کافر ملک بھارت نے پاکستان سے سعودی عرب کیسے چھینا؟

پاکستان کی سخت مخالفت کے باوجود اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں بطور مبصر کے بھارت کو دعوت، پاکستان کے چین کی طرف جھکاؤ، ایران اور ترکی سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں سرد مہری پیدا ہو چکی ہے جبکہ دوسری طرف عرب ممالک کے معاشی مفادات کی وجہ سے یو اے ای اور سعودیہ کے بھارت سے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے۔
6 اگست کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین سفارتی تعلقات کے آغاز پر جہاں مختلف ممالک کی طرف سے سخت رد عمل آیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے پر دیگر اسلامی ممالک کا ابتدائی رد عمل ان کے لیے کچھ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ مصر اور اردن نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ پیش رفت خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے مابین تعلقات کو متاثر کرے گی جن میں انڈیا بھی شامل ہے۔ اس نئے معاہدے کے ساتھ ہی عالم اسلام میں پولرائزنگ نظر آرہی ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا کے مسلم ممالک واضح طور پر تین کیمپوں میں منقسم ہیں۔ پہلے کیمپ میں کچھ ممالک ایران کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں جس کا اسرائیل کے بارے میں سخت موقف ہے۔ دوسرے کیمپ کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات لیڈ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ایک تیسرا گروپ ترکی، ملائشیا اور پاکستان کا ہے۔ مجموعی طور پر، اس فیصلے کے بعد عالم اسلام کی تقسیم میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا انڈیا پر کیا اثر پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات دونوں کے ساتھ انڈیا کے اچھے تعلقات ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں علاقائی سلامتی کے حوالے سے اسرائیل اور انڈیا کی سوچ ایک جیسی ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ اسی لئے بھارت س کا خیر مقدم کر رہا ہے
متحدہ عرب امارات اور بھارت کے تعلقات کی بہتری سے پاکستان پر پڑنے والے اثرات بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ مل کرپہلے ہی خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔ لیکن اس حقیقیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلامی ممالک پر ہمیشہ پاکستان کا غلبہ رہے گا۔ اسلامی ممالک میں تن تنہا پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ اس وجہ سے، اسلامی ممالک میں اس کا ایک مختلف درجہ ہے۔تاہم اگر آج پاکستان تھوڑا سا الگ تھلگ ہے تو اس کی وجہ پاکستانی حکومت کی پالیسیاں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قبل ازیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پاکستان کے ساتھ سمجھا جاتا تھا، لیکن کچھ عرصے سے انڈیا کے ساتھ ان ممالک کے تعلقات پاکستان کے مقابلے میں بہت بہتر ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر عرب ممالک نے پاکستان کی سخت مخالفت کے باوجود گذشتہ سال اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں انڈیا کو خصوصی مبصر کے طور پر بلایا تھا۔ پانچ دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب اس اجلاس میں انڈیا کو بلایا گیا تھا۔ صرف یہی نہیں، رواں سال ہونے والے او آئی سی کے سالانہ اجلاس میں پاکستان نے انڈیا پر اسلاموفوبیا پھیلانے کا الزام عائد کیا، جسے مسترد کردیا گیا۔ اس مرتبہ مالدیپ انڈیا کی حمایت میں اترا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بالاکوٹ حملے کے بعد بھی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی بھارت کے ساتھ قربت دیکھی گئی۔ اطلاعات کے مطابق انڈیا کے پائلٹوں کو بچانے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا کیونکہ اس حوالے سے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے پاکستان پر بہت دباؤ تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حال ہی میں جب پاکستان نے او آئی سی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بارے میں سوالات اٹھائے تب سعودی عرب نے انھیں واضح طور پر بتایا تھا کہ یہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس کے بعد پاکستانی رویے کے پیش نظر، سعودی عرب نے پاکستان کو دیا گیا ایک ارب ڈالر کا قرض واپس مانگ لیا، جو پاکستان نے 2018 میں لیا تھا۔ یہ ساری پیشرفت بتاتی ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ انڈیا کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی طرح کے معاہدے میں یقیناً انڈیا، اسلامی ممالک کے اس گروہ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ دوسرے خلیجی ممالک، جو اس معاہدے کے حامی ہیں، ان کے بھی انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں گے۔ اس سے انڈیا کو پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ صرف یہی نہیں، جہاں دنیا ملٹی پولاآئزیشن کی جانب گامزن ہے، وہیں انڈیا، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب ایک بڑے گروپ کی صورت میں ابھر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ دنوں میں انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی سازو سامان بنانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ خلیجی ممالک دفاعی سازوسامان کی ایک بڑی منڈی سمجھے جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انڈیا، اسرائیل کی مدد سے جو بھی فوجی سازوسامان بنائے گا، اسے فروخت کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے مابین دوستی بھی مشہور ہے۔ ایسی صورتحال میں زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب بھی متحدہ عرب امارات کی راہ پر گامزن ہوگا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کر لے گا تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق شاید سعودی عرب پوری طرح کھل کر اسرائیل سے تعلقات نہیں بنائے گا کیونکہ مذہبی معاملات کی بات کریں تو مشرق وسطیٰ میں سبھی ممالک سعودی عرب کی جانب دیکھتے ہیں۔ اس وجہ سے اسرائیل کے ساتھ ماضی کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے، سعودی عرب کے لیے کھلے عام یہودیوں کا ساتھ دینا مشکل ہوسکتا ہے اگرچہ سیاسی طور پر سعودی کئی سالوں سے اسرائیل کے ساتھ ہے۔ سعودی عرب نے انڈیا اور اسرائیل کے مابین ایئرلائن شروع کرنے کے لیے انڈیا کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے۔
تاہم بعض دیگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دوست کا دوست، دوست اور دوست کا دشمن، دشمن ہوتاہے۔ ابھی سعودی عرب اور اسرائیل دونوں کا دشمن ایران ہے۔ لہذا اس بات کا کافی امکان ہے کہ مستقبل میں بھی دونوں اکٹھے ہوں گے۔‘
درحقیقت اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی یہی چاہتے ہیں کہ سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ ہو۔ ان کا ماننا ہے کہ جتنے زیادہ ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں گے، وہ فلسطینیوں کو الگ تھلگ کرنے میں زیادہ کامیاب ہوں گے اور اسرئیل کے لیے ایک مثبت ماحول پیدا کرنا اتنا ہی آسان ہوگا۔
