پیٹرولیم ڈویژن کا تیل کی قیمتوں میں 15 روز تک کمی نہ کرنے کا مطالبہ

پیٹرولیم ڈویژن نے باضابطہ طور پر تیل کی قیمتوں میں مجوزہ کمی کو 15 جون تک روکنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ صنعت موجودہ نرخ پر فروخت کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرسکے۔ یہ تجویز اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کے آج (بروز ہفتہ) کو ہونے والے خصوصی اجلاس کے لیے تیار کی جانے والی سمری میں دی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ وزارت توانائی نے ای سی سی کو تنبیہ کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے سپلائی بری طرح متاثر ہوگی جسے معمول پر آنے میں کئی ہفتوں اور مہینوں لگ سکتے ہیں کیوں کہ اکثر آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) کے اسٹاکس غیرمعمولی طور پر کم ہوگئے ہیں۔ وزارت کی جانب سے سمری میں یہ شامل نہیں کیا گیا کہ ان کی لائسنس یافتہ او ایم سیز اور ریفائنریز کے لیے 21 دنوں کا اسٹاک رکھنا لازمی ہے۔
دوسری جانب حکومت، آئل مارکیٹنگ کمپنیز اور ریفائنزیز کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوںمیں کمی سے ہونے والے خسارے سے بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ماہانہ سے 15 روزہ کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔
ای سی سی کو ارسال کی گئی سمری میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 31 اگست 2016 کو وفاقی کابینہ کے فیصلے میں 15 روزہ پرائس ایڈجسٹمنٹ کی گنجائش دی گئی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا تھا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن نے 15 دن کی قیمتوں کا تعین کرنے کی تجویز کی ہے لیکن ابتدائی 15 روزہ یعنی 16 جون تک قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ اسی طرح یکم جون کے بجائے نئی قیمتوں کا اعلان 16 جون کو کیا جاسکتا ہے، یہ اقدام او ایم سیز کو پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے موجودہ نرخ پر مصنوعات کی درآمد اور انوینٹری خسارے سے بچاؤ کے لیے مراعات کے طور پر کام کرے گا۔ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ سابق ریفائنری کی قیمتیں اوسط 15 روز یا منتھلی پلیٹس پرائس پلس پریمیئم ( پی ایس او کے ٹینڈر پر مبنی قیمتوں ) کے تحت ہونی چاہیے جس میں موجودہ طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس او کے اخراجات، سمندری خسارے اور ٹیکسز بھی شامل ہوں گے۔ یہ طریقہ کار دونوں ریفائنریز کے ساتھ ساتھ او ایم سی کی قیمتوں کا تعین کرنے کی بنیاد ہوگا۔
جون کے بعد سے پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن قیمتوں کے بنیادی مسئلے کو حل کرتے ہوئے پرائس رسک 30 روز سے کم کرکے 15 روز کرنا اور پرائسنگ انڈیکس کو بہتر کرنا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتی تو امکان ہے کہ نہ صرف ریفائنریز اپنی پیداوار میں کمی کردیں گی بلکہ او ایم سیز کی درآمدات بھی طلب کو پوری کرنے میں ناکافی ہوں گی جس سے بڑے پیمانے پر مصنوعات کی قلت ہوسکتی ہے۔
