نوازشریف کے بیانیے کی مخالفت، حافظ حسین پارٹی عہدے سے فارغ

جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے پارٹی ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کا اجلاس منگل کو سربراہ مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہوا تھا تاہم فیصلوں کا اعلان بدھ کو کیا گیا۔ فیصلوں کے مطابق حافظ حسین احمد کو سیکرٹری اطلاعات کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے فوج سے متعلق کوئٹہ جلسہ بیان سے اختلاف کیا تھا۔ جے یو آئی نے حافظ حسین احمد کے بیان کو ان کا ذاتی بیان قرار دے کر لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ اجلاس میں جے یو آئی کی مر کزی مجلس شوریٰ نے حکومت کو تاریخ کی ناکام ترین حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل فوری شفاف انتخابات میں ہے۔مولانا عبدالغفو حیدری نے شرکا اجلاس کو ایجنڈے سے آگاہ کیا جب کہ مولانا فضل الرحمن نے پی ڈی ایم کے اب تک ہونے والے فیصلوں پر مجلس شوریٰ کو بریفنگ دی۔ جے یو آئی کی مرکزی شوریٰ نے 2018ء کے عام انتخابات کے بعد سے اب تک مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ چکے ہیں۔ مسلسل مہنگائی کا سیلاب نام نہاد حکومت کی غریب عوام دشمنی کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت بہت سے بحرانوں کا شکار ہے جس کا حل حکمرانوں کے پاس نہیں ہے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکمران غربت کی بجائے غریب ختم کر نے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ مولانا محمد امجد خان اور محمد اسلم غوری نے بتایا کہ جے یو آئی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس 14 اور 15 دسمبر کو لاہور میں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button