ترین نون لیگ اور PPP میں اختلافات کی وجہ کیسے بنے؟

پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں حالات و واقعات سانحہ 9 مئی کے بعد دنوں کی بجائے گھنٹوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ جیسے ہی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور امیدواروں نے پارٹی سے منہ موڑنا شروع کیا ہے، حکومتی اتحاد کی جماعتوں میں بھی مستقبل کے حوالے ایک تناؤ کی کیفیت عیاں ہو رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری لاہور میں کچھ دن گزارنے کے بعد علاج کی غرض سے دبئی جا چکے ہیں۔ جب وہ لاہور میں تھے تو یہ تاثر دکھائی دیا کہ شاید وہ پاکستان تحریک انصاف سے منحرف ہونے والے رہنماؤں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ پی ٹی آئی کے کچھ سابق امیدواروں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت بھی اختیار کی۔ تاہم جہانگیر ترین کی طرف سے اپنی جماعت کے قیام کے بعد یہ سلسلہ تھم گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آصف علی زرداری ’استحکام پاکستان پارٹی‘ کے قیام سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔
ق لیگ کے صدر چوہدری سرور کے مطابق ’استحکام پاکستان پارٹی لندن کے اشارے پر بنی ہے۔‘جس سے اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے کہ آئندہ سیاسی منظر نامے میں اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کا ظہور ہو چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ایک قدرتی عمل ہے۔
سیاسی تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے یہ نوشتہ دیوار تھا۔ تحریک انصاف اور عمران خان جتنے کمزور ہوں گے اتنے ہی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئیں گے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ طاقتور عمران خان کے ہوتے ہوئے ان کے درمیان اختلافات پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ’استحکام پاکستان پارٹی‘ کی وجہ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں دوریاں شروع ہوئیں؟ تو ان کا کہنا تھا ’واضع اختلافات تو چیئرمین پی سی بی اور کشمیر الیکشن میں سامنے آئے ہیں کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں آصف علی زرداری اور چوہدری سرور جو اہداف حاصل کرنا چاہتے تھے وہ پورے نہیں ہوئے کیونکہ استحکام پاکستان پارٹی بھی ادھر جائے گی جو جماعت اگلے انتخابات میں زیادہ ووٹ لے کر آئے گی۔ شاید چوہدری سرور کا بیان اسی کی پیش بندی ہے۔‘
مسلم لیگ ن کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی سلمان غنی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان تناؤ کی کیفیت کو تو مانتے ہیں البتہ وہ جہانگیر ترین کی نئی پارٹی کو اس کی وجہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا یہ تجزیہ تھا کہ بجٹ کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی چپلقش واضع ہو جائے گی۔ کیونکہ پیپلز پارٹی بلاول کو وزیراعظم بنانے کے لیے غیر حقیقی طور پر پُرجوش ہے جو ن لیگ کو کسی طور پر قابل قبول نہیں۔‘
سلمان غنی کے مطابق ن لیگ اس وقت زیادہ پریشان ہے۔ اور مریم نواز کے شروع ہونے والے جلسے اس کی مثال ہیں اور یہ جلسے اب ہوتے رہیں گے۔’سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا ووٹر پاکستان استحکام پارٹی کو ووٹ دے گا؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو اس کا ن لیگ کو کیا فائدہ ہو گا؟ میری خبر یہ ہے کہ یہ پارٹی 30 سے 35 سیٹیں لے گی اور اگلے وزیراعظم کے لیے بارگین کرے گی جس سے اسٹیبلشمنٹ اور مضبوط ہو گی۔‘سیاسی مبصرین ایک بات پر متفق ہیں کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان سب اچھا نہیں ہے، کیونکہ دونوں کے اہداف مختلف ہیں۔
تاہم دوسری طرف استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما اسحاق خاکوانی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ پارٹی نواز شریف کے کہنے پر وجود میں آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو یاد ہو تو اس وقت وزیراعظم اور اس سے پہلے حمزہ شہباز بھی ہماری حمایت سے وزیراعلٰی پنجاب بنے۔ لیکن جب ضمنی انتخابات کی باری آئی تو ن لیگ کا ووٹر ہمارے لیے نہیں نکلا تو ہمیں کیا فائدہ؟ ہمارا ایجنڈا واضع ہے اور وہ ہے استحکام پاکستان۔ ہم کسی کے کہنے پر نہیں آئے۔ یہ قیاس آرائیاں فضول ہیں۔‘
جہانگیر ترین اس وقت خود بھی برطانیہ روانہ ہو چکے ہیں سیاسی مبصرین کے مطابق ان کی نواز شریف سے ملاقات اور پاکستان تحریک انصاف خاص طور پر عمران خان کے سیاسی مستقبل کے حتمی تعین تک یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ نئی سیاسی محاذ آرائی کیا سمت اختیار کرے گی۔
دوسری جانب حکمران اتحاد میں بڑھتے اختلافات بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اختلافات ٹوپی ڈرامہ ہے، الیکشن کا فیصلہ پولنگ اسٹیشن میں ہوا تو استحکام پاکستان پارٹی کا جیتنا بہت مشکل ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی کو کسی نہ کسی صورت رکھا جائے گا۔ عمرانڈو تجزیہ کار ارشادبھٹی کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کیلئے میثاق جمہوریت بھی کرسکتی ہیں ڈکٹیٹر سے مک مکا بھی کرسکتی ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سیاسی مخالف سے اپنے تئیں جان چھڑواچکے ہیں اب اقتدار کی جنگ کا اگلا مرحلہ شروع ہوگیا ہے، خبریں ہیں کہ نواز شریف کے حق میں کوئی بڑا ثبوت آنے والا ہے، چوہدری سرور کہتے ہیں استحکام پاکستان پارٹی لندن والوں نے بنوائی ،ن لیگ کا پلان ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کے ساتھ اتحاد کا ہے ،پیپلز پارٹی چاہتی ہے استحکام پاکستان پارٹی، ق لیگ، آزاد امیدوار اور جنوبی پنجاب انہیں دیا جائے، پرویز خٹک گروپ جانتا ہے تحریک انصاف کا نیا گروپ بنایا یا کسی دوسری جماعت میں گئے تو انہیں ووٹ نہیں ملے گا۔
دوسری جانب سینئر تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے قیام سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی پریشانی میں مبتلا ہوگئی ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی اب پہلے کی طرح فیورٹ نہیں رہے ہیں، ن لیگ اور پی پی کو ابھارنے کے بجائے متبادل لایا جارہا ہے، ایسا لگتا ہے اسٹیبلشمنٹ تیسرا گروپ کھڑا کر کے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا اگلی حکومت بنانے کا خواب پورا نہیں ہونے دے گی، پچھلی دفعہ ن لیگ نے پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو ٹکٹ دیئے جو ہار گئے اس لیے استحکام پاکستان سے سیٹ ایڈجسمنٹ کے آپشن میں زیادہ گنجائش نہیں ہے،پی ٹی آئی چاہے کھمبوں کو کھڑا کرے مگر اپنا ووٹ بینک نہیں جانے دے گی۔
