فواد چوہدری کا رانا ثناءاللہ پر جھوٹا منشیات کیس بنانے کا اعتراف

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اب یہ اعتراف کرلیا ہے کہ موجودہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کے خلاف کپتان دور حکومت میں منشیات کی سمگلنگ کا جھوٹا کیس دائر کیا گیا تھا۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ یہ کیس اینٹی نارکوٹکس فورس نے درج کیا تھا اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جس اجلاس میں رانا ثناء اللہ خان کی گرفتاری سے پہلے کیس بارے بریفنگ دی گئی، میں نے اس میں واضح طور پر ڈی جی اے این ایف کو بتایا تھا کہ آپکا کیس نہیں بنتا۔ یاد رہے کہ عمران خان دور حکومت میں رانا ثنا اللہ خان کی جانب سے بشریٰ بی بی پر کڑی تنقید کے بعد نون لیگی رہنما کو منشیات سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا جو ابھی تک زیر سماعت ہے اور ثابت نہیں ہو پایا۔
سینئر اینکر پرسن جاوید چوہدری کے پروگرام میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے چوہدری فواد نے کہا کہ میں نے یہ کیس بنانے کی مخالفت کی تھی لیکن میرا مشورہ نہیں مانا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی کی جانب سے قومی اسمبلی میں قسم کھا کر منشیات کیس کو سچا ثابت کرنے کی کوشش بھی غلط تھی اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ چوہدری فواد نے کہا کہ رانا ثناء اللہ خان خود بھی جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کیس کس نے بنوایا تھا۔ ایسا کہتے ہوئے فواد یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ جیسے یہ کیس فوجی اسٹبلشمنٹ کے ایما پر بنایا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ خان کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے فلور پر بھی یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ان کے خلاف جھوٹا کیس وزیراعظم عمران خان کے ایما پر دائر کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے میرے خلاف مقدمے کے لیے ہیروئن کا تھیلا اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے دور میں پہلے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا تھا پھر مقدمات بنائے جاتے تھے لیکن ہم نے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی کسی کے خلاف براہ راست مقدمہ بنایا۔
لیکن انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف انکوائری میں کچھ سامنے آیا تو مقدمہ درج کیا جائےگا اور عدالت کے حکم سے گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ اپنے خلاف ہیروئن سمگلنگ کے مقدمے بارے سوال پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا میرے پاس ثبوت ہیں کہ عمران خان اور شہزاد اکبر نے ہیروئن کا تھیلا اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا، اسلام آباد پولیس نے ان کی بات نہ مانی تو انھوں نے ایف آئی اے کو استعمال کیا، اور پھر اے این ایف کے ذریعے مجھ پر جھوٹا کیس کروادیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہیروئن میری ملکیت ثابت ہو جائے تو مجھے سزا دیں لیکن سچ یہ ہے کہ یہ ہیروئن بنی گالا سے بھیجی گئی تھی تاکہ مجھے پھنسایا جا سکے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا عمران خان تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ ہونے کے بعد سے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور بلیک میلنگ کر رہے ہیں، عمران خان نے اسلام آباد پر مسلح جتھوں کے ساتھ چڑھائی کی، لہذا عمران کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ بنتا ہے اور بننا بھی چاہیے۔
