ویسٹ انڈیز ٹیم کو پریکٹس سے روک دیا گیا

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو دورہ نیوزی لینڈ کے دوران قرنطینہ قواعد کی خلاف ورزیوں پر پریکٹس سے روک دیا گی ہے۔
ویسٹ انڈین ٹیم 2 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچز کی سیریز کھیلنےکے لیے نیوزی لینڈ میں ہےاور انہیں اس وقت نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے ایک ہوٹل میں 2 ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے شکایت کی کہ مہمان ٹیم کے کھلاڑی قرنطینہ کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور قرنطینہ کے لیے بنائے گئے دونوں گروپ کے افراد نہ صرف ایک دوسرے سے مل رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے پیتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ کیوی حکام کے مطابق مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے آئسولیشن کی خلاف ورزی کو سی سی ٹی وی کیمروں نے ریکارڈ کیا ہے اور ہوٹل کے عملے نے بھی انہیں دیکھا ہے۔ حکام کی جانب سے مہمان کھلاڑیوں کی خلاف ورزیوں پر ان کو قرنطینہ کے دوران پریکٹس کے لیے دی جانے والی سہولیات واپس لے لی گئی ہیں۔ وزات صحت کے مطابق اپنے 14دن کے آئسولیشن میں سے 12 دن مکلم کرنے والے ویسٹ انڈین کھلاڑی کووڈ-19 کے اصولوں کی خلاف ورزی پر اس وقت تک ٹریننگ نہیں کر سکیں گے جب تک کہ وہ مکلم آئسولیشن میں مدت مکمل نہیں کر لیتے اور اگر مزید تحفظات ظاہر کیے گئے آئسولیشن کی مدت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کے چیف جونی گریو نے ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اپنے کھلاڑیوں کے اس طرز عمل پر انتہائی افسوس ہے جس نے پورے دورے کو خطرے میں ڈال دیا ہے. انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرکے نہ صرف خود کو خطرے میں ڈالا بلکہ ویسٹ انڈیز کے نام کو نیچا کرنے کے ساتھ نیوزی لینڈ کے عوام کی صحت کے لیے بھی ممکنہ خطرات پیدا کیے، ہم نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور تمام کھلاڑیوں کے انٹرویو کیے جا رہے ہیں۔ جونی گریو نے کہا کہ ہم نے کھلاڑیوں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر قرنطیہن کی سہولت کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے نتیجے میں خلاف کرنے والوں کو فوری وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔ ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کی نیوزی لینڈ آمد کے بعد بدھ کو تیسری کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے اور اگر تمام کھلاڑیوں کے ٹیسٹ منفی آتے ہیں تو انہیں جمعہ کو آئسولیشن ختم کرنے کی اجازت دی جائے گی جس کے بعد وہ ٹور میچ کے لیے کوئنزلینڈ جا سکیں گے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے محکمہ صحت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئےکہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں غیر ملکی ٹیم کی آمد کے دوران عوام کی صحت ان کی پہلی ترجیح ہے۔ بورڈ نے کہا کہ ہم ویسٹ انڈین ٹیم اور مینجمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس طرح کی خلاف ورزی دوبارہ نہ ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button