ڈیموکریٹس کے کنوینشن میں جو بائیڈن صدارتی امیدوار نامزد

امریکا میں ڈیموکریٹس نے جو بائیڈن کو 2020 کے صدارتی انتخاب کے لیے امیدوار نامزد کر دیا ہے اور واشنگٹن کے سابق فوجی کو ‘جرات مند آدمی’ کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ عزم ظاہر کیا گیا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 4سالہ دور میں پھیلے ‘انتشار’ کو ختم کریں گے۔
چار روزہ ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے دوسرے دن ناظرین نے دیکھا کہ ریپبلیک امیدوار سے موازنہ کرتے ہوئے جو بائیڈن کے کردار اور قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے مکمل طور پر آن لائن ہونے والے ایک بے مثال اور وسیع رول کال ووٹ میں تمام 50 ریاستوں اور سات علاقوں نے اپنے ووٹوں کے اعدادوشمار کا اعلان کیا جس میں انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے بائیڈن کے کردار پر مہر ثبت کردی گئی۔ جو بائیڈن نے لائیو ویڈیو لنک میں کہا کہ ‘میں آپ سب کا تہہ دل سے بہت زیادہ شکر گزار ہوں’۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے پوری دنیا کے برابر اہمیت رکھتے ہیں، انہوں نے ناظرین کو یاد دلاتے ہوئے کہ وہ چار روزہ کنونشن کے آخری روز جمعرات کو باضابطہ طور پر اس منصب کو قبول کرتے ہوئے تقریر کریں گے۔ یہ نامزدگی ایک رسمی کارروائی تھی کیونکہ انہوں نے جون میں پہلے ہی 3ہزار 900 سے زیادہ نمائندوں کی اکثریت حاصل کرلی تھی۔
ڈیموکریٹک نیشنل کنونشن کے دوسرے دن رول کال زیادہ تر ورچوئل آئے جس کا مقصد پارٹی کے امیدوار کا جشن منانا اور ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے بے دخل کرنے کے لیے آزاد امیدواروں اور مایوس ریپبلیکنوں کا سیاسی تحریک میں خیرمقدم کرنا تھا۔ اس کارروائی میں ماضی اور مستقبل کے پارٹی رہنماؤں کی پریزنٹیشنز کا ایک سلسلہ بھی شامل تھا جنہوں نے وائٹ ہاؤس کے موجودہ صدر کے خلاف اپنے دلائل دیے اور رائے دہندگان سے اپیل کی کہ وہ جو بائیڈن کے حق میں ووٹ دیں۔ اس فہرست میں میں 95 سالہ صدر جمی کارٹر شامل تھے جو سن 1977 میں ایک مدت کے لیے صدر رہے اور 1990 کی دہائی کے کمانڈر ان چیف بل کلنٹن بھی تھے جنہوں نے متنبہ کیا تھا کہ ملک کو درپیش بحران سے نمٹنے کے لیے درکار ضروری اہلیت کے بجائے ڈونلڈ وائٹ ہاؤس میں عجیب و غریب اقدامات کررہے ہیں۔
کلنٹن نے کہا کہ اس قسم کے وقت میں اوول آفس کمانڈ سینٹر ہونا چاہیے تھا، اس کے بجائے یہ ایک طوفان کا مرکز ہے اور یہاں صرف انتشار ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک چیز کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتی، ذمہ داری سے پہلو تہی کا ان کا عزم اور دوسروں پر الزام دھرنا، انکار کرنا، مخالفت کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکتا ہے۔
رات کی جذباتی تقریر جِل بائڈن نے کی جنہوں نے اس فرد کی شخصیت کا مکمل طور پر احاطہ کیا جس سے انہوں نے 1977 میں شادی کی تھی۔ پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والے استاد نے ایک ذاتی اور اعلی اقداروں پر مبنی شواہد کی بنیاد پر بتایا کہ 1972 میں ہونے والے کار حادثے میں پہلی بیوی اور بیٹی کی موت کے سانحے کے بعد جو بائیڈن نے خود کو کس طرح سے سنبھالا ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ٹوٹے ہوئے کنبے کو کیسے مکمل کرتے ہیں؟، جس طرح سے آپ محبت اور افہام و تفہیم اور ہمدردی کے علاوہ بہادری اور اٹل ایمان کے ساتھ کسی قوم کو پورا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی عوام ٹرمپ کے تفرقہ بازی کے باوجود اکٹھے ہو رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ اس قوم کا دل اب بھی احسان اور ہمت کے ساتھ دھڑک رہا ہے۔ کنوینشن کی ابتدائی رات کو بھی صدر کو خصوصاً سابق خاتون اول مشیل اوباما کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ اس نوکری کے لیے ٹرمپ میں کردار اور صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ انہوں نے تذبذب کا شکار ووٹرز اور مایوس ریپبلیکنز سے ووٹ کی اپیل کی تھی، اس کے علاوہ کنوینشن میں ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں جو بائیڈن اور متوفی ریپبلکن سینیٹر جان مک کین کے مابین غیر متوقع دوستی کو اجاگر کیا گیا تھا جسے ان کی بیوہ سنڈی میک کین نے بیان کی۔
ریپبلکن سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ کولن پاول نے بھی ریکارڈ شدہ ویڈیو میں ریمارکس دیے جس میں انہوں نے جو بائیڈن کی حمایت کی۔ کنوینشن میں منگل کی رات کو سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں اس میں 16 ایسے نوجوان تھے جو موجودہ اور سابق منتخب ڈیموکریٹس ہیں جنہیں آنے والے قائدین کے طور پر دیکھا جارہا ہے، اس میں اسٹیسی ابرامس بھی شامل ہیں، جو سیاہ فام خاتون ہیں اور 2018 میں جارجیا کے گورنر کے انتخابات میں سخت مقابلے کے بعد انہیں شکست ہوئی تھی۔ اسٹیسی ابرامس نے کہا کہ ہمیں ایک بزدل صدر کا سامنا ہے اور اس کے برعکس جو بائیڈن ایک جرات مند آدمی ہیں جو ہمارے چیلنجز سے چھپنے کے بجائے اس کا مقابلہ کر کے ہماری اخلاقی اقدار کو بحال کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button