فیمنزم کے نام پر مرد حضرات سے نفرت کے خلاف ہوں

اداکار احمد علی بٹ نے کہا ہے کہ وہ خود کو کسی حد تک فیمنسٹ سمجھتے ہیں جب کہ وہ فیمنزم کی کچھ باتوں سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔
احمد علی بٹ نے بتایا کہ انہوں نے شادی سے قبل 9 سال تک اہلیہ سے تعلقات رکھے تھے، اس وقت ان کی اہلیہ لندن میں مقیم تھیں اور وہ ان سے کئی گھنٹوں تک اسکائپ پر بات کرتے تھے۔ احمد علی بٹ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گزشتہ کچھ عرصے میں اپنی صحت اچھی کرنے کےلیے اپنا وزن 25 کلو تک کم کردیا۔ احمد علی بٹ کا کہنا تھا کہ جب زیادہ وزن تھا تب بھی لوگ سوشل میڈیا پر نامناسب کمنٹس کرتے تھے اور جب انہوں نے وزن کم کیا تب بھی لوگوں نے انہیں ٹرول کیا اور پوچھنے لگے کہ کیسے وزن کم کیا؟۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس کورونا کی وجہ سے نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث وہ گھر تک محدود تھے، اسی وجہ سے انہوں نے وزن کم کرنے کا سوچا۔ احمد علی بٹ نے بتایا کہ پنجاب نہیں جاؤں گی کے گانے ’ٹونٹ فور سیون لک ہلنا‘ گانے پر ان کے ڈانس کو پسند کیا گیا اور لوگ حیران رہ گئے کہ انہوں نے کیسے عروہ حسین سے بہتر ڈانس کیا۔ احمد علی بٹ نے بتایا کہ وہ خود کو 60 فیصد تک فیمنسٹ سمجھتے ہیں، کیوں کہ ان کی پرورش بہادر خواتین نے کی اور ان کی شادی بھی بہادر خاتون سے ہوئی۔ اداکار نے اسی معاملے پر مزید کہا کہ وہ 40 فیصد فیمنسٹ اس لیے نہیں ہیں، کیوں کہ وہ 40 فیصد فیمنزم میں آنے والی غلط چیزوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل فیمنزم کے نام پر مرد حضرات سے نفرت کی جو مہم چلی ہوئی ہے، وہ چالیس فیصد اس مہم کے خلاف ہیں۔ احمد علی بٹ کا کہنا تھا کہ فیمنزم کے نام پر چلنے والی مہم کو ’اپنی روٹی خود پکاوؐ‘ کے نعروں کے تحت کہیں اور لے جایا جا رہا ہے اور اس سے مرد حضرات کے خلاف نفرت کا پیغام دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button