ڈی جی نیب کے حکم پر مجھے دفتر میں ننگا کیا گیا

نیب کے سابق چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے خلاف ہراسانی کے الزامات عائد کرنے والی خاتون طیبہ گل نے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں لرزاں خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے حکم پر دفتر میں میرے کپڑے اتارے گئے اور مجھے ننگا کرکے میری ویڈیو بنائی گئی جو بعد ازاں میرے شوہر کو دکھا کر بلیک میل کیا جاتا رہا۔
7 جولائی کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں اپنی روداد بیان کرتے ہوئے طیبہ گل کا کہنا تھا کہ مجھے ہراساں کرنے اور ننگا کرکے ویڈیو بنانے پر جوابدہی کے لیے سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال اور ڈی جی نیب سلیم شہزاد کو پبلک اکائونٹس کمیٹی میں بلایا جائے۔ خیال رہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے طیبہ گل کو طلب کیا تھا کیونکہ انہوں نے سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کیخلاف ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایک درخواست جمع کرائی تھی۔ طیبہ گل کی گفتگو سننے کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو تحریری طور پر سفارش کر دی کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال جیسے کم ذات شخص کو فوری طور پر لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی سے ہٹایا جائے۔
طیبہ گل نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا کہ میرے خلاف جھوٹا ریفرنس بنایا گیا۔ میری مسنگ پرسنز کمیشن میں پیشی کے دوران نیب چیئرمین جاوید اقبال سے ملاقات ہوئی۔ جب میں نے جاوید اقبال کو بار بار فون کرنے سے منع کیا تو وہ ناراض ہوگئے۔ مسنگ پرسن کیس میں میری جانب سے دائر کردہ درخواست پر میرا نمبر درج تھا لہٰذا اس پر کال کرکے وہ مجھے وقتاً فوقتاً بلاتے رہے۔ وہ کہتے تھے آپ کو لازمی آنا ہو گا ورنہ کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔ خاتون نے کہا کہ میں نے جاوید اقبال کی نازیبا گفتگو کی ویڈیو اس لئے بنائی کہ وہ ایک طاقتور عہدیدار تھا اور اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کر رہا تھا لہٰذا میں چاہتی تھی کہ اس شخص کا اصل چہرہ سب کے سامنے آئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسنگ پرسنز کمیشن میں جاوید اقبال کا پرسنل سٹاف افسر راشد وانی اس کا سہولت کار ہے۔
طیبہ گل نے کہا کہ آج تک میری جانب سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی جبکہ کسی عدالت نے بھی آج تک میری بات نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال نے مجھے اور میرے شوہر کو گرفتار کروادیا۔ مجھے مرد اہلکاروں نے گرفتار کیا۔ گاڑی میں میرے ساتھ جو درندگی کی گئی، وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے ٹرانزٹ ریمانڈ کے بغیر لاہور لے جایا گیا۔ مجھے رات کے وقت سلیم شہزاد کے پاس لے جایا گیا تو میرے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ میرے جسم پر نیل پڑے ہوئے تھے۔ اسکے باوجود میری تلاشی لی گئی اور ڈی جی نیب لاہور کے کہنے پر میرے کپڑے تک اتار دیے گئے۔ اس دوران میری ویڈیو بھی بنائی گئی جو بعد میں میرے شوہر کو دکھا کر مجھے بلیک میل کیا جاتا رہا۔
طیبہ گل نے الزام لگایا کہ چیئرمین نیب نے کہا نیب کے دفتر میں ملاقات مشکل ہوتی ہے لہذا مجھے مسنگ پرسنز کمیشن کے دفتر میں آ کر ملا کریں۔ جب میں انکار کرتی تھی تو جاوید اقبال دھمکی دیتے تھے کہ میں ایک منٹ میں تمہاری زندگی تباہ کر سکتا ہوں۔
