کراچی کا مئیر کون؟ معاملہ مزید سنسنی خیز ہو گیا؟

میئر کراچی کیلئے جماعت اسلامی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے حوالے سے تحریک انصاف کے منتخب چیئرمینوں نے پارٹی پالیسی سے بغاوت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد جماعت اسلامی کا اپنا میئر کراچی لانے کا خواب کرچی کرچی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں میئر کا انتخاب ہو رہا ہے جس میں سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کے مرتضی وہاب اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن میں مقابلہ ہے۔ان انتخابات میں پیپلزپارٹی نے مرکز میں اتحادی حکومت میں شامل مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی حمایت کا دعوی کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ انہیں تحریک انصاف کی حمایت حاصل ہے۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب ہونے والے یونین کمیٹیوں کے درجنوں چیئرمینز نے جماعت اسلامی کے میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمان کو ووٹ دینے سے انکار کردیا ہے۔ 12جون کو یہ خبر بھی سامنے آئی کہ تحریک انصاف کے یوسی چیئرمین اسد امان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی جماعت اسلامی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں پی ٹی آئی کے منتخب 30 سے زائد یوسی چیئرمینز کا اجلاس ہوا جس میں جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ نعیم کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے منتخب چیئرمین اسد امان کا کہنا تھاکہ کراچی کی پارٹی قیادت کے فیصلوں سے اختلاف کرتے ہیں، جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے فیصلے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہم چیئرمین تحریک انصاف کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف تھےاور ہیں مگرجماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دینگے، ہم اپنے فیصلے میں خود مختار ہیں ہمیں کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں۔

پی ٹی آئی کے منتخب یوسی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 40 پی ٹی آئی کے چیئرمین میئر کے انتخاب کے دن ایوان میں نہیں جائینگے۔اسد امان کا کہنا تھاکہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ بھرپورمخالفت کی، ہم حافظ نعیم کو ووٹ نہیں دیں گے، چیئرمین تحریک انصاف ہمیں بلائیں تو بات بن سکتی ہے۔ پی ٹی آئی یو سی چیئرمین عمران پروانی کا کہنا تھاکہ ہمیں اپنی یوسی کے لوگوں کو بھی جواب دینا ہے، حافظ نعیم نے عمران خان کے ساتھ ملاقات کرکے ورکرز سے جھوٹ بولا، منتخب ہونے کے بعد ہمیں کراچی کی قیادت نے پوچھا تک نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم باہر کے بندے کو ووٹ دیں۔

خیال رہے کہ اسد امان کی پراسرار گمشدگی سے متعلق دو روز قبل ان کے بھائی کی جانب سے مومن آباد پولیس اسٹیشن میں درخواست دی گئی تھی جس میں بھائی کی بازیابی کے لیے مدد کی استدعا کی گئی تھی۔اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نامزد میئر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ اسد امان کے گھر والوں نے رپورٹ لکھوائی ہوئی ہے کہ وہ لاپتہ ہے۔منتخب اراکین کی رائے تبدیل کرنے کیلئے انھیں غائب کرنا اور من پسند بیانات لینا غیرآئینی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن نوٹس لےکہ صوبائی وزیر کیوں کہہ رہے ہیں کہ منتخب اراکین ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے۔

واضح رہے کہ پیر کی شام کو ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ وہ میئر الیکشن سے الگ ہو رہے ہیں۔مختصر دورانیے کی ویڈیو میں پی ٹی آئی کے رہنما کہتے ہیں کہ وہ نئے سیٹ اپ کے تحت ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل کسی کی حمایت نہیں کریں گے، اب چاہے پیپلزپارٹی جیتے یا جماعت جیتے۔تاہم بعد ازاں حلیم شیخ نے ویڈیو کو پرانی قرار دے کر جماعت اسلامی کے امیدوارحاففظ نعیم الرحمٰن کو ووٹ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ چیئرمین تحریک انصاف نے میئر کے الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے اور ہم اس پر قائم ہیں، جو رکن ووٹ نہیں دے گا اسے نا اہل کرائیں گے۔

خیال رہے کہ کراچی میئر کیلئے انتخابات 15 جون کو ہوگا اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم اور پیپلزپارٹی کے مرتضیٰ وہاب کے درمیان مقابلہ ہے۔کراچی سٹی کونسل میں اس وقت پیپلزپارٹی کو اپنے اتحادیوں (ن) لیگ اور جے یو آئی کے ساتھ مل کر 173 جب کہ جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کے ساتھ مل کر 193 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

Back to top button