ڈونلڈلونےعمران کا سائفر بیانیہ پنکچر کیسے کیا؟

امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گرائے جانے کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اس ایک سازشی تھیوری قرار دے دیا ہے۔ ڈونلڈ لو کی جانب سے عمران خان کو جھوٹا ثابت کرنے کے بعد پی ٹی آئی کے امریکی سائفر بارے سازشی بیانیے کی ہوا نکل گئی ہے۔ تاہم امریکی کانگریس کمیٹی برائے خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی میں ہونے والی سماعت کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈونلڈ لو کی سماعت پاکستان کے سیاسی اور سفارتی منظرنامے پر اثر انداز ہو گی اور اس سماعت سے پاک امریکہ تعلقات کس حد تک متاثر ہونگے؟
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےساؤتھ ایشین سٹریٹجک سٹیبلیٹی انسٹیٹیوٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماریہ سلطان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ لو کی امریکی ایوان نمائندگان کمیٹی میں سماعت سے ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی نے سائفر سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ جب کسی ریاست کا نمائندہ اپنی ریاست کو بریفنگ دے گا تو وہ جھوٹ تو نہیں بولے گا۔ اور ڈونلڈ لو کے اس بیان کا اثر ممکنہ طور پر بانی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف زیر التوا سائفر مقدمے پر پڑ سکتا ہے۔ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ سائفر میں ایک طرف پاکستانی سفیر اسد مجید تھے جنہوں نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور دوسری طرف ڈونلڈ لو تھے۔ جب ڈونلڈ لو نے انکار کر دیا تو پی ٹی آئی بیانیے کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے۔
کیا اس مقدمے سے پاک امریکا تعلقات متاثر ہوئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ اس مقدمے کے ساتھ لوگوں کے جذبات جڑ چکے ہیں لیکن دنیا میں بڑی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاملات کو اپنے داخلی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق پی ٹی آئی ڈونلڈ لو کی گفتگو پر مشتمل سائفر کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتی رہی لیکن قومی سلامتی کو لاحق کسی خطرے کی سنگینی کسی ایک ذریعے پر انحصار کرتے ہوئے نہیں بلکہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر بتائی جاتی ہے۔ اس میں آپ کی ملکی انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل معلومات، سفارتی ذرائع اور دیگر مختلف جگہوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر تھریٹ پرسیپشن بنایا جاتا ہے لیکن پی ٹی آئی نے ایک سائفر کی بنیاد پر تھریٹ پرسیپشن بنانے کی کوشش کی، جبکہ معلومات کے دوسرے ذرائع اس کی توثیق نہیں کر پارہے۔ اس لیے کل ڈونلڈلو سماعت سے پی ٹی آئی کا بیانیہ کمزور ہوا ہے۔
دوسری جانب ماہر امور قومتی سلامتی سید محمد علی کا کہنا ہے کہ اب اس مقدمے کے چاروں پہلوؤں سے تصدیق ہو گئی ہے کہ سازش کا بیانیہ حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک جھوٹ تھا۔سائفر کے لکھنے والے امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید تھے۔ انہوں نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ سائفر میں سازش دھمکی یا حکومت گرانے سے متعلق بات نہیں کی گئی، اس کے بعد آتے ہیں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود جنہوں نے یہ سائفر وزارت خارجہ میں ریسیو کیا، انہوں نے بھی عدالت میں اپنے بیان میں یہی بات کی، پھر اس کے بعد وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے بھی یہی بات کی۔جب یہ 3 افراد ایک بات کر رہے تھے تو صرف ایک ہی شخص پیچھے بچتا تھا جس کا نام تھا ڈونلڈ لو۔اب کانگریس کمیٹی میں پیش ہو کر ڈونلڈ لو نے بھی کسی سازش کے تحت پی ٹی آئی حکومت گرائے جانے سے متعلق اپنے کردار کی نفی کی، تو اب اس بیانیے کی چاروں کڑیاں مل گئی ہیں اور چاروں جانب سے ایک ہی بات کی جا رہی ہے کہ سائفر بیانیہ جھوٹ تھا تو اب یہ حتمی طور پر یہ بات طے ہو گئی ہے کہ سائفر بیانیہ جھوٹ کی بنیاد پر بنایا گیا۔
سید محمد علی کے مطابق کانگریس کمیٹی نے خصوصی طور پر ڈونلڈ لو سے ایک سوال پوچھا کہ کیا آپ کو پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق کوئی ہدایات دی گئی تھیں، جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق سفارتی سطح پر عمران خان کے امریکی سائفر سازش کے بیانیے سے پاک امریکا تعلقات متاثر ہوئے۔ پاکستان دنیا میں ایک اہم ملک سمجھا جاتا ہے اور کل ڈونلڈ لو نے بھی کانگریس کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک اور امریکا کے ساتھ مل کر اس نے کام کیا ہے، لیکن اس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر متمکن وزیراعظم ایک انتہائی غیر ذمے دارانہ بیان دیتا ہے تو دوںوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو کافی دھچکا پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس معاملےکو قومی سلامتی کمیٹی میں بھی لے کر گئی اور اس کمیٹی کو بھی سیاسی کرنے کی کوشش کی، اسی لیے شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جس نے اعلامیہ جاری کیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی تھی۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اس سازشی بیانیے سے جو سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی تھی وہ حاصل نہیں کر پائی۔ تاہم اب ڈونلڈ لو کے بیان کے بعد یہ سازشی بیانیہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو گیا ہے اور اب عوامی مباحثوں کا رخ بھی اس ڈرامے کی بجائےترقیاتی منصوبوں کی طرف مڑ جائے گا۔

Back to top button