پی ٹی آئی لیول پلیئنگ فیلڈ کیس،آئی جی،چیف سیکرٹری پنجاب کونوٹس

سپریم کورٹ میں لیول پلیئنگ فیلڈ سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواست پر براہ راست سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی تین رکنی بینچ کا حصہ تھے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم۔سپریم کورٹ نے لیول پلیئنگ فیلڈ کیس میں آئی جی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سماعت 8 جنوری بروز پیر تک ملتوی کردی گئی۔
پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ اور شعیب شاہین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سردار لطیف کھوسہ روسٹرم پر آگئے۔ لطیف کھوسہ کے ساتھ سردار کا نام ہونے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کردیا۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سرداری نظام ختم ہو چکا ہے۔ یہ سردار نواب عدالت میں نہیں چلے گا۔ آپ کی حکومت نے ہی سرداری نظام ختم کرنے کا قانون بنایا۔ اب تو آپ کے بیٹے بھی سردار ہوگئے ہیں۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ اسٹینو نے نام کے ساتھ لکھ دیا آئندہ احتیاط کروں گا۔
لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ صحت مندانہ مقابلے کے لیے ضروری ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن سے رجوع کیا؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کی اب درخواست کیا ہے؟
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ یہ توہین عدالت کی درخواست ہے کوئی نیا کیس نہیں۔ مرکزی کیس 22 دسمبر کو نمٹایا جا چکا۔ آپ نے درخواست میں بہت سارے توہین عدالت کرنے والوں کے نام شامل کر لیے۔ الیکشن کمیشن نے کیا توہین عدالت کی؟ کیا الیکشن کمیشن نے آپ کے بارے کوئی فیصلہ دیا یا صوبائی الیکشن کمیشن کو احکامات دیے؟
