پیپلزپارٹی کے PDM سے نکلنے یا نکالے جانے کا کتنا امکان ہے؟

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے قائدِ حزبِ اختلاف بننے پر دونوں جماعتوں کی جانب سے مخالفانہ بیانات کا تبادلہ جاری ہے تاہم نہ تو ابھی تک پیپلز پارٹی نے پی دی ایم سے نکلنے کا عندیہ دیا ہے اور نہ ہی نواز لیگ نے پیپلز پارٹی کو اپوزیشن اتحاد سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسا کرنا دونوں ہی جماعتوں کو سوٹ نہیں کرتا۔ اگر پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے نکلے تو اسے بڑا سیاسی نقصان ہو گا اور اگر پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے نکالا جائے تو اپوزیشن اتحاد کا بڑا سیاسی نقصان ہو گا۔ لہذا دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد اور کتنا عرصہ برقرار رہتا ہے۔

گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بنائے جانے پر سب سے سخت ردعمل مریم نواز نے دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایک چھوٹے عہدے کے لیے پی ڈی ایم اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ گیلانی کا انتخاب ایک مذاق سے کم اس لئے نہیں کہ ان کو ووٹ دینے والے باپ کے چار اراکین اسمبلی نے اس سے پہلے سینٹ چیئرمین کے الیکشن میں صادق سنجرانی کے حق میں ووٹ ڈالے۔ ان کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جو باتیں عمران خان کو کرنا چاہیے تھیں وہ مریم نواز نے کیں۔ بلاول نے کہا کہ جس طرح قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ کا قائد حزب اختلاف چنا گیا اسی طرح سینیٹ میں سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کا قائد حزب اختلاف چنا گیا۔
تاکم مریم نواز کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر تقرری سلیکشن ہے اور ایک زرداری سب پر بھاری والی بات اب شرمندگی بن چکی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف کو بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے ‘باپ’ کے کہنے پر ووٹ دیا۔
واضح رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے نام کے ابتدائی حروف کے استعمال سے اس کو ‘باپ’ بھی کہا جاتا ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ ایک طرف لوگ آئین و قانون کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں تو دوسری طرف لوگ چھوٹے سے فائدے کے لیے بیانیے کو روند رہے ہیں جس سے جمہوری جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما دعویٰ کر رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کے اجلاس میں مسلم لیگ کے امیدوار کو سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔ جب کہ پیپلز پارٹی کے رہنما ایسے کسی بھی اتفاق کی تردید کر رہے ہیں۔ مریم کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو مل جاتا تو انہوں نے کون سی حکومت بنا لینا تھی؟ ان کا کہنا تھا کہ جب باپ کو حکم ہوتا ہے وہ حکومتی نشستوں پر بیٹھے نظر آتے ہیں اور جب باپ کا حکم آتا ہے تو وہی لوگ اپوزیشن میں چلے جاتے ہیں۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ نے تابعداری کرنی ہے تو پھر آپ کو عمران خان کی پیروی کرنی چاہیے جو پوری طرح عیاں ہو چکے ہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی سیاست ہو۔

دوسری جانب بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ سلیکٹڈ کا لفظ اُنہوں نے متعارف کروایا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ لفظ کس پر استعمال ہونا ہے اور کس پر نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ انکو اکثریت حاصل ہونے کی وجہ سے ملا ہے اور میں مریم نواز کی تنقید کے جواب میں تنقید نہیں کروں گا۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بی بی شہید قتل کیس میں نواز لیگ کے امیدوار اعظم نذیر تارڑ ملزمان کے وکیل تھے لہٰذا وہ کیسے سینیٹ میں ان کو قائد حزب اختلاف بنانے کی حمایت کرتے؟
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔ وہ چاہیں گے کہ پی ڈی ایم کا اتحاد برقرار رہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ پی ڈی ایم ختم ہو چکی ہے۔ عوام ان کی دھینگا مشتی دیکھ رہے ہیں۔ فواد نے کہا کہ اپوزیشن اگر وزیرِ اعظم کی بات مانتی تو آج ان کا مذاق نہ بنتا اور اپوزیشن اتحاد یوں ختم نہ ہوتا۔

تاہم ایک دوسرے پر حرف زنی کے باوجود ابھی تک نہ تو پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم چھوڑنے کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی پی ڈی ایم نے اپنے فیصلوں سے ’بغاوت‘ کرنے والی پارٹیوں کے خلاف کوئی اقدام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کا اپوزیشن لیڈر بنوانے میں عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔ اس طرح اے این پی بھی پی ڈی ایم کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مسلم لیگ (ن) سے ہوگا۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سب کے باوجود اس بات کا امکان نہیں ہے کہ پی ڈی ایم کی موجودہ ساخت میں کوئی فوری تبدیلی رونما ہوگی۔ انکا اصرار ہے کہ بند کمرے کے اجلاس میں ضرور گلے شکوے ہوں گے لیکن اس کے بعد حالات معمول کے مطابق ہوجائیں گے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفوں کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کرنے کے بعد اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں میں جو دوری پیدا ہوئی ہے، اسے کم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اسکے علاوہ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کی خواہش میں پہ ڈی ایم اتحاد کو کمزور کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جو ان کے سینیٹر بننے کا موجب بنا تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن حاصل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کے یک طرفہ اقدام سے اپوزیشن جماعتوں میں پیدا ہونے والی بداعتمادی، حکومت کے لئے اچھی خبر ہے۔ تاہم اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ عمران خان اپوزیشن کے حوالے سے اپنا شدت پسندانہ سیاسی رویہ ترک کریں۔ عمران خان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم قائد ایوان اور سربراہ حکومت ہونے کے باوجود ’اپوزیشن لیڈر‘ کا کردار ادا کرنے پر مصر نظر آتے ہیں اور ان کے بیانات اگر بدستور کسی انتخابی جلسے کی گونج ثابت ہوتے رہیں گے تو حکومت اقتدار کی باقی ماندہ مدت میں بھی کوئی ایسا ٹھوس منصوبہ مکمل نہیں کر پائے گی جو آئندہ انتخابات میں عوام کو اس کی طرف متوجہ کرسکے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان کی تحریک انصاف حکومت نے گزشتہ اڑھائی برس میں اپنی کارکردگی کا جو تاثر قائم کیا ہے، وہ کسی دوررس منصوبہ بندی اور اعتماد سازی کے ماحول کے لئے سود مند نہیں ہے۔ نہ ہی حکومت نے ملکی معیشت کی بحالی کا کوئی ٹھوس منصوبہ شروع کیا ہے۔ ان حالات میں اگر حکومت روز بروز کمزور پڑتی اپوزیشن کی ناکامیوں کو اپنا سیاسی کارنامہ سمجھتے ہوئے پرانی روش پر قائم رہے گی تو وہ خود اپنے لئے مشکلات پیدا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button