پیپلز پارٹی کو نون لیگ کے اعظم تارڑ سے کیا مسئلہ ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں اختلاف کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ ن لیگ کی جانب سے پیپلزپارٹی کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے معروف وکیل اعظم نذیر تارڑ کو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سینیٹر منتخب کروانے اور پھر انہیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر کروانے کی کوششوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو شکوہ ہے کہ میاں صاحب نے بینظیر بھٹو کے قتل میں معاون بننے والے دو سینئر پولیس افسران کے وکیل اعظم تارڑ کو پہلے سینیٹر بنوایا اور اب انہیں ایوان بالا مین قائد حزبِ اختلاف بنوانے کی کوشش کررہے ہیں۔
12 مارچ کے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں استعفوں کے معاملے پر اختلافات کے علاوہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے اعظم نذیر تارڑ کو نامزد کرنے پر بھی اختلاف تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے نذیر تارڑ کی نامزدگی پر احتجاج کیا تھا کیوں کہ وہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد ان پولیس افسران کے وکیل تھے جن کے ذمے محترمہ کی سکیورٹی تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریکٹ موومنٹ کے اجلاس سے ایک روز قبل سابق صدر آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو اس اقدام پر تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ آصف زرداری نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سے بھی بات کی اور مسلم لیگ (ن) کے فیصلے پر اپنی مایوسی سے آگاہ کیا تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ سینیٹ انتخابات سے چند روز قبل پی پی کی قیادت کے سامنے جب مسلم لیگ نواز کے پانچ ممکنہ سینٹرز کی لسٹ آئی تو ایک نام پہ انھیں سخت اعتراض تھا۔ آصف علی زرداری نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ وہ فوری نواز شریف اور مریم نواز سے متنازع شخص یعنی اعظم نذیر تارڑ کی نامزدگی واپس لینے کو کہیں اور اسکی جگہ ایسا نام دیں جو غیر متنازع ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز سمییت مسلم لیگ نواز کی قیادت کو پیغام دیا کہ شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کیس میں مسرف کے ایما پر فرانزک ثبوت دھو ڈالنے والے پولیس افسران ایس پی خرم شہزاد اور سابق سی پی او سعود عزیز کی وکالت کرنے والے اعظم نذیر تارڈ کو وہ بطور سینیٹر قبول نہیں کرسکتے، لہذا ان سے ٹکٹ واپس لیا جائے۔
خیال رہے کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں نامزد ملزم پولیس افسران خرم شہزاد ایس پی راول اسلام آباد اور سی پی او اسلام آباد سعود عزیز کی وکالت کی تھی اور پی پی پی کے پاس ایسے ثبوت ہیں کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ نے یہ تعاون اسٹیبلشمنٹ میں مشرف کی ہمدرد لابی کے اشارے پہ فراہم کیا- 2017ء میں جب عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پہ ایس پی ختم شہزاد کو رہا کیا تو مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اسے ایس پی سیپشل برانچ تعینات کردیا۔ اس وقت بھی پی پی پی کی قیادت نے سخت اعتراض کیا تھا۔ لیکن پیلزپارٹی کے اعتراض پر مسلم لیگ نواز نے بلاول بھٹو کو جوابی پیغام دیا کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈوکیٹ کی بطور سینٹر نامزدگی نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر ہوئی ہے لہٰذا اسے واپس لئے جانے کا سوال ہی ییدا نہیں ہوتا اور ویسے بھی وکالت ان کا پیشہ ہے اور انہیں ہر طرح کے لوگوں کی وکالت کرنا ہوتی ہے۔
پھر پنجاب سے تمام سینیٹرز بلامقابلہ منتخب ہونے کے نتیجے میں اعظم نذیر تارڑ بھی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب ہوگئے۔
سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات میں اعظم نذیر تارڑ ان کے وکیل ہیں لہذا انہیں نوازنا میاں صاحب کی مجبوری تھی۔ اس کے علاوہ اعظم نذیر تارڑ سابق وفاقی سیکرٹری کیبنٹ ڈويژن اخلاق احمد تارڑ کے سگے بھتیجے ہیں اور وہ سابق صدر مملکت رفیق تارڑ کے بھی دور پار کے عزیز ہیں اور ان کے آبائی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور سینٹ کی ٹکٹ کے لیے ان کے سفارشی بھی رفیق تارڑ ہی بنے۔ زرائع کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے مسلم لیگ نواز نے آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے اور ان پہ بہیمانہ تشدد کرنے کے الزام میں مقدمے میں نامزد سابق آئی جی سندھ رانا مقبول کو سینٹر منتخب کرایا تھا جس پہ بھی پی پی پی نے سخت اظہار ناراضگی کیا تھا اور اب یہ بھی شبہہ ہے کہ رانا مقبول 12 مارچ کو ہونے والے سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے پر راضی نہیں تھے اور ممکنہ طور پر رانا مقبول ان سات سینیٹر میں شامل ہیں جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگا کر بیلٹ پیپر متنازعہ بنایا جس کے نتیجے میں گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی بھی تصدیق کرچکے ہیں کہ ن لیگ نے پی ڈی ایم جماعتوں کے درمیان ہوئے سمجھوتے کے تحت اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اگر یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ بن جاتے ہیں تو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ ن کو ملے گا کیونکہ اپوزیشن بینچز پر سب سے بڑی پارٹی ہونے کی حیثیت سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے۔ خیال رہے کہ اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 21 سینیٹرز ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین سینیٹ کی تعداد 17 ہے، اس سے قبل راجا ظفر الحق اپوزیشن لیڈر تھے لیکن اس مرتبہ انہیں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے لئے پارٹی ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب سینیٹ انتخابات میں پی ڈی ایم کے امیدوار نامزد کرنے والی کمیٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ دینا متفقہ فیصلہ تھا اور اس کا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ایک ایسا شخص کہ جسے پارلیمانی تجربہ ہو اسے اپوزیشن لیڈر بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں اپوزیشن کو متحد رکھنا مشکل کام ہے اور اس کے لیے سیاسی اور پارلیمانی تجربہ درکار ہے جو اعظم نذیر تارڑ کے پاس نہیں ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو اعظم نذیر تارڑ کی شخصیت پر اعتراضات ہیں اور اب ممکنہ طور پر ن لیگ ان کے نام پر اصرار نہیں کرے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی عددی برتری کی بنیاد پر اپنی جماعت سے قائد حزبِ اختلاف لانے کی کوشش کرے گی۔
