ڈی جی ISI پر کپتان کی سولو فلائٹ کا انجام کیا ہوگا؟

وہ لوگ جو سلیکٹڈ کہلانے والے وزیراعظم عمران خان کو ان کے کرکٹ کے زمانے سے جانتے ہیں، اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ انہوں نے اکثر سلیکٹرز کی منتخب کردہ ٹیم کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی مرضی کے کھلاڑی میدان میں اتارے۔ ٹیم سلیکشن کے معاملے میں ہمیشہ سولو فلائٹ لینے والے کپتان کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا کہ بحیثیت کپتان فتح اور شکست کے چونکہ وہ تنہا ذمہ دار ہیں اس لیے وہ ٹیم بھی اپنی مرضی کی بنائیں گے۔ اور یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر ایک ڈیڈ لاک کھڑا کر دیا ہے۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان ان سلیکٹرز کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتے ہیں جنہوں نے خود انکی سلیکشن کی تھی؟
معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کیا عمران خان نے 1996ء میں سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ یہی اُصول انہوں نے سیاست میں بھی لاگو کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں انہیں یہ مشورہ دیا گیا کہ سیاست کرکٹ نہیں، یہ موقع سے فائدہ اُٹھانے کا کھیل ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ انہیں یہ بات سمجھ نہیں ائی۔ اسی لیے اس وقت ان کی حکومت کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا اعلان شیخ 6 اکتوبر کو کیا گیا تھا لیکن اس معاملے پر وزیراعظم نے اپنی اتھارٹی دکھانے کا فیصلہ کیا لہذا اب یہ معاملہ لٹکا ہوا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ آیا ندیم احمد انجم ہی نئے ڈی جی آئی ایس آئی ہوں گے یا عمران کسی اور کو یہ عہدہ دیں گے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے آئی ایس آئی سربراہ کی حیثیت سے اپنی دو سالہ میعاد مکمل کرلی تھی۔ آرمی چیف چاہتے تھے کہ فیض کا تبادلہ کور کمانڈر کی حیثیت سے کر دیا جائے۔ نئی تقرریوں اور تبادلے کے حوالے سے آئی ایس پی آر کا جو پریس ریلیز جاری ہوا، اس میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور اور کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا سربراہ دکھایا گیا۔ اگر پریس ریلیز کا اجراء کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا تو یہ بڑی بھاری غلط فہمی تھی لیکن مسئلہ کو جلد حل کرنے کے بجائے وزیراعظم ہاؤس نے تاخیر در تاخیر کر دی جس سے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں ایک طوفان برپا ہے۔
اب کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کے امیدواروں کا انٹرویو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا اور سول ملٹری تعلقات کی نوعیت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں کپتان حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کی غیر مشروط حمایت سے محروم بھی ہو سکتی ہے۔ اپنی مرضی کی سلیکشن پر یقین رکھنے والے وزیر اعظم کا مؤقف ہے کہ آئی ایس آئی کا ڈائریکٹر جنرل لگانا ان کا اختیار ہے۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ ڈی جی آئی ایس آئی کا تعلق ہمیشہ فوج کے ادارے سے ہوتا ہے اس لئے وہ فوجی ڈسپلن کا پابند ہوتا ہے اور چین آف کمانڈ کے اصول کے تحت اس کا اصل باس آرمی چیف ہوتا ہے۔ اسی لئے ڈی جی آئی ایس آئی ہمیشہ وزیراعظم اور آرمی چیف کی باہمی رضامندی سے تعینات ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے میں اگر وزیراعظم نے سولو فلائٹ لینے کی کوشش کی تو اس فلائٹ کا انجام کیا ہوگا کیونکہ کڑوا سچ تو یہی ہے کہ عمران خان کی سلیکشن بھی انہوں نے کی تھی جن کے ساتھ اب کپتان ڈی جی آئی ایس آئی کی سلیکشن پر پنگا ڈالے بیٹھے ہیں۔
