پیپلز پارٹی نے بھی گلگت انتخابات کے نتائج مسترد کر دئیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات ’چوری‘ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ’میرا الیکشن چوری کرلیا گیا، میں جلد گلگت بلتستان کے عوام کے احتجاج میں ان کے ساتھ شریک ہوں گا‘ جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے گلگت بلتستان الیکشن میں نتائج کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔
گلگت میں آر او آفس کے سامنے انتخابی نتائج کے خلاف پیپلز پارٹی کے مظاہرین سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، ووٹ کا تحفظ کرنے والوں نے حکومت کا ساتھ دے کر اپوزیشن کو مات دی ، ان کو پتہ تھا پی ٹی آئی گلگت بلتستان میں صفر ہے ، پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے لوگوں پر دباوَ ڈالا گیا، انہیں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوجانے کے پیغامات دیئے گئے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن کو متنازع نہیں ہونے دیں گے، ہم اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں گے، احتجاج جاری رکھیں گے ،ہم پر عوام کی طرف سے دباوَ ہے، سارے دروازے بند نہ کریں، حق نہ ملا تو ہمارا رخ اسلام آباد کی طرف ہو گا، ہمیں سخت پوزیشن لینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مینڈیٹ چوری کر کے عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا، جہاں جہاں دھاندلی ہوئی وہاں وہاں احتجاج ہوگا، جیتی ہوئی نشستیں واپس لینے تک ڈٹے رہیں گے، گلگت بلتستان کو کٹھ پتلیوں کے حوالے نہیں کریں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا گلگت بلتستان کو کٹھ پتلیوں، سلیکٹڈ کے حوالے نہیں کریں گے، ان کوپتا تھا پی ٹی آئی گلگت بلتستان میں زیرو ہے، کٹھ پتلیوں کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ الیکشن جیت جائیں گے، پی ٹی آئی کے پاس تو وزیراعلیٰ کا امیدوار بھی نہیں ہے، ہم اپنی انتخابی مہم اور احتجاج جاری رکھیں گے، انصاف نہ کیا گیا تو احتجاج کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑیں گے، ہم بھی جذباتی فیصلے کرتے ہیں، انتہائی فیصلے پر مجبور نہ کریں، آپ سے چھینی گئی سیٹیں واپس لیں گے۔
خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر انتخابات گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے جس کے اب تک کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح برتری حاصل ہے۔ٖ غیر حتمی نتائج کے مطابق اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) دوسرے نمبر پر ہے اور پی پی پی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) نے بھی پولنگ اور گنتی کے عمل کے دوران بے ضابطگیوں اور مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کے الزمات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو چیزیں 2018 کے عام انتخابات میں دیکھی گئیں وہ ہی سب گلگت انتخابات میں بھی ہوا۔
گزشتہ روز بھی پیپلز پارٹی کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے تھے کہ ریٹرننگ افسران گنتی کا عمل مکمل ہونے کے باوجود نتائج کا اعلان نہیں کررہے اور غذر کے ایک پولنگ اسٹیشن میں رات 11 بجے تک پولنگ جاری رہی اور اس کے بعد پی ٹی آئی کارکنوں نے موقع سے بیلٹ باکس چھینے۔علاوہ ازیں ووٹوں کی گنتی کے وقت اسکردو میں پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کے مابین جھڑپ بھی ہوئی تھی۔
دوسری جانب ترجمان بلال بھٹو زرداری مصطفیٰ نواز کھوکھر نے گزشتہ روز بھی الزام عائد کیا تھا جن حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ ہے وہاں پولنگ کا عمل سست روی کا شکار کیا گیا اور ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔
خیال رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر انتخابات 15نومبر کو ہوئے جس میں 4 خواتین سمیت 330 اُمیدواروں نے حصہ لیا تاہم ایک حلقے میں انتخابات ملتوی ہوگئے ہیں۔ووٹنگ کا عمل بغیر کسی تعطل کے صبح 8 سے شام 5 بجے تک جاری رہا مزید یہ کہ گلگت بلتستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔انتخابات کے موقع پر ایک ہزار 141 پولنگ اسٹیشنز میں سے 297 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔اس مرتبہ کے انتخابات کو اس لیے بھی خاصی اہمیت حاصل تھی کہ اس کے لیے اپوزیشن کی 2 جماعتوں کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور مہم چلائی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button