کالعدم تحریک لبیک کنٹونمنٹ الیکشن لڑنے میدان میں آگئی


حکومت کی جانب سے پابندی لگائے جانے کے پانچ ماہ بعد تحریک لبیک پاکستان نے ملک بھر کی 41 میں سے 17 کنٹونمنٹس میں اپنے 84 امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے عام امیدواروں کے انتخاب لیے 12 ستمبر کو ملک بھر میں پولنگ ہوگی۔ لہذا یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پابندی عائد ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت کس طرح مل گئی؟
کل 219 وارڈز کے امیدواروں کی فہرست کا جائزہ لینے کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی ٹی ایل پی نے پنجاب کے 9 کنٹونمنٹس میں سب سے زیادہ 57 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، اس کے بعد سندھ کے 6 کنٹونمنٹس میں 24 اور خیبر پختونخوا کے دو کنٹونمنٹس میں تین امیدوار ہیں۔ لیکن کالعدم لبیک نے بلوچستان کے 3 کنٹونمنٹس کے 9 وارڈوں میں سے کسی میں بھی کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ جہاں تک مقابلہ کرنے والے امیدواروں کی تعداد کا تعلق ہے تو ٹی ایل پی 5 ویں پوزیشن پر ہے کیونکہ حکمراں جماعت تحریک انصاف نے سب سے زیادہ 178 امیدوار میدان میں اتارے ہیں، اس کے بعد مسلم لیگ (ن) ہے جس کے 140 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی 112 اور جماعت اسلامی نے 105 امیدوار میدان کھڑے کیے ہیں۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ٹی ایل پی نے لاہور شہر کی کنٹونمنٹس کے تمام 10 وارڈز میں اپبے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے، یہ وہ شہر ہے جہاں پارٹی کا مرکزی دفتر واقع ہے۔ تحریک لبیک نے والٹن، راولپنڈی، چکلالہ اور واہ چھاؤنیوں کے 9 وارڈز میں 9 امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں، گوجرانوالہ میں ٹی ایل پی کے 6، ٹیکسلا میں 3اور کھاریاں اور سیالکوٹ کنٹونمنٹس میں ایک ایک امیدوار ہے۔ سندھ میں ٹی ایل پی نے کراچی میں واقع 5 کنٹونمنٹس میں 18 اور حیدرآباد کنٹونمنٹس میں 6 امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پارٹی نے فیصل اور ملیر کے کنٹونمنٹس میں چار چار اور کلفٹن اور کورنگی کریک کے کنٹونمنٹس میں تین تین امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں پارٹی صرف تین امیدواروں کے ساتھ دو حویلیاں اور ایک ایبٹ آباد کنتونمنٹس کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔
جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے سوال کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کو کالعدم قرار دے کر اس پر پابندی لگائے جانے کے باوجود اس نے اپنے امیدوار کس قانون کے تحت میدان میں اتار دیے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار صرف سپریم کورٹ کو حاصل ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی پر عائد پابندی انتظامی قدم ہے، یہ دو الگ الگ مراحل ہیں ایک انتظامی اور دوسرا عدالتی ہے، جب تک عدالتی مرحلہ مکمل نہیں ہوتا پارٹی کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ابھی تک پابندی کا کیس عدالت عظمیٰ منتقل نہیں کیا حالانکہ صوبائی کابینہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پارٹی پر پابندی بھی عائد کی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی حکومت اس سلسلے میں جلد ہی عدالت سے رجوع کرے گی۔ تاہم فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ٹی ایل پی کے فنڈنگ کے ذرائع کو تلاش کرنے کے لیے کوئی تحقیقات نہیں کر رہا حالانکہ کمیشن پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کو چیک کرنے کے لیے بہت فعال تھا۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے اور کالعدم تنظیم کے دھرنے ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا تھا کہ حکومت کا کالعدم تحریک لبیک پر لگائی گئی پابندی ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کو حکومت کی جانب سے لگائی پابندی ختم کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے یہ فیصلہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے ایک اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کیا تھا۔ خیال رہے کہ حکومت نے ٹی ایل پی پر تب پابندی لگائی تھی جب کالعدم تنظیم نے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے کے ساتھ ملک بھر میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اگر پاکستان، فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردے تو یورپی یونین کی جانب سے سخت ردِعمل آسکتا ہے اور مغربی ممالک میں موجود پاکستان کے 27 سفیروں کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم ناقدین نے وزیراعظم سے یہ سوال کیا تھا کہ اگر انہوں نے فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل نہیں کرنا تھا تو پھر تحریک لبیک کے ساتھ اس حوالے سے ایک تحریری معاہدہ ہی کیوں کیا گیا؟

Back to top button