کیا بڑوں کو بچانے کیلئے چھوٹوں کی قربانی کی گئی؟


18 اکتوبر کے کراچی واقعہ کی فوجی کورٹ آف انکوائری رپورٹ پبلک کئے بغیر چار سینئر آئی ایس آئی اور رینجرز افسران کو قربانی کا بکرا بنا کر معطل کیے جانے کے بعد عوامی حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ اس انکوائری رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کیا جائے تاکہ آئی جی سندھ کے اغوا کے اصل منصوبہ ساز بھی سامنے آسکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی اور رینجرز فوج کے ادارے ہیں جن میں چین آف کمانڈ کا اصول چلتا ہے اور کوئی جونیئر افسر اپنے بڑوں کی مرضی کے بغیر پتا بھی نہیں ہلا سکتا لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ بریگیڈیئر لیول کے دو افسران مل کر نام نہاد عوامی دباؤ لیتے ہوئے یہ جذباتی فیصلہ کر لیں کہ آج رات انہوں نے صوبے کی پولیس کے سربراہ کو یرغمال بنا کر اسکے ذریعے کیپٹن صفدر کو گرفتار کروانا ہے۔ چنانچہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا آرمی چیف کے حکم پر کی جانے والی انکوائری کی رپورٹ کو اس لیے پبلک نہیں کیا جا رہا ہے کہ اس میں کچھ بڑوں کے نام بھی آئے ہیں۔ یاد رہے کہ جنرل قمر باجوہ نے اس انکوائری کی ذمہ داری کورکمانڈرکراچی کی ذمہ لگائی تھی جو کہ اسوقت آئی ایس آئی اور رینجرز کے سربراہان سے سینئر ہیں۔ تاہم انکوائری کے بعد عسکری حکام نے دو بریگیڈیئرز اور دو کرنلز کو ان کے عہدوں سے معطل کر دیا ہے۔
دوسری طرف سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے اپنی تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بہتر ہوگا کہ کراچی واقعے میں ملوث افسران کے نام اور کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔ انکا کہنا یے کہ اگر سیاست دانوں کے نام سامنے آ سکتے ہیں تو قانون توڑنے والے فوجی افسران کے نام کیوں سامنے نہیں لائے جا سکتے؟ کیا پاکستانی آئین اور قانون سب شہریوں کے لیے برابر نہیں ہے۔ حامد میر نے سوال کیا ہے کہ اگر عوام کے شدید دبائو پر فوجی افسران ملکی قانون توڑ سکتے ہیں تو عوام کے شدید دبائو پر ایک انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاسکتا۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ بانی پاکستان قائداعظمؒ سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف تھے۔ انہوں نے ایوب کے سیاسی عزائم بھانپتے ہوئے بطور گورنر جنرل ایک دفعہ اس کی فائل پر لکھا کہ ’’میں اِس آرمی افسر کو جانتا ہوں، یہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے‘‘۔لیکن قائداعظمؒ کی وفات کے بعد اُس افسر کو پاک فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ سیاسی حکومت نے اپنی کمزوریوں اور نااہلی کے نتیجے میں فوج کو خود سول معاملات میں ملوث کیا اور پھر ایوب خان کو ایکسٹینشن بھی دی اور آخرکار ایوب خان اُن سب کا باس بن گیا۔
حامد میر کے مطابق فوج کی سیاست میں مداخلت کی وجہ جمہوری اداروں کی کمزوری اور سیاست دانوں کا باہمی نفاق ہے۔ آپ آج کی صورتحال دیکھ لیں۔ جنرل ایوب خان کے پوتے کا لیڈر عمران خان ہے لیکن عمران جب سے حکومت میں آئے ہیں، وہ اپوزیشن، میڈیا اور عدلیہ سے برسر پیکار ہیں۔ اپوزیشن کا حال دیکھ لیں۔ کچھ عرصہ قبل گیارہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد بنایا لیکن اِس اتحاد میں نفاق سب کے سامنے ہے۔ 19اکتوبر کو کراچی میں آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے واقعے کی تحقیقات کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ایک کورٹ آف انکوائری بنایا گیا۔ اِس کورٹ آف انکوائری نے رینجرز اور آئی ایس آئی کے کچھ افسران کو ٹرانسفر کر دیا ہے اور اُن کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری نے اِس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اِسے مسترد کر دیا ہے کیونکہ اُن افسران کے نام ظاہر نہیں کئے گئے جن کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
حامد میر کے مطابق پی ڈی ایم کی ایک اور جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی نواز شریف کی طرح کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کیلئے ’’مسترد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر مالک، علامہ ساجد میر، اویس نورانی اور منظور پشتین بھی نواز شریف کے موقف کے حامی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی نواز شریف کے موقف کو درست سمجھتے ہیں لیکن وہ اِس معاملے پر سکوتِ حکیمانہ یعنی مصلحت کے تحت خاموشی کے قائل ہیں تاکہ پی ڈی ایم میں اختلافات نہ بڑھیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنما اپنی پارٹی کی پالیسی کو کنفیوژ قرار دیتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کسی کے نشانے پر تھیں اور دونوں کی قیادت پر نت نئے مقدمات بن رہے تھے لیکن جب نواز شریف نے کچھ شخصیات کے نام لینا شروع کئے تو پیپلز پارٹی کی لاٹری نکل آئی۔ پیپلز پارٹی کے بیک ڈور رابطوں میں تیزی آ گئی۔ اب پیپلز پارٹی اِن رابطوں سے کوئی فائدہ اٹھاتی ہے تو اس کا کریڈٹ نواز شریف کو ملے گا، اس میں پیپلز پارٹی کا کوئی کمال نہیں ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرکے پیپلز پارٹی کو وقتی طور پر تو فائدہ ملے گا لیکن لانگ ٹرم میں نقصان ہوگا۔
دوسری طرف حکومت کا حال دیکھ لیں۔ حامد میر کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت ہے لیکن تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اختلافات اب کوئی راز نہیں رہے۔ لیکن پھر بھی حکومت کو اپنے اتحادیوں کی پروانہیں، اسی طرح اپوزیشن کو اپنے اتحادیوں کی پروا نہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت سے دور رہنا چاہتی ہے۔ حامد۔میر کا کہنا یے کہ بہتر ہوگا کہ کراچی واقعے میں ملوث افسران کے نام اور کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔ اگر سیاست دانوں کے نام سامنے آ سکتے ہیں تو قانون توڑنے والے افسران کے کیوں نہیں؟ عوام کے شدید دبائو پر یہ افسران قانون توڑ سکتے ہیں تو عوام کے شدید دبائو پر ایک رپورٹ کو منظر عام پر بھی لایا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button