظم بے اختیار ہوئے تو سارا نظام شتر بے مہار ہوجائے گا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘عدالت وزیراعظم کا بہت احترام کرتی ہے، وزیراعظم کا کوئی کردار نہ ہو تو نظام کیسے چلے گا؟’۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم کی میں بھی بہت عزت کرتا ہوں’۔
انہوں نے لاہور ہائیکورٹ کے سنگین غداری کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بنیاد غیر قانونی ہو تو اس پر قائم کی گئی عمارت گر جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر مقدمہ قانون کے برخلاف قائم کیا گیا ہو تو اس کی تمام کاروائی کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں مقدمے کی بنیاد غیر قانونی ہونے کی بنا پر تمام کارروائی کو کالعدم قرار دیا، بحیثیت خود اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں، تاہم یہ فیصلہ بہرحال موجود ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ججز کے خلاف حالیہ ریفرنسز بھی بدنیتی پر مبنی ہیں، اگر اس بات کی اجازت دی گئی تو فلڈ گیٹس کھل جائیں گے’۔
جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘ریفرنس کے مواد کی تصدیق صرف ایگزیکٹیو ہی کرسکتا ہے’۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا جج کے خلاف مواد کا وزیراعظم ذریعہ ہوسکتا ہے جس پر رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ جج کی شکایت کا ذریعہ وزیراعظم بھی ہوسکتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان کی بات سن کر کہا کہ ‘یہ تسلیم کرنا آپ کے اپنے دلائل کے منافی ہے’۔
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ ‘کیا وزیراعظم معلومات کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کے لیے مواد اکھٹا کرسکتا ہے جس پر رضا ربانی نے کہا کہ ‘وزیراعظم خود سے مواد اکھٹا نہیں کرسکتے’۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ‘وزیراعظم معلومات صدر مملکت کے سامنے رکھیں گے’۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ‘انکوائری کرنے کا اختیار جوڈیشل کونسل کا ہے’۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘جوڈیشل کونسل میں شوکاز نوٹس کے بعد گواہان پیش ہونے ہیں’۔
جسٹس مقبول باقر نے سوال کیا کہ کیا حکومتی مشینری کو جج کے خلاف مقدمہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جس پر رضا ربانی نے جواب دیا کہ حکومتی مشینری کو جج کے خلاف ریفرنس بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ‘میرا سوال یہ ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم ایسی کوئی انکوائری نہیں کرواسکتے، ایسی انکوائری غیر قانونی ہوگی اور ایسی غیر قانونی انکوائری کو صرف عدالت عظمٰی ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہے’۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ‘میری دلیل ہے کہ جج کے خلاف شکایت براہ راست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائی جائے’۔
بعد ازاں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کی درخواست پر سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی.
رضا ربانی کا کہنا تھا کہ میں کل پندرہ منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ہدایت دی کہ کل رشید اے رضوی اپنے دلائل کا آغاز کریں۔
