لیپ ٹاپ کے بغیر PTI کی فارن فنڈنگ دستاویزات کا جائزہ شروع

عمران خان کی تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس دائر کرنے والے پٹیشنر اکبر ایس بابر نے سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کی بینک دستاویزات کی جانچ پڑتال میں لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت نہ ملنے کے باوجود میدان میں رہتے ہوئے دستاویزات کی مینوئل طریقے سے جانچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
چنانچہ تحریک انصاف کی مالی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے اکبر ایس بابر کے نامزد کردہ مالیاتی ماہرین کی لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت مسترد ہونے کے دو روز بعد پارٹی کے بینک اکاوئنٹس اور مالیاتی دستاویزات کی ‘مینوئل’ چھان بین کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی نامزد کردہ اسکروٹنی کمیٹی نے درخواست گزار کی جانب سے نامزد دو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کو پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اسکروٹنی کے لیے لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں اکبر ایس بابر نے کمیٹی کے فیصلے کو فوری طور پر ای سی پی کے سامنے چیلنج کیا تھا تاہم ابھی تک کمیشن اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں لے سکا۔ دوسری جانب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ارسلان وردگ اور محمد صہیب، جنہیں ای سی پی نے درخواست گزار کی جانب سے کاغذات کی جانچ پڑتال کی اجازت دی تھی، پی ٹی آئی کی بینک دستاویزات کے پہلے سیٹ کا دستی جائزہ لے لیا ہے۔ انہیں نہ تو دستاویزات کی کاپیاں بنانے کی اجازت دی گئی تھی اور نہ ہی فوٹو کھینچنے کی کیونکہ جانچ پڑتال کے عمل سے قبل ہی موبائل فون جمع کرا دیئے گئے تھے۔ ای سی پی نے اپنے 14 اپریل کے حکم میں دو مالیاتی تجزیہ کاروں / چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو درخواست گزار کی جانب سے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے دستاویزات کا جائزہ 27 اپریل کو شروع ہونا تھا تاہم درخواست گزار کی جانب سے نامزد دو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ / مالی ماہرین کی طرف سے پی ٹی آئی کے لیپ ٹاپ کے استعمال پر اعتراض کرنے کے بعد اس عمل کو معطل کردیا گیا تھا۔
ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کر سکا کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کراچی کے ضمنی الیکشن میں مصروف تھے۔ اپنی درخواست میں اکبر ایس بابر نے الزام لگایا کہ ڈائریکٹر جنرل قانون کی سربراہی میں سکروٹنی کھلم کھلا ایک حکومتی فریق بن چکی ہے اور کیس کی کارروائی کو روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ اکبر ایس بابر نے افسوس کا اظہار کیا کہ جس کمیٹی کو اپنا کام تین ماہ میں مکمل کرنا تھا اس نے تین سال گزرنے کے باوجود کیس لٹکا رکھا ہے اور مکمل طور پر جانبدار ہے۔ اسکروٹنی کمیٹی کا اگلا اجلاس 3 مئی کو ہونا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ سکروٹنی کے عمل میں تاخیر کا بنیادی مقصد اس کیس کا فیصلہ ہونے سے روکنا ہے اور اسی لئے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پر ایک سیکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے کا ناجائز استعمال عدالت عظمیٰ کے ایک جج اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف سازش کرنے کے لیے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغرب میں کسی سیکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ کی طرف سے ایسا الزام عائد کیا جاتا تو وزیر اعظم استعفیٰ دے دیتے، اسکے علاوہ اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا جاتا اور پارٹی نے ایک نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع کردیا ہوتا۔ اکبر ایس بابر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے، یہاں انصاف ملنے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود ریاست ہے۔
واضح رہے کہ سکروٹنی کے عمل کی نگرانی کرنے والی ڈپٹی ڈائریکٹر قانون صائمہ طارق نے آڈٹ ماہرین کو ابتدا میں لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ لیکن اس کے بعد پی ٹی آئی کے اعتراض پر درخواست گزار کو بتایا گیا کہ وہ ڈیٹا ریکارڈنگ اور تجزیہ کے لیے لیپ ٹاپ کا استعمال نہیں کریں گے۔ یہاں تک کہ درخواست گزار نے ای سی پی کے کمپیوٹر استعمال کرنے کی پیش کش کی تھی، تاہم درخواست گزار سے کہا گیا کہ وہ لیپ ٹاپ کے استعمال کے لیے ایک تحریری درخواست دائر دیں۔ لیکن جب ایسا ہو گیا تو کمپیوٹر استعمال کرنے کی درخواست کو چند گھنٹوں بعد ہی مسترد کردیا گیا۔
پی ٹی آئی کے بینک کھاتوں کی جانچ پڑتال کے عمل کے دوران لیپ ٹاپ کے استعمال کی درخواست منظور نہ ہونے پر اکبر ایس بابر نے ای سی پی سے درخواست کی تھی کہ وہ اسکروٹنی کمیٹی کو پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے لیے لیپ ٹاپ کے استعمال کی اجازت دینے کی ہدایت کرے۔ درخواست میں درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کہا کہ ‘کام کرنے کے آٹھ روز کی ایک محدود مدت میں متعدد مالی دستاویزات کو نوٹ کرنا، مرتب کرنا، موازنہ کرنا، اندازہ لگانا اور ان کا تجزیہ کرنے کے عمل کے دوران لیپ ٹاپ کا استعمال ضروری ہے’۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ کے استعمال سے انکار ‘واضح طور پر تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کے شفاف اور معتبر جائزے کو روکنے کی کوشش ہے’۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ ‘ابتدا میں اجازت دینے کے بعد لیپ ٹاپ استعمال کرنے سے انکار ایک اشارہ ہے کہ ڈی جی قانون کی سربراہی میں کمیٹی اس عمل کو روکنے اور جانچ پڑتال کے عمل میں تین سال کے طویل تاخیر کا جواز پیش کرنے کے عمل کو روکنے کے لیے اپنے اختیارات میں ہر ممکن حربہ استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارا خیال یہ ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ ڈی جی قانون اب مکمل طور پر جانبدار ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button