چیف جسٹس کے خلاف بولنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا نیا رخ

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کے خلاف پیپلز پارٹی کی ایکا جیالے کی تقریر پر شروع ہونے والی توہین عدالت کی کارروائی تب دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی جب ایف آئی اے نے پیپلز پارٹی کے آٹھ رہنماؤں کو اس کیس میں نوٹس دے کر پیشی کے لئے طلب کر لیا۔
سندھ کے دو صوبائی وزرا سمیت پیپلز پارٹی کے آٹھ ارکان کو ایک وٹس ایپ ویڈیو موصول ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جانب سے ذاتی حیثیت میں نوٹس دے کر طلب کیے جانے کو پی پی پی رہنما اور سوشل میڈیا صارفین شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کی جانب سے سندھ میں ترقیاتی کام نہ ہونے پر سندھ حکومت کے خلاف تنقیدی ریمارکس دینے پر پیپلز پارٹی کے ایک رہنما مسعود الرحمٰن عباسی نے 17 جون کو ایک تقریر میں چیف جسٹس آف پاکستان کا رگڑا نکالا تھا جس پر عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے انھیں طلب کرلیا۔ پیشی کے دوران مسعود الرحمٰن عباسی نے کہا کہ کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرتے وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی ان کے گھر میں بڑی پریشانیاں ہیں کیونکہ ان کی دونوں بیویاں آپس میں جھگڑتی رہتی ہیں لہذا ان کو معافی دے دی جائے۔ تاہم انکو معافی نہ ملی اور انکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی گئی۔
ایف آئی اے نے سندھ کے دو صوبائی وزرا ناصر شاہ اور سعید غنی سمیت ارکان اسمبلی نفیسہ شاہ، قادر پٹیل، شاہدہ رحمانی، ناز بلوچ، شہلا رضا اور قادر مندوخیل کو چار اگست کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ انھیں مسعود الرحمٰن عباسی کی عدلیہ مخالف تقریر پر مشتمل ویڈیو وٹس ایپ پر موصول ہوئی ہے اور یہ رہنما ’اس معاملے سے اچھی طرح واقف ہیں‘ اس لیے انھیں تنبیہ کی گئی کہ وہ ایف آئی اے کے کراچی میں واقع سائبر کرائمز رپورٹنگ سینٹر میں ذاتی حیثیت میں حاضر ہوں۔
ایف آئی اے نے پی پی پی رہنماؤں کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی۔ ایف آئی اے نے مسعود الرحمٰن کی مبینہ طور پر ’غیر مہذب‘ گفتگو پر مشتمل ویڈیو کی ڈیجیٹل فرانزک لیب سے تجزیے کی رپورٹ عدالت کو پیش کی تھی کہ دو منٹ 15 سیکنڈ کی یہ ویڈیو مصدقہ اور غیر ایڈیٹڈ ہے، جسے سب سے پہلے فیس بک پر اور بعد میں مختلف لوگوں نے یوٹیوب سمیت دیگر ویب سائٹس پر پوسٹ کیا تھا۔ مذکورہ نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے ایف آئی اے کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر آڑے ہاتھوں لیا۔
پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور ایم این اے شازیہ عطا مری نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں پی ٹی آئی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت پی پی پی سے تعلق رکھنے والے اراکین کو ایف آئی اے کی معرفت ہراساں کررہی ہے۔ ’حزب اختلاف کی جماعتوں اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا ایکٹ (پیکا) استعمال کرنا اب حکومت کی جانب سے ایک رواج بن گیا ہے۔‘
ایک اور صارف رب نواز بلوچ نے لکھا: ’جب میڈیا سے جڑے اینکرز، صحافی یا سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو ایف آئی اے ہراساں کرے یا نوٹسز بھیجے تو تمام اپوزیشن جماعتیں اور ان کی لیڈر شپ ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے مگر پیپلزپارٹی کے درجن بھر اراکین اسمبلی اور وزرا کو ایف ائی اے کے جانب سے بلاوجہ نوٹسز جاری ہوئے لیکن ہر طرف خاموشی ہے، ایسا کیوں؟‘
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایف آئی اے نے متنازع الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) کے تحت لاہور کے دو سینیئر صحافیوں عامر میر اور شفقت عمران کو عدلیہ، سکیورٹی اداروں اور حکومت مخالف بیانات پر حراست میں لیا تھا، جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایف آئی نے جنگ اخبار کے کالم نویس اور صحافی بلال غوری کو بھی اس قانون کے تحت نوٹس جاری کیا تھا، جب کہ کچھ عرصہ قبل سینیئر صحافی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم اور کراچی کے صحافی بلال فاروقی کے خلاف بھی اس قانون کے تحت مقدمات بنائے گئے تھے۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ (سی سی ڈبلیو) کو 30 جولائی 2021 تک الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) کے تحت 22 ہزار 877 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 30 شکایات صحافیوں کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف ایف آئی اے کے نوٹس پر ردعمل دیتے ہوئے پی پی پی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت پیکا قانون کو پی پی پی سمیت اپنی مخالف سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ نفیسہ شاہ نے کہا: ’پی ٹی آئی حکومت نے پہلے انسدادِ بدعنوانی کے ادارے قومی احتساب بیورو (نیب) کو استعمال کیا، ہماری حکومت کے فلاحی کاموں پر سوال اٹھائے گئے کہ غریبوں کی مدد کیوں کررہے ہو؟ جب اس سے بھی پیٹ نہ بھرا تو حکومت اب پی پی پی کے خلاف پیکا قانون استعمال کر رہی ہے۔ جن رہنماؤں کو نوٹس دیے ہیں وہ پارٹی کی آواز ہیں، انھیں دبانے کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا: ’حیرت ہے کہ ایک ویڈیو وٹس ایپ پر موصول ہونے پر نوٹس دیا گیا۔ اس طرح تو آدھا پاکستان مجرم ہے۔ ہر عوامی رہنما کو وٹس ایپ پر کئی پیغامات ملتے ہیں۔ مجھے روزانہ ہزاروں ٹیکسٹ اور ویڈیو پیغام موصول ہوتے ہیں، لوگ اپنے مسائل بھیجتے ہیں تو کیا یہ جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو وٹس ایپ بند کردیا جائے۔‘
نفیسہ شاہ کے مطابق ویڈیو کے بعد پی پی پی کی پارٹی قیادت نے مسعود الرحمٰن عباسی کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انھیں معطل کردیا ہے۔ ’یہ ویڈیو تو صحافیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور دیگر لوگوں کو بھی موصول ہوئی ہوگی، تو کیا سب کو نوٹس جاری کیے جائیں گے؟‘ان کا مزید کہنا تھا: ’پیکا قانون اظہار کی آزادی کو صلب کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، جو ناقابل برداشت ہے۔‘
