پیپلزپارٹی کو اپوزیشن اتحاد کا ولن کیوں بنایا جا رہا ہے؟


چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے بعد اپوزیشن اتحاد کی کچھ جماعتیں پیپلز پارٹی کو ولن بنانے پر تلی ہوئی نظر آتی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ مولانا فضل الرحمان نے کیا حالانکہ وہ اس کام کے لیے تیار تھے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کا یہ موقف ہے کہ وہ استعفوں کے سے اب بھی پیچھے نہیں ہٹی لیکن اس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کرنا چاہیے، جب ملک میں حکومت مخالف سیاسی تحریک زور پکڑ چکی ہو عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ جب استعفے دینے کی بات ہوتی ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ اپوزیشن اتحاد کی دس اتحادی جماعتوں میں سے سوائے پیپلز پارٹی کے اور کسی کا سٹیک نہیں ہے کیونکہ سندھ میں اس کی حکومت ہے اور باقی اپوزیشن جماعتیں فارغ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سوال بھی کرتی ہے کہ اگر پنجاب میں نواز لیگ کی حکومت ہوتی اور استعفوں کی بات ہوتی تو کیا اس نے ایسا کرنے پر راضی ہونا تھا۔
پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ وہ لانگ مارچ کے لیے راضی تھے لیکن در اصل اپوزیشن اتحاد کی قیادت خود جانتی تھی کہ لانگ مارچ کی کوئی تیاری نہیں اور نہ ہی حکومت مخالف تحریک کا کوئی ٹیمپو بن پایا ہیں لہٰذا اتحادی جماعتوں نے یہی مناسب جانا کے ابھی لانگ مارچ کو ملتوی کر دیا جائے اور اس کا ملبہ پیپلزپارٹی پر ڈال دیا جائے۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ کیا رمضان سے چند ہفتے پہلے حکومت مخالف تحریک شروع کرنا کوئی عقل کی بات تھی جب کہ رمضان کے بعد عید آ جانی ہے۔ لہذا ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے ورنہ اگر وہ چاہتے تو اپوزیشن اتحاد کی باقی نو جماعتوں کے ساتھ مل کر لانگ مارچ شروع کر سکتے تھے۔
دوسری جانب سے مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ اپوزیشن مخالف عناصر ان کے اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں اور پیپلز پارٹی نے استعفوں کے معاملے پر وقت مانگ کر ان کوششوں کو مزید تقویت بخشی ہے۔ یاد ریے کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے استعفوں کے معاملے پہ اختلافی موقف اپنایا اور آصف زرداری نے دوران اجلاس نواز شریف سے وطن واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب واپس آئیں تو ہم ان کے ہاتھ میں اپنے استعفے دیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہم نے حکومت کو گرانا ہے تو اس کے لئے تمام سیاسی قائدین کو جیل جانے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ اس پر مریم نواز اور آصف زرداری میں کچھ تلخی بھی پیدا بھی ہوئی۔ تاہم اب تو مولانا فضل الرحمان نے بھی یہ بیان جاری کردیا ہے کہ اگر کسی نے سیاست کرنی ہے تو پھر اسے جیل جانے سے نہیں گھبرانا چاہیے۔ یاد رہے کہ پچھلے ڈھائی برس کے دوران پاکستان میں جتنے سیاسی رہنما نیب نے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیے گئے ہیں وہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہے کہ قومی احتساب بیورو کو موجودہ حکومت اپنا انتقامی اور سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اور اس معاملے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں آئین و قانون کو پیروں تلے روندنے والوں کو سیاسی کمک ہمیشہ سیاسی جماعتوں نے فراہم کی، ماضی میں فوجی آمروں کو یہ سیاسی مدد ہمیشہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ نون اور ان جیسی کچھ دیگر جماعتوں نے فراہم کی یے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ایسی تمام جماعتیں اب تائب ہو چکی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھڑی ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف یہ یے کہ جمہوریت نہ صرف بہترین انتقام ہے بلکہ بہترین نظام بھی ہے لہذا سیاسی جدوجہد پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے ہی کی جانی چاہیے۔ اپوزیشن کی استعفوں کی تجویز پر پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ انکی جماعت نے 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کا اسے پنجاب سے فراغت کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ بینظیر بھٹو بھی اپنی اس سیاسی غلطی کا برملا اظہار کرتی تھیں۔ آج پھر ویسی ہی صورتحال ہے، ایک طرف پیپلز پارٹی ہے جو اس وقت اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے خلاف موقف رکھتی ہے تو دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ن، جے یو آئی ف اور کچھ دیگر جماعتیں ہیں جو اسمبلیوں سے باہر نکل کر احتجاج کرنے اور حکومت گرانے کی بات کرتی ہیں۔
پیپلز پارٹی کا موقف پہلے روز سے بالکل واضح ہے کہ وہ ایسے کسی عمل میں شریک نہیں ہو گی جس سے جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی وجوہات پیدا ہوں، بلکہ وہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے عمران خان کی فسطائیت کا نہ صرف مقابلہ کرے گی بلکہ حکومت کو گرانے کا ہر طریقہ استعمال کرے گی۔ مگر پیپلز پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے استعفوں کی آپشن کو مکمل طور پہ رد کر دیا ہے، استعفے ضرور ہونے چاہئیں لیکن آخری آپشن کے طور پر۔
پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ہماری قیادت پر پی ڈی ایم اتحاد کو توڑنے کی سازش کا الزام لگانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس حکومت مخالف پلیٹ فارم کی بنیاد ڈالنے میں اہم ترین کردار بھی پیپلزپارٹی نے اد کیا، یاد ریے کہ پی ڈی ایم جماعتیں ضمنی انتخابات لڑنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھیں مگر پی پی پی کی قیادت نے دلائل کے ساتھ انہیں ضمنی الیکن میں حصہ لینے پہ آمادہ کیا جس کا نتیجہ عمران خان حکومت کی ہر صوبے میں ذلت آمیز شکست کی صورت میں نکلا، اگر تاریخ میں پہلی بار ایک برسر اقتدار حکومت دھاندلی کرتے ہوئے بے نقاب ہوئی تو اس کی وجہ بھی پیپلز پارٹی کی شاندار سیاسی حکمت عملی ہے، اگر ڈسکہ میں عمران خان رسوا یوا تو اسی حکمت عملی کے تحت ہوا، قومی اسمبلی میں حکومت کو اکثریت کے باوجود سینیٹ کی سیٹ پر گیلانی کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اسی حکمت عملی کے تحت ہوئی، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اگر گیلانی کے جائز ووٹوں کو ناجائز قرار دے کر حکومت رسوا ہوئی ہے تو وہ بھی پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ لہذا پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ اگر کسی کو گمان ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی جماعت مزاحمتی سیاست بھول چکی ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button