چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانا ممکن کیوں نہیں؟

قاف لیگ کے پرویزالٰہی گروپ کی جانب سے اپنی جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کو بطور صدر برطرف کرنے کے دعوے کا بنیادی مقصد ان دس اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ ہونے سے بچانا ہے جنہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں پارٹی صدر کی ہدایت کے بر عکس حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویزالٰہی کے وزیراعلیٰ پنجاب بنتے ہی یہ واردات ڈالنے کا بنیادی مقصد چوہدری شجاعت کا راستہ روکنا تھا تا کہ وہ بطور پارٹی صدر الیکشن کمیشن کو اپنے 10 اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے اہل نہ رہیں۔ پرویز الٰہی کو خوف تھا کہ اگر شجاعت حسین نے ریفرنس دائر کر دیا تو الیکشن کمیشن کے پاس اس ان اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا ٹھوس جواز موجود ہوگا چونکہ حال ہی میں جب عمران نے بطور پارٹی صدر جب حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے والے اپنے 25 اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا تو انہیں فوری طور پر ڈی سیٹ کر دیا گیا تھا اور ان کے ووٹ بھی شمار نہیں کیے گئے تھے۔
قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کو صدارت سے ہٹانا ممکن نہیں اور پرویز الٰہی گروپ کی تمام کارروائی غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین جب چاہیں منحرف اراکین اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن کو خط لکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی جماعت کے منتخب صدر ہیں اور ایسا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 جولائی کو مسلم لیگ قاف کی نام نہاد سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ پارٹی صدر شجاعت حسین اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کو پارٹی کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ تاہم طارق بشیر چیمہ نے اس فیصلے کو مذاق قرار دیتے ہوئے سختی سے رد کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پارٹی صدر یا جنرل سیکریٹری کے علاوہ کسی اور شخص کو پارٹی کا کوئی اجلاس بلانے کا ختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاف لیگ کی کبھی کوئی سنٹرل ورکنگ کمیٹی تھی ہی نہیں اور چوہدری شجاعت کو ہٹانے کا اعلان کرنے والا کامل علی آغا نامی آدمی پنجاب کی تنظیم کا ایک عہدیدار ہے جس کے پاس مرکزی صدر کو ہٹانے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چوہدری شجاعت نے چند روز قبل بطور پارٹی سربراہ مسلم لیگ (ق) کے اراکین پنجاب اسمبلی کو وزیراعلیٰ کے انتخاب میں اپنے کزن چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ نہ دینے کے لیے خط لکھا تھا۔ بقول کامل علی آغا پرویز الٰہی کے ایماء پر بلائی گئی قاف لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اپنی خراب صحت کے باعث پارٹی کے لیے دانش مندانہ فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور طارق بشیر چیمہ پارٹی کے خلاف سازش کر رہے ہیں، لہذا دونوں کو ان کے پارٹیوں سے سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت مسلم لیگ (ق) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 10 روز کے اندر پارٹی عہدوں کے لیے نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔ اجلاس کے دوران 5 رکنی الیکشن کمیشن تشکیل دیا گیا اور پارٹی لائرز ونگ کے قائم مقام صدر جہانگیر اے جھوجا کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔
سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جہانگیر اے جھوجا انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد تک پارٹی کے تنظیمی اور انتظامی امور کی بھی نگرانی کریں گے۔ حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے لیے شجاعت حسین کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کامل علی آغا نے کہا کہ پارٹی کو نقصان پہنچانے کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خط کے بعد کیا چوہدری شجاعت کو پارٹی صدر اور طارق چیمہ کو سیکریٹری جنرل رکھنے کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟
دوسری جانب طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی گروپ نے جو کارروائی کی ہے وہ مکمل غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے اور چوہدری شجاعت بدستور اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چوہدری شجاعت کو فروری 2021 میں منعقد ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات میں چار سال کی مدت کے لیے پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا تھا اور انہیں کسی صورت ہٹایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب جب کامل علی آغا سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کچھ ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر شجاعت حسین اپنے بھائی پرویز الٰہی کی بجائے حمزہ کو ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں تو پھر انہیں بھی بغیر شوکازنوٹس دیئے فارغ کیا جاسکتا ہے۔ کامل نے کہا کہ سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست 42 ارکان نے کی تھی جب کہ اس کا کم از کم کورم 40 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل 150 میں سے 83 ارکان نے اجلاس میں شرکت کی اور پارٹی صدر چوہدری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کی برطرفی سمیت تمام قراردادیں منظور کیں۔ کامل علی آغا نے کہا کہ ہم لوگوں نے پہلے سیکریٹری جنرل طارق بشیر چیمہ سے پارٹی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کے انکار پر پارٹی کا سینئر رکن ہونے کے ناطے مجھے اجلاس بلانے کو کہا گیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کامل علی آغا پارٹی کے پنجاب چیپٹر کے جنرل سیکریٹری ہیں، اس لیے وہ مرکزی پارٹی صدر کے خلاف کوئی فیصلہ لینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت حسین بدستور اپنے عہدے پر برقرار ہیں اور پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جلد ایکشن لیں گے۔ یاد رہے کہ اس وقت ملکی سیاست میں شجاعت کا خاندان حکومتی اتحادیوں کی حمایت کر رہا ہے جبکہ پرویز الٰہی تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہو چکے ہیں اور قاف لیگ کی 10 سیٹوں کے ساتھ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات کے چوہدری خاندان میں پڑنے والی پھوٹ کی وجوہات صرف سیاسی نہیں بلکہ ذاتی بھی ہیں کیونکہ چوہدری خاندان میں بہت قریبی رشہ داری ہے، یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی بہن چوہدری شجاعت کی اہلیہ ہیں اور شجاعت حسین کی ہمشیرہ پرویز الٰہی کی اہلیہ ہیں۔ لیکن خاندان میں اختلافات کا آغاز دو سال پہلے تب ہوا جب 72 سالہ چودھری پرویز الٰہی نے ایک 28 سالہ خاتون کے ساتھ خفیہ شادی رچا لی جو طلاق یافتہ تھیں اور دو بچوں کی والدہ ہیں۔
