کراچی میں پیپلز پارٹی اور جماعت کا اتحاد ہونے کا امکان

کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے بعد اب یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ شہر کے میئر کا اہم ترین عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا یا جماعت اسلامی کو؟۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 235 یونین کونسلز کے جاری کردہ نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی 93 سیٹیں لے کر سرفہرست رہی۔ جماعت اسلامی 86 سیٹوں کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف 40 نشستیں لے کر تیسرے نمبر پر رہی۔ لیکن کوئی بھی جماعت 124 کی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تاکہ اکیلے اپنا مئیر منتخب کروا سکے۔ یوں اب دو جماعتوں کو مل کر کراچی کی بلدیاتی حکومت بنانا پڑے گی۔ سیاسی حساب کتاب رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کو شامل کر کے پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین کی تعداد 143 ہو جائے گی جبکہ جماعت اسلامی کے اراکین کی تعداد 133 ہو جائے گی۔ اسی طرح تحریک انصاف کی نشستیں بھی 65 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ایسے میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی دونوں کی خواہش یہی ہے کہ کراچی کا میئر ان کا آدمی بنے۔ لہذا دیکھنا یہ ہے کہ میئرشپ کا تاج کس کے سر پر سجتا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف پہلے ہی یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ کراچی کا میئر بنوانے کے لیے جماعت اسلامی کی غیر مشروط حمایت کرنے کو تیار ہے۔ تاہم جماعت اسلامی کی قیادت عمران خان کی تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ اسکا خیال ہے کہ وہ ایسی جماعت کا ساتھ نہ دے جو اپنی پچھلی حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر سخت متنازع ہو چکی ہے۔ اگر جماعت اسلامی تحریک انصاف کا ساتھ نہیں دیتی تو پھر اس بات کا امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ بلدیاتی الیکشن میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی مل کر بلدیاتی حکومت بنالیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کے مابین واضح نظریاتی اور سیاسی اختلاف موجود ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں نے مل کر حکومت بنانے کے آپشن کو مسترد نہیں کیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ وہ جماعت اسلامی کو پیپلز پارٹی کی طرف نہ جانے دے اور اپنی سیٹیں اس کے حوالے کردے۔ اس کا عندیہ پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نقوی دے چکے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی بھی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا اعلان کیا، تاہم ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو لیڈ نہ ملی تو جماعت اسلامی کی غیر مشروط سپورٹ کریں گے۔
ایسے میں اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ کن دو جماعتوں کے اتحاد سے معرض وجود میں آنے والی مقامی حکومت سے کراچی اور اس کے عوام کا بھلا ہوگا؟ تجزیہ کاروں کی اکثریت کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے بننے والی حکومت شہر کے عوام کے لئے زیادہ سود مند ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس صورت میں صوبائی اور مقامی حکومتوں کے مابین مثالی ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہوسکتی ہے۔ ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہمیشہ اپنی مخالف پارٹی کے میئر کے لئے درد سر بنی رہی ہے۔ سابق میئرز عموماً اپنے بے اختیار ہونے اور فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا روتے رخصت ہوتے رہے۔
اگرچہ چند ماہ پہلے ہونے والی ترامیم کے نتیجے میں پہلے کی بہ نسبت میئر کے اختیارات میں نمایاں اضافہ ہواہے، تاہم صوبائی حکومت کے پاس پھر بھی مخالف لوکل گورنمنٹ کو ستانے کے بے شمار راستے موجود ہیں۔ اگر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی مل کر مقامی حکومت بنالیتے ہیں تو یہ خدشات معدوم ہوجائیں گے اور لوکل گورنمنٹ کو اپنی کارکردگی دکھانے کا بھرپور موقع ملے گا، جس کا فائدہ یقینا ًشہر اور اس کے عوام کو پہنچے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کا اتحاد ہوتا ہے تو پاور شیئرنگ فارمولے کے مطابق دونوں جماعتوں کو باری باری دو دو برس کے لیے کراچی کی میئر شپ دی جا سکتی ہے۔
چند ماہ پہلے ہونے والی ترامیم کو سامنے رکھتے ہوئے اگر انتظامی امور کا جائزہ لیا جائے تو عباسی شہید اسپتال اور کراچی میڈیکل ڈینٹل کالج سمیت کے ایم سی کے تمام اسپتال اور تعلیمی ادارے لوکل گورنمنٹ کے حوالے کئے جاچکے ۔ اسی طرح واٹر بورڈ کا چیئرمین اب صوبائی وزیر کے بجائے میئر ہوگا۔ جبکہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز بھی میئر کے ماتحت ہوچکی ہیں، جن میں کے ڈی اے، ایم ڈی اے اور ایل ڈی اے شامل ہیں۔ دوسری جانب سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ، جسے کمائی کا ایک بڑا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، اب میئر کے نیچے ہوگا۔ مالی امور کو دیکھا جائے تو چارجڈ پارکنگ سمیت شہر کے بیشترٹیکسز اور فیسیں بھی لوکل گورنمنٹ وصول کرسکے گی۔ آکٹرائے اینڈ ضلعی ٹیکس کے متبادل اربوں کے فنڈز اور سندھ حکومت کی طرف سے لوکل گورنمنٹ کو اربوں کی اضافی گرانٹ بھی ملے گی۔
قصہ مختصر، ترامیم کے نتیجے میں آنے والا میئر سابق میئر کے مقابلے میں کافی طاقتور ہوگا۔ لیکن اپنے ان اختیارات کا پورا فائدہ وہ تب ہی اٹھاپائے گا، جب صوبائی حکومت اس کے ساتھ تعاون کرے۔ اسی لئے تجزیہ کاروں کی جانب سے جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط مقامی حکومت کو کراچی اور اس کے عوام کے لئے سود مند قرار دیا جارہاہے۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم اور پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر سعید غنی، دونوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ دونوں پارٹیاں کراچی میں مل کر حکومت بناسکتی ہیں۔ تاہم یہ مرحلہ آنے پر سب سے اہم معاملہ یہ ہوگا کہ میئر کس کا ہو؟ اس حوالے سے اس پارٹی کا پلڑا بھاری ہوگا، جس کے پاس زیادہ سیٹیں ہوں اور دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی کو بظاہر ڈپٹی میئر شپ پر قناعت کرنا پڑے گا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ نتائج کے مطابق سرفہرست پیپلز پارٹی اور دوسرے نمبر پر جماعت اسلامی ہے۔ لہٰذا یقیناً اگر دونوں پارٹیوں کے مابین اتحاد کے لئے مذاکرات کا باضابطہ سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پیپلز پارٹی اکثریتی سیٹوں کی بنیاد پر اپنا میئر لانے کا اصرار کرے گی۔دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس پر آمادہ ہوتی ہے یا وہ پھر دوسرا آپشن اختیار کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر مقامی حکومت بنانے کو ترجیح دیتی ہے۔
