کیا شیریں مزاری کی گرفتاری میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا؟

سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی گرفتاری اور رہائی کو تقریباً دو ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک یہ طے نہیں ہو پایا کہ انہیں حکومت کے ایما پر گرفتار کیا گیا تھا یا خفیہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر؟ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے شیریں مزاری کی گرفتاری سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
گرفتاری کے فورا ًبعد شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے اپنی والدہ کے اغوا کا الزام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر عائد کیا تھا لیکن فوجی ترجمان نے اس الزام کو سختی سے رد کر دیا تھا۔سات جولائی کو اس کمیشن کے سامنے پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ہم سب اداروں کی عزت کرتے ہیں اور کسی ادارے پر حملہ نہیں کر رہے، لیکن اداروں اور موجودہ حکومت کے ہینڈلرز سے سوال ہے کہ آخر آپ کیا چاہتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کی عزت کرتے ہیں اور کسی فرد پر بھی حملہ نہیں کر رہے، لیکن اگر کوئی شخص کسی ادارے سے منسلک ہے اور وہ قومی ادارے کا غلط استعمال کر رہا ہے تو جمہوریت میں ہر شہری کا حق ہے کہ وہ سوال کرے، گالی گلوچ نہیں کرے، ہم نے کبھی گالی گلوچ کی حمایت نہیں کی، لیکن اداروں اور افراد سے سوال پوچھنا ہمارا بنیادی جمہوری حق ہے۔
شیریں مزاری نے کہا کہ میری گرفتاری کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیشن نے آج میری بات کو غور سے سنا اور آئندہ اجلاس میں پولیس کے اعلیٰ افسران کو طلب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری غیر قانونی گرفتاری بلکہ اس کو اغوا کہنا چاہیے، اس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی آج پہلی میٹنگ تھی، جس میں کمیشن نے آئی جی سے رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے کمیشن کے سامنے اپنی گرفتاری کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ مجھے گرفتاری کا کوئی وارنٹ نہیں دیا گیا تھا اس لیے یہ اغوا تھا، 14 جولائی کو آئندہ اجلاس میں آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی جونیئر افسر کو بھیجنے کے بجائے سینئر افسر خود پیش ہوں۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ہم نے تحقیقاتی کمیشن سے مکمل طور پر تعاون کیا جبکہ حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ اجلاس میں شریک نہیں ہوا، نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ کمیشن نے بھی اس بات کا نوٹس لیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمیں کمیشن پر مکمل اعتماد ہے کہ پوری طرح سے تحقیقات کی جائیں گی کہ اس معاملے میں کون ملوث تھا، کیوں یہ سب کچھ کیا گیا اور امید ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے غیر قانونی واقعات نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے میں ایک تحریری بیان بھی کمیشن کو دوں گی تاکہ یہ ہائی کورٹ کے ریکارڈ پر آجائے، آج ہمیں کمیشن نے ٹی او آرز فراہم کردیے ہیں جس سے بڑی حد تک ہم مطمئن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اداروں کا کام ہے کہ پاکستان کا دفاع کریں، ان کو دفاع کرنا چاہیے، یہ نہیں کہ وہ شہباز شریف کی امپورٹڈ حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کی تباہی کریں، ہمارا یہ سوال پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے ان اداروں سے، ان ہینڈلرز سے کہ اصل میں آپ کیا چاہتے ہیں پاکستان جو تباہی کے راستے پر جارہا ہے، آپ کا اصل مقصد اور آخری ہدف کیا ہے۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ کیا ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے، کیا ہم نے بھارت کے ساتھ تجارت کرنی ہے، کیا کشمیریوں کی قربانیوں کو بھول جانا ہے، کیا آپ یہ چاہتے ہیں یا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ایک خودمختار، مضبوط، بااختیار، بالادست پاکستان ہو جس راستے پر اس کو عمران خان لے کر جارہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے کہنے پر حکومت کی تبدیلی کروا کر یہ خودمختاری کا راستہ روکا گیا اور تباہی کا راستہ ہموار کیا اور کرپشن کرنے والوں کو بچانے کا راستہ آپ نے اپنایا ہے تو برائے مہربانی ایک بار پھر ازسرنو اس پر سوچئے۔
