کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ نہیں بلکہ تین کروڑ ہے

پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے متنازع مردم شماری 2017 کے حوالے سے کہا ہے کہ 14 برس سے کراچی کو بتدریج پانی، گیس، بجلی، تعلیم، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم رکھا ہم کچھ نہیں بولے لیکن اگر اب تم صحیح طرح گن نہیں سکتے تو کراچی خاموش نہیں رہے گا۔
کراچی میں مردم شماری کے خلاف ریلی سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ کراچی کے تین کروڑ عوام حکمرانوں کو پکڑ پکڑ کر خود کو گنوائیں گے۔ انہوں نے ریلی میں شریک شرکا کا حوالہ دے کہا کہ یہ مجمع وزیر اعظم عمران خان کو آواز لگا رہا ہے کہ آپ نے ڈھائی برسوں میں کچھ بھی اچھا کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘مصطفیٰ کمال نے ایک مرتبہ بھی آپ کو نااہل یا سلیکٹڈ نہیں کہا، ہم نے آپ کو وزیراعظم تسلیم کیا اور تسلیم کرتے ہیں دوسروں کی طرح سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے سلیکٹڈ نہیں کہیں گے’۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ‘پاکستان کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اداروں نے تسلیم کیا کہ کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ نہیں ہے جیساکہ مردم شماری میں ظاہر کیا گیا’۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک متنازع مردم شماری تھی، تین برس سے اسے قانونی حیثیت نہیں تھی اور امید تھی کہ اگر متنازع رہے گی تو ایک وقت آئے گا کہ قانونی حیثیت اختیار کرلے گی۔ انہوں نے عمران خان کو کہا کہ ‘آپ سے کوئی کام ٹھیک سے نہیں ہوا، اگر آپ کو کچھ نہیں کرنا تو نہیں کرتے لیکن آپ نے ایک متنازع چیز کو کابینہ کی مہر لگادی ہے، وزیر اعظم نے اس کو جائز قرار دے دیا ہے’۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ‘اہل کراچی یہ آواز لگاتے ہیں کہ اے حکمرانوں اس جعلی مردم شماری پر کابینہ کے فیصلے پر یو ٹرن لو اور فیصلے کو رد کرو’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم مطالبہ کررہے ہیں کہ مردم شماری کے نتائج کو متنازع رہنے دو، اگر اسے قانونی حیثیت مل گئی تو آئندہ ہونے والی مردم شماری اسی کو بنیاد بنا کر مردم شماری کریں گے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس مسئلے پر ہم آخر تک جائیں گے اور اگر ہمیں خود کو گنوانے میں جان بھی جائے گی تو جان دیں گے’۔ پی ایس پی کے چیئرمین نے کہا کہ ‘مجھے ایسی زندگی نہیں چاہیے جس میں میری ریاست یا حکومت مجھے گننے سے ڈرے’۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ ‘میں نے کہتا کہ مردم شماری دوبارہ کراؤ لیکن اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرو’۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ‘جو لوگ دوبارہ مرد شماری دوبارہ کرانے کی بات کررہے ہیں وہ ڈھائی برس میں کونسلر کا الیکشن نہیں کراسکے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘کراچی کی دونوں پارٹیاں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم پاکستان وفاق میں موجود ہیں، دونوں نے کراچی کی نسلوں کا سودا کردیا، کل جب حقوق نہ ملنے پر کوئی ہتھیار اٹھائے تو پھر انہیں دہشت گرد کہا جائے گا’۔
مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم (پاکستان) کے حوالے سے کہا کہ ‘ان کے رہنما اور میئر کرپٹ ہیں’۔ خیال رہے کہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے ریلی کا انعقاد ایسے وقت سامنے آیا ہے جب متنازع مردم شماری 2017 کی منظوری کے خلاف تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں آبادی کی جلد گنتی کروانے کی ضرورت پر اتفاق ہوگیا ہے۔ 22 دسمبر 2020 کو کابینہ اجلاس میں مردم شماری کے نتائج منظور کرنے پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان شدید تنقید کی زد میں آئی تھیں، اگرچہ ایم کیو ایم پاکستان نے اختلافی نوٹ لکھا تھا لیکن اس منظوری میں اسے بڑے پیمانے پر ملوث سمجھا جاتا ہے۔
