کراچی الیکشن میں PTI کے سوا باقی پارٹیز کیسے جیتیں؟

کراچی کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی عبرتناک شکست کے بعد سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصرے جاری ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ الیکشن کی رات پی ٹی آئی کے علاوہ ہر جماعت نے جیت کا دعوی کیا لیکن حکمران جماعت کا حال اتنا برا تھا کہ اسے ایسا کوئی دعوی کرنے کی جرات بھی نہ ہو سکی۔ یہ اور بات کہ اس الیکشن کے اگلے روز پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے اپنی خفت مٹانے کے لیے گونگلوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے یہ الزام لگا دیا کہ انکی جماعت کو الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کی ملی بھگت سے جیتا ہوا الیکشن ہروا دیا۔ تاہم اگر حقیقت دیکھی جائے تو الیکشن والے دن تحریک انصاف کے تمام کیمپ خالی پڑے تھے اور سوشل میڈیا پر خرم شیر زمان کی ایک آڈیو وائرل تھی جس میں وہ اپنے ساتھیوں سے اپیل کر رہے تھے کہ کیمپوں پر پہنچیں اور ووٹ ڈلوایئں۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 149 کی نشست سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کے سینیٹر بننے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی اور ڈسکہ الیکشن میں شکست کے بعد کراچی کا ضمنی الیکشن حکمراں جماعت کی مقبولیت کا ایک ٹیسٹ کیس سمجھا جا رہا تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
چنانچہ سوشل میڈیا صارفین یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ کپتان کی حکمراں جماعت کے علاوہ باقی سب جماعتیں کراچی الیکشن جیت گئی ہیں۔ویسے تو کسی بھی الیکشن کے نتائج آنے کے بعد کسی ایک امیدوار یا سیاسی جماعت کو ہی فتح کا جشن منانا چاہیے مگر صورتحال اس وقت دلچسپ ہونے لگتی ہے جب ایک سے زیادہ امیدواروں کو ایسا لگے کہ وہ جیت رہے ہیں یا جیت چکے ہیں۔
29 اپریل کو کراچی میں این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں بھی ایسا ہی ہوا جب چار امیدواروں نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج میں تاخیر ہونے کے بعد اپنی اپنی فتح کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیا۔
تاہم کراچی ویسٹ ٹو کے ضمنی انتخاب کے غیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل نے 16156 ووٹ حاصل کر کے میدان مار لیا جبکہ مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل 15473 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ کالعدم تحریک لبیک کے نذیر احمد 11125 ووٹ لے کر تیسرے اور پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال 9227 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔ وفاق کی حکمراں جماعت تحریک انصاف کے امجد آفریدی 8922 ووٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے جس سے کراچی میں تحریک انصاف کی موجودہ حالت زار کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔
پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے اس انتخاب میں کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا اور پولنگ ختم ہونے کے بعد اس کے امیدوار امجد آفریدی کسی بھی جگہ نظر نہیں آئے۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ پولنگ کے دوران جب انہوں نے کچھ پولنگ اسٹیشنز کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو علاقے کے ووٹروں نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور گندی گالیاں دیں۔ اگلے روز 30 اپریل کی دوپہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے این اے 249 کے نتائج مسترد کر دیے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ‘الیکشن کمیشن اور پولیس کے ذریعے دھاندلی کی گئی۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ سارا دن پولنگ کے دوران کراچی کے کسی بھی حلقے سے دھاندلی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی لہازا عمومی تاثر یہی ہے کہ خرم شیر زمان نے دھاندلی کا الزام لگا کر دراصل اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی۔
29 اپریل کو این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک جاری رہا لیکن ووٹر ٹرن آؤٹ صرف 21.64 فیصد رہا۔ اگرچہ غیر حتمی غیر سرکاری نتائج مسلم لیگ کی فیور میں نہیں رہے تاہم مریم نواز نے تو پولنگ ختم ہوتے ہی مفتاح اسماعیل کو جیتنے کی باقاعدہ مبارکبار پیش کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کراچی اور خصوصاً این اے 249 کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا اور مفتاح اسماعیل کو منتخب کیا۔‘
بعد ازاں رزلٹ سامنے آنے پر مریم نواز نے کہا کہ ’مسلم لیگ ن سے الیکشن چرایا گیاہے۔ مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ آپ کے ووٹ چوری کرنے والے جلد آپ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔‘
اسی طرح پی ایس پی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے الیکشن کی رات میڈیا سے گفتگو میں دعوی کیا کہ وہ الیکشن جیت چکے ہیں لیکن ٹی وی پر کچھ اور ہی نتیجے چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا میں الیکشن کمیشن سے کہتا ہوں کہ اس بدمعاشی کو ختم کیا جائے۔ ہم اس وقت 4282 ووٹ لے کر سب سے آگے ہیں۔ ہم اس وقت نمبر ون پارٹی ہیں اس لیے ہمیں فاتح ڈیکلیر کیا جائے۔ اسکے کچھ ہی دیر بعد تحریک لبیک کے امیدوار نذیر احمد نے کراچی ضمنی الیکشن میں اپنی فتح کا اعلان کر دیا اور ٹوئٹر پر اس حوالے سے ٹرینڈ بھی چلا دیا۔
سینئر صحافی امداد علی سومرو نے اس ضمنی انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا کہ ’کون جیت رہا ہے کون ہار رہا ہے مگر مریم نواز صاحبہ سے مصطفی کمال تک سب الیکشن جیتنے کے دعوے کر رہے ہیں۔۔۔ این اے 249 کے عوام نے ووٹ دیا ہے کہ سوتر بنا اتنا گنجل۔‘
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نوشہرہ، ڈسکہ اور گوجرانوالہ کے بعد اب ایک مزید ضمنی انتخاب میں عبرتناک شکست کو تحریک انصاف کی بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ این اے 249 کی سیٹ پر پہلے فیصل واوڈا جیتے تھے۔ سینئر اینکر شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ اس الیکشن کے نتیجے سے پی ٹی آئی کو سیکھنا چاہیے۔ وزیراعظم کی پارٹی حکومت میں ہونے کے باوجود اپنا الیکشن ہار جائے تو قصور حکمران کا ہوتا ہے۔ سینئر صحافی خالد قیوم کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں ’پی ٹی آئی کے علاوہ سب جیت گئے۔‘
بعض حلقوں میں اس بات پر بھی حیرت پائی جاتی ہے کہ ایک حکمراں جماعت کی نسبت ایک کالعدم جماعت تحریک لبیک کو زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ یوسف نامی صارف نے لکھا کہ ’ایسا صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے کہ ایک کالعدم جماعت کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت بھی ہو اور وہ۔پابندی لگانے والی حکمراں جماعت سے زیادہ ووٹ بھی حاصل کر لے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے میں پی ٹی آئی کتنا نیچے آ گئی ہے۔‘
کراچی الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اسد علی طور نے لکھا کے ایسا لگتا ہے جیسے یہ الیکشن پی ڈی ایم بمقابلہ پی ڈی ایم ہو کیونکہ حکومت کرنے والی جماعت کہیں دور دور بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو ڈسکہ اور کراچی الیکشن کے نتائج سے اپنی جماعت اور حکومت کی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہو جانا چاہئیے۔
