کیا پیپلز پارٹی کا عوامی سیاست سے یقین اٹھ چکا؟

پچھلے کچھ عرصہ سے یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ قائد عوام کہلوانے والے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت اب عوامی سیاست سے زیادہ پاور پالیٹیکس یا پس پردہ سیاست پر فوکس کیے ہوئے ہے جس کی بنیادی وجہ آصف زرداری کا طرز سیاست ہے، لیکن عوامی سیاست کی بجائے پس پردہ سیاست کی پالیسی عوام میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت کو متاثر کر رہی ہے۔ دوسری جانب زرداری کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیاست شطرنج کی بساط اور تاش کے پتوں کی طرح ہے جس میں آگے بڑھنے کے لیے ہر طرح کی چالیں چلنا پڑتی ہیں اور آخری وقت تک اپنے پتے سینے سے لگا کر رکھنا پڑتے ہیں تا آنکہ چال کامیاب ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پچھلے چند ماہ میں جو بھی کامیابیاں حاصل کی گئیں وہ آصف زرداری کی سیاسی چالوں کے باعث ممکن ہوئیں لہذا ان پر صرف پاور پالیٹیکس کرنے کا الزام لگانا انکی سیاسی بصیرت کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ پاور پالیٹیکس بھی صرف وہی سیاستدان کر سکتا ہے جس کے ساتھ عوامی طاقت بھی موجود ہو۔ تاہم پیپلز پارٹی میں ایسے ناقدین بھی موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پاور پالیٹیکس کرنے کا تاثر پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت میں کمی لانے کا باعث بنے گا۔
آصف زرداری کی پس پردہ سیاسی چالوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انکے ایک بڑے ناقد اور سینئر صحافی مظہر عباس کہتے ہیں کہ سینیٹ میں پچھلے چند ہفتوں میں جو کچھ ہوا اس پر وزیر اعظم عمران خان حیران ہیں اور مریم نواز پریشان۔ اگر کوئی شخص مطمئن نظر آیا تو وہ آصف علی زرداری، جن کی سیاست کا اپنا انداز ہے جہاں اصول، نظریہ، بیانیہ یہ سب بے معنی سی باتیں ہیں، اہم بات صرف نتائج ہیں۔ زرداری کامیابی کے لئے ہر سیاسی حربہ استعمال کر سکتے ہیں۔ مخالف کی وکٹ پر کھیلنا انہیں بہت پسند ہے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ویسے تو زرداری سیاست میں پچھلے 35 سال سے ہیں مگر عملاً یہ سیاسی رنگ زیادہ ابھر کر 2008 کے بعد نظر آیا جب انہوں نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔ اب بھی وہ بہت سارے کام پس پردہ رہ کر کرتے ہیں جیسے 2008 کے الیکشن سے پہلے بلوچستان میں سیاسی آپریشن جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے بطن سے بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ معرض وجود میں آئی، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اسی باپ کی اولاد ہیں۔
لیکن اس بار آصف زرداری نے سینیٹ الیکشن میں حکومت کو بھی سرپرائز دیا اور اپوزیشن کو بھی۔ قومی اسمبلی میں حکمران اتحاد کی اکثریت کے باوجود سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہو گئے اور وزیر اعظم کے امیدوار حفیظ شیح ہار گئے۔ مظہر کہتے ہیں کہ اس شکست پر عمران خان کے غصے کا اندازہ انکے خطاب سے ہوا جو انہوں نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد کیا۔ دوسری طرف یہ جانے بغیر کہ آگے کیا ہونے والا ہے، مریم نواز سمیت PDM کی تمام جماعتیں اسے وزیر اعظم پر عدم اعتماد کہہ کر نئے الیکشن کا مطالبہ کرنے لگیں۔ ابھی یہ جشن مکمل نہیں ہوا تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، اپوزیشن کی جانب سے بڑا شور مچا۔ کیمرہ اسکینڈل بھی سامنے آیا اور گیلانی کے حق میں پڑنے والے سات مسترد ووٹ بھی۔ یہاں بھی اپوزیشن یک زبان نظر آئی۔ مگر کھیل پلٹ گیا۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ زرداری صاحب نے بہرحال گیلانی کو محض سینیٹر تو نہیں بنوانا تھا لہٰذا انکو قائد حزب اختلاف بنوا دیا اور وہ بھی PDM کی قربانی دے کر۔ اس پر نواز شریف، مریم نواز، مولانا فضل الرحمٰن سب اسی طرح حیران و پریشان تھے جس طرح وزیر اعظم عمران خان۔ اب سچ تو یہ ہے کہ اس ایک عہدے کے لیے دراصل زرداری صاحب نے خود اپنی جماعت کی ساکھ کی قربانی بھی دی مگر یہ سب ان کی سیاست میں معنی نہیں رکھتا۔ تنقید کرنے والے اینکر ز کو آصف زرداری ویسے بھی سیاسی اداکار کا خطاب دے چکے ہیں۔ البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ سارے تجزیہ کار اور اینکر جو گیلانی صاحب کے سینیٹر بننے پر ان کو ہدف تنقید بنا رہے تھے وہ ان کے اپوزیشن لیڈر بننے پر اسے زرداری صاحب کی سیاسی مہارت قرار دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان جو گیلانی کے سینٹر بننے پر شدید غصے میں تھے، وہ مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات پر خاصے خوش ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ زرداری صاحب نے کمال مہارت سے 2008 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی مگر وعدہ کے مطابق سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت معزول ججز کو بحال نہیں کیا، جس کی وجہ سے نواز شریف سے تعلقات خراب ہو گئے اور انہوں نے 2009 میں لانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے زرداری صاحب صدر بن گئے، گیلانی وزیر اعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ سب پی پی پی کے۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ مسلم لیگ اور پی پی پی کے درمیان فرینڈلی اپوزیشن کا رشتہ تھا۔ لانگ مارچ، پنجاب میں گورنر راج، اور پھر میاں صاحب کا کالا کوٹ پہن کر اعلیٰ عدلیہ سے گیلانی صاحب کو نااہل قرار دلوانا یہ سب صاحب کو یاد تھا۔ انہیں یہ بھی یاد رہا کہ کس طرح 2015 میں میاں صاحب کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ان کے قریبی دوستوں، ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کو گرفتار کیا گیا انہوں نے غصے میں یہاں تک کہہ دیا، میاں صاحب نے پہلو میں چھرا گھونپا ہے۔ اب میاں صاحب وضاحتیں کرتے رہے کہ اس ایکشن میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں، کوئی ماننے والا نہیں۔
مظہر عباس کے مطابق زرداری صاحب اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان پر بڑی مشکل میں ا گے تھے لہٰذا وہ دن اور آج کا دن، بس اینٹ سے اینٹ لگانے میں لگے ہوئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ میاں صاحب کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ سے پیچھے ہٹ گئے اور یہ اعلان کر دیا کہ اگر آپ نے حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تو ملک واپس آئیں، ویسے انکی بات ایسی غلط بھی نہیں۔ مظہر کا کہنا یے کہ اپنی طرز سیاست میں زرداری ’پولو‘ کے اچھے کھلاڑی تو بن گئے، سیاسی شطرنج بازی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں مگر جس پارٹی کو بدترین آمر بھی ختم نہ کر سکا وہ آج عوامی سیاست کی بجائے پاور پالیٹیکس میں گم ہو کر کہاں کھڑی ہے؟ چاروں صوبوں کی زنجیر اب سندھ تک محدود ہو گئی ہے۔ اگر یہ طرز سیاست کامیاب ہے تو آصف زرداری واقعی ایک کامیاب سیاست دان ہیں۔
