کراچی واقعہ آئین سے بغاوت اور ہمارے بیانیہ کی تصدیق ہے

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر پر مقدمے و گرفتاری کے معاملے پر سندھ پولیس افسران کے احتجاجاً چھٹی پر جانے کی خبر پر مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو کراچی میں ہوا وہ ہمارے بیانیے ’ریاست کے اوپر ریاست ہے‘ کا کھلا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات کا مذاق اڑایا، چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا، سنیئر ترین پولیس افسران کو اغوا کر کے زبردستی آرڈر لیے، پاک فوج کو بدنام کیا، جبکہ ایڈیشنل آئی جی پولیس کا یہ خط آئین سے آپ کی بغاوت کا ثبوت ہے۔
جو کراچی میں ہوا ہمارے بیانیئے”ریاست کےاوپرریاست ہے” کا کھلا ثبوت ہے
آپ نےمنتخب صوبائی حکومت کےاختیارات کا مذاق اڑایا
چادر چاردیواری کےتقدس کو پامال کیا
سنیئر ترین پولیس افسران کو اغوا کرکےزبردستی آرڈر لئے
پاک فوج کوبدنام کیا
ایڈیشنل IG پولیس کایہ خط آئین سے آپکی بغاوت کا ثبوت ہے pic.twitter.com/sUT4DjvUNY— Nawaz Sharif (@NawazSharifMNS) October 20, 2020
قبل ازیں لیگی نائب صدر مریم نواز کا رد عمل دیتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو تباہ کرنے کا راگ الاپنے والوں کو اچھے سے پتہ چل گیا ہوگا کہ ادارے کیسے تباہ ہوتے ہیں اور ان کو کون تباہ کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’شاباش سندھ پولیس‘ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ انھوں نے مزید کہا تھا کہ بلاول بھتو نے جس طرح اس لاقانونیت پر واضح موقف اپنایا وہ قابل ستائش ہے جس پر وہ ان کی شکرگزار ہیں.
دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی۔ اداروں کو تباہ کرنے کا راگ الاپنے والوں کو اچھے سے پتہ چل گیا ہو گا گیا ادارے کیسے تباہ ہوتے ہیں اور ان کو کون تباہ کرتا ہے۔ شاباش سندھ پولیس۔ ہمیں آپ پر فخر ہے۔ 🇵🇰
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 20, 2020

خیال رہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر مقدمے اور گرفتاری کیلئے پولیس حکام پر دباؤ کے معاملے پر آئی جی سندھ سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس صورتحال پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی پریس کانفرنس کی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے محکمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس کے بعد آرمی چیف نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اب وزیراعظم نے بھی گورنر سندھ عمران اسماعیل کو اسلام آباد طلب کرلیا ہے۔
