چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی سے استعفوں کی دھمکی دے دی

 

 

 

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی سے استعفوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ شاید کچھ دن بعد ہم اس اسمبلی کا حصہ نہ رہیں،آپ کو اپنے سٹائل کی جمہوریت مبارک، آپ نہیں چاہتے ہم اس سسٹم کا حصہ رہیں، لہٰذا ہم کچھ دنوں میں فیصلہ کریں گے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ اگر آپ کہتے ہیں ہم اس کونے میں نا رہیں تو ہم چلے جائیں گے، اس جمہوریت کو اگر بچانا ہے تو جو باتیں کہی ان پر غور کریں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے اپنے سپورٹرز اور ووٹرز کو کہا کوئی الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال نہ جائے، ہم نے کہا سپریم کورٹ آرڈر کا احترام کیا جائے اور کوئی ویڈیو نہ بنائے،کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے عمران خان کا علاج صحيح نہ ہو۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کوئی لوگ ہیں جو اس عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، وہ کون ہیں جو عمران خان کو غلط ہسپتال لےگئے،وہ کون تھے جو ایک گھنٹے کے اندر اندر عمران خان کو واپس لےگئے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو ہسپتال شفٹ کرنا اور وہاں رکھنا سپریم کورٹ فیصلے کے تحت لازم تھا،جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بہت بڑی بدقسمتی ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ بالکل واضح تھا،کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ مسائل کا حل نکلے۔

عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، حکومت نے دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کردی

انہوں نے کہاکہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے میں ابہام تھا تو نظرثانی ہوسکتی تھی، چاہتے ہیں سیاسی مسائل کا سیاسی حل ہو،اس کی توقع نہیں تھی کہ کسی اور ہسپتال میں منتقل کیا جائے گا۔

 

Back to top button