پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے محروم ہونے والے عبدالقادر کو بی اے پی کا ٹکٹ مل گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پارٹی ٹکٹ واپس لینے کے بعد بطور آزاد امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے بزنس ٹائیکون محمد عبدالقادر سینیٹ انتخاب کےلیے بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
اس بات کا اعلان وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان علیانی کی جانب سے کیا گیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جام کمال خان نے مکسڈ مارشل آرٹس کھلاڑی احمد مجتبیٰ کو بھی مبارک باد دی، جنہوں نے حال ہی میں سنگاپور میں ہونے والے مقابلے میں بھارتی کھلاڑی کو شکست دی تھی، احمد کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔ جام کمال خان نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا کہ عبدالقادر نے بی اے پی کو فنڈز دیے ہیں اور کہا کہ اس سے قبل وہ سینیٹ انتخاب کےلیے پی ٹی آئی اور بی اے پی کے مشترکہ امیدوار تھے لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے ان سے ٹکٹ واپس لینے کے بعد اب وہ بلوچستان سے بی اے پی کے ٹکٹ پر سینیٹ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقادر کوئٹہ سے تعلق رکھتے ہیں اور 2004 سے وہ بلوچستان سے سینیٹ انتخاب کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کرارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر کےلیے ’پیراشوٹسٹ‘ کا لفظ استعمال نہیں ہونا چاہیے، پیراشوٹسٹ ایک عجیب لفظ ہے جو حال ہی میں پاکستان کی سیاست میں متعارف کرایا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر آپ سینیٹ کی تاریخ دیکھیں تو پھر ہر کوئی پیراشوٹسٹ ہے۔ وزیراعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ بی اے پی نے منظم طریقے سے انٹرویز کے بعد امیدواروں کو ٹکٹ دیے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آج کل پاکستان کی سیاست سینیٹ کے ’ریسلنگ گراؤنڈ‘ پر مرکوز ہے۔ دوسری جانب ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے اسکروٹنی کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر نواز ناصر کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیا۔ ڈاکٹر نواز نے ٹیکنوکریٹ اور علما کےلیے مختص سینیٹ کی نشست کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ ریٹرننگ افسر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ناصر کی ’دوہری شہریت رکھنے‘ کی بنیاد پر یہ کاغذات مسترد کیے گئے۔ تاہم 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔ اس میں ظہور احمد (پی ٹی آئی)، نوابزادہ ارباب عمر، فاروق کاسی اور بینش سکندر (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی کے آغا عمر احمد زئی، محمد عبدالقادر، میر سرفراز احمد بگٹی، دنیش کمار، شائینہ خان اور ستارہ ایاز، (پی کے میپ) کے سینیٹر محمد عثمان اور (جے یو آئی ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، کامران مرتضیٰ، آسیہ ناصر اور حمن داس شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button