کراچی میں نیند کی گولیاں نہ ملنے پر پولیس اہلکار کی ڈاکٹر پر فائرنگ

کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) کی حدود میں پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے ایک ڈاکٹر زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق این آئی سی وی ڈی کی ایمرجنسی میں سی ٹی ڈی سول لائنز میں تعینات پولیس کانسٹیبل کامران نے فائرنگ کی جس سے ڈاکٹر فہد حسین زخمی ہوگئے، تاہم ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولیس اہلکار نے ڈاکٹر فہد پر حملہ گزشتہ شب دوسرے ڈاکٹر کی جانب سے نیند کی ادویات نہ دینے پر کیا کیوں کہ ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ اس طرح کی ادویات لینا اس کے لیے ٹھیک نہیں
اس حوالے سے سی ٹی ڈی کے سینئر عہدیدار راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ پولیس کانسٹیبل گزشتہ 15 سے 20 روز سے سینے میں درد اور بخار میں مبتلا ہے جب کہ اس نے ضیاالدین اسپتال سے ٹیسٹ کروایا تھا جہاں اس میں ٹائی فائڈ کی تشخیص ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں منگل کی رات کو قومی ادارہ برائے امراض قلب جہاں سکیورٹی گارڈ نے اسے اندر جانے سے روکا اور کہا کہ اسپتال میں داخل ہونے سے قبل ماسک پہننے کے ایس او پی پر عمل کریں، جس کے بعد اس کی گارڈ سے کچھ بحث ہوئی تاہم بعد ازاں وہ کہیں سے ماسک لے کر ایمرجنسی میں داخل ہوگیا۔ واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی میں مبینہ طور پر اس نے ڈاکٹر سے نیند کی گولیاں مانگی کیوں کہ وہ گزشتہ 3 روز سے سویا نہیں تھا۔
راجا عمر خطاب نے دعویٰ کیا کہ وہاں انہیں ڈاکٹر کی جانب سے ادویات نہیں دی گئی، جس کے بعد وہ واپس گھر آیا اور اگلے روز بدھ کی رات کو موٹرسائل پر وہاں گیا اور مبینہ طور پر اسی ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے جس کے بعد کانسٹیبل نے دوسرے ڈاکٹر فہد پر فائر کیا اور فرار ہوگیا۔ سی ٹی ڈی عہدیدار کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ملزم سی ٹی ڈی سول لائنز آیا جہاں اس نے عجیب انداز اپنایا اور اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ اس نے ڈاکٹر پر فائر کیا۔
راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو کہا کہ اسے حراست میں لیں جس کے بعد سی ٹی ڈی پولیس نے تفتیش کے لیے کانسٹیبل کو صدر پولیس کے حوالے کردیا۔ علاوہ ازیں ملزم کے گھروالوں اور ساتھیوں کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ لگتا ہے کہ پولیس اہلکار ‘جذباتی طور پر پریشان’ تھا۔
دوسری جانب ڈاکٹر فہد کو پاؤں میں 2 گولیاں لگی اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس نے زخمی ڈاکٹر کی شکایت پر پولیس اہلکار کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ شکایت کنندہ نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ وہ ایمرجنسی وارڈ میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا کہ جب ایک شخص آیا اور ان سے گزشتہ رات میں ڈیوٹی دینے والے ڈاکٹر کے بارے میں پوچھا۔
ڈاکٹر فہد کے مطابق انہوں نے مذکوہ شخص کو کہا وہ نہیں جانتے کہ وہ ڈاکٹر کہاں ہیں جس پر ملزم نے الزام لگانا شروع کردیا کہ ‘تم (ڈاکٹرز) بےایمان ہوتے ہو اور میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا’، اور پھر میرے دونوں پاؤں پر فائرنگ کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button