کپتان دور میں میڈیا اور صحافی بد ترین عتاب کا شکار کیوں؟

وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک بھر میں حکومت اور اسٹیبلشمینٹ مخالف عناصر خصوصا صحافیوں، سیاستدانوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو سخت سنسر شپ، سنگین نوعیت کے مقدمات، گرفتاریوں اور قاتلانہ حملوں کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کا عدم برداشت کا رویہ ہے۔
پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں میڈیا اور صحافیوں کو ہراساں کئے جا نے کے واقعات میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ یہ حقیقت پاکستان پریس فائونڈیشن فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ رپورٹ میں بھی تسلیم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 تک ایک سال میں پاکستانی میڈیا اور صحافیوں پر حملوں اور آزادی اظہار کی خلاف ورزیوں کے کم از کم 148 کیسز ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ہونے والے حملوں میں 40 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے جب ایسے91 کیسز ہوئے تھے۔ پاکستان پریس فریڈم فاؤنڈیشن نیٹ ورک کی کی یہ رپورٹ ہر سال یکم مئی کو ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر جاری کی جا تی ہے ۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر اقباک خٹک خے مطابق یہ رپورٹ آزادی صحافت سے متعلق اپنے وعدے ایفا کرنے کے معاملے میں حکومت اور ریاست پاکستان کی مجموعی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف 27 ریکارڈ کیسز کا اندراج میڈیا کے خلاف اٹھنے والے ایک بڑے طوفان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ قانون صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ ان کو عدم تحفظ کا شکار کرنے کے لئے۔
فریڈم نیٹ ورک رپورٹ کے مطابق صحافیوں کے لئے کام کے دوران خطرنات ترین جگہوں میں اب بلوچستان اور قبائلی علاقے شمار نہیں ہوتے بلکہ ان کی جگہ دارالحکومت اسلام آباد نے لے لی ہے جہاں صحافیوں کے خلاف ملک بھر کے ٹوٹل 148 میں سے 51 کیسز یعنی 34 فیصد کیسلبیک ڈاکٹرائن اب باجوہ ڈاکٹرائن کی جگہ کیسے لے رہا ہے؟ز رپورٹ ہوئے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ظاہری اور خفیہ ہاتھ دونوں ہی میڈیا اور صحافیوں کے خلاف شکنجہ کسنے میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ لہازا دبائو کے حربے آزمائے جا رہے ہیں، صحافیوں کو اغوا کیا جاتا ہے، گرفتار کر کے دھمکیاں دی جا تی ہیں، ان پر پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی کے لئے زمین تنگ کردی گئی ہے جس کے نتیجے میں عوامی مفاد میں ہونے والی صحافت ختم ہوتی جا رہی ہے ۔
دوسری جانب جوں جوں سوشل میڈیا کی وجہ سے کھل کر بولنے کی طلب بڑھ رہی ہے، توں توں ریاست اور حکومت کی جانب سے بھی میڈیا اور سیاستدانوں پر سختی بڑھ رہی ہے۔ مختلف ادوار میں فوج کے خلاف بیان بازی پر سخت سزاؤں کے قوانین بنائے گے لیکن جنکے خلاف مقدمے بنائے گے یا وہ گرفتار کیے گئے انہوں نے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا۔ اس بابت اقتدار میں آنے والوں کی سوچ کی بظاہر عکاسی سابق ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے بشیر میمن کے بیانات سے ہوتی ہے جب انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم انہیں سیاسی مخالفین کے خلاف چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی دہشت گردی کے مقدمات بنانے کا حکم دیتے رہے ہیں۔ جب مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی کو عدلیہ کے خلاف تقریر کی ویڈیو وائرل ہونے اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور گرفتاریاں ہوئیں، تب سے یہ معاملہ زیادہ زیر بحث آنے لگا ہے۔
ایسا ہی ایک مقدمہ ماضی قریب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، وزیر اعظم کشمیر سمیت ن لیگ کے کئی رہنماؤں کے خلاف بھی درج ہوا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی عدالتی امور میں مبینہ مداخلت سے متعلق تقریر پر اپنے عہدے سے علیحدہ ہونا پڑا۔ حالانکہ ان کی ریٹائرمنٹ جون 2019 میں ہونا ہے لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کرنے سے انکاری ہیں۔
اب ایک تازہ واقعے میں مسلم لیگ ن کے رہنما ایم این اے جاوید لطیف کو بھی ایک اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد غداری کے الزام میں گرفتار کر۔لیا گیا ہے۔ پی ٹی ایم رہنما منظور پشتین، ایم این اے علی وزیر اور محسن داوڑ بھی ایسے ہی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سابق لیکچرار ایف سی کالج عمار علی جان کے خلاف ایسا ہی ایک مقدمہ درج ہوا اور گرفتاری کی کوشش کی گئی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق کے مطابق سیاسی مخالفین ہوں یا سماج کے دیگر گروہ خاص طور پر صحافی اگر کسی پر تنقید کرتے ہیں اور انہیں خاموش کرانے کے لیے اگر مقدمات درج کیے جاتے ہیں یا انہیں گرفتار کیا جاتا ہے یا سزا دینے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ انہیں سزا کے خوف سے خاموش کرایا جائے تو یہ حکومت کرنے کا سامراجی سٹائل ہے۔ اس عمل سے معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی حکمران میں تنقید سننے کا حوصلہ نہ ہو یا کسی کو تنقید ناجائز لگتی ہو تو وہ حکمرانی کے قابل نہیں ہے۔ جمہوریت میں ایسا طریقہ کار اختیار کرنا قابل مذمت ہے ایسے معاملات پر مقدمات درج نہیں ہونے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بعض بغاوت یا آفیشل سیکریٹ ایکٹ جیسے قوانین برطانوی استعماریت کی یادگار ہیں۔ لیکن اب کی دنیا میں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم جدید جمہوری ملک ہونے کا دعوی بھی کریں اور ایسے استعماری دور کے قوانین کو ناقدین کے خلاف استعمال کریں۔
بیشتر سوشل میڈیا صارفین میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جب بھی کوئی شخص حکومت، ریاست یا محکموں پر تنقید کرتا ہے تو اسے چپ کرانے کے لیے آخری حد تک جایا جاتا ہے۔ پیمرا کے سابق سربراہ ابصار عالم پر چند دن پہلے قاتلانہ حملہ بھی اس کی تازہ مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
ماہر قانون عامر جلیل صدیقی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسی قانون سازی ہر دور میں ہوتی رہی ہے جس میں بغاوت، انتشار، نفرت، غداری یا اداروں کی توہین پر سنگین سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ ایسے جرائم پر کارروائی کے لیے قانون تو بنائےگئے ہیں مگر ان کا استعمال بھی ہر دور میں اختلاف رائے رکھنے والے یا تنقید کرنے والوں کے خلاف استعمال ہوا ہے۔ عامر جلیل نے کہا کہ 1997 میں بننے والے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں بھی نفرت پھیلانے والے یا فرقہ واریت اور بغاوت کو ہوا دینے والے بیانات پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دن پہلے کپتان حکومت نے بھی وفاقی کابینہ سےایک بل پاس کرایا جس میں فوج پر تنقید اور بیان بازی پر سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ آئین و قانون میں ان جرائم سے متعلق جو سزائیں تجویز ہوئی ہیں ان کا اطلاق عدالتوں میں الزام ثابت ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور اداروں پر تنقید کرنے کے الزام میں درج مقدمات اور گرفتار ہونے والوں پر جرم اکثر ثابت نہیں ہوتے۔ بنیادی وجہ یے کہ زیادہ تر ایسے کیسز انتقامی بنیادوں پر سیاسی مخالفین کے خلاف درج کیے جاتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ثابت نہیں ہو پاتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button