9/11 حملوں نے دنیا کا منظر نامہ کیسے تبدیل کیا؟


11 ستمبر 2001 کے روز امریکہ میں دہشت گردی کی ایک ایسی ہولناک کارروائی ہوئی تھی جس نے دنیا کا منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ وہ منگل کا دن تھا جب سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کر کے انھیں نیویارک اور واشنگٹن میں اہم ترین مقامات سے ٹکرانے کے منصوبے پر عمل کیا۔ ان میں سے تین طیارے تو اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے لیکن ایک جہاز ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی امریکہ کے فائٹر طیاروں نے گرا دیا۔ ان حملوں کو نائن الیون حملوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور ان میں تین ہزار 9 سو کے قریب لوگ مارے گئے۔ یہ حملے نہ صرف امریکیوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے 21ویں صدی کے اذیت ناک ترین واقعات میں ایک قرار دیے جاتے ہیں۔ چار امریکی طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ بھی تھے۔
جو طیارے پائی جیکروں نے اغوا کیے تھے ان میں امریکن ایئرلائنز اور یونائیٹڈ ایئرلائنز کے دو بوئنگ 767 اور دو بوئنگ 757 طیارے شامل تھے۔ ان دہشت گرد حملوں کا پہلا ہدف نیویارک کے فنانشل ڈسٹرکٹ میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر تھا جس کے دو ٹاورز کو امریکن ایئرلائنز اور یونائیٹڈ ایئرلائنز کے دو بوئنگ 767 طیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ دنیا ابھی اس جھٹکے سے سنبھل ہی نہیں پائی تھی کہ 18 منٹ بعد دنیا میں کروڑوں افراد نے اپنی ٹی وی سکرینز پر لوگن ہوائی اڈے سے ہی پرواز کرنے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز 175کو جنوبی ٹاور سے ٹکراتے دیکھا۔ ہائی جیک کیے جانے والے تیسرے طیارے نے ریاست ورجینیا کے واشنگٹن ڈیلس ہوائی اڈے سے پرواز کر کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا رخ کیا اور وہاں امریکی محکمۂ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو نشانہ بنایا۔ نووآرک کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے چوتھے طیارے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کا ہدف واشنگٹن میں ہی واقع امریکی پارلیمان کی عمارت یعنی کیپیٹل ہل تھی لیکن وہ راستے میں ریاست پینسلوینیا میں اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب طیارے کے مسافروں نے دیگر حملوں کی خبر سننے کے بعد مزاحمت کی۔ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں کے علاوہ 2,977 افراد مارے گئے جن میں سے اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا۔ ہزاروں لوگ ان حملوں میں زخمی ہوئے اور بعد میں حملے کی وجہ سے دوسری بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ ان میں فائر فائٹر زہریلے ملبے میں کام کرنے کی وجہ سے بیمار ہوئے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی القاعدہ نامی شدت پسند گروہ نے افغانستان میں کی تھی۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اسلامی دنیا کے جھگڑوں کا ذمہ دار قرار دیا۔اسامہ بن لادن کی طرح 15 ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب اور دو کا تعلق متحدہ عرب امارت سے تھا۔ بقیہ دو میں سے ایک کا تعلق مصر جبکہ دوسرے کا لبنان سے تھا۔ نائن الیون حملوں کے ایک ماہ سے کم عرصے میں صدر جارج ڈبلیو بش نے القاعدہ کو ختم کرنے اور اسامہ کو ڈھونڈنے کے لیے عالمی اتحادی افواج کے ہمراہ افغانستان پر پلغار کر دی۔دس برس بعد امریکی فوج 2011 میں بالاخر پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں چھپے ہوئے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے اور قتل کرنے میں کامیاب ہو گئئی۔ نائن الیون حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانامو بے کے جایا گیا جہاں اسکے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہونے کا انتظار ہے۔

Back to top button