کراچی کے شہریوں نے ’’گوگل‘‘ کو اُردو کیسے سکھائی؟

کراچی کے باسی نہ صرف اردو بولنے کے لیے اپنی پہچان رکھتے ہیں بلکہ اردو سکھانے میں بھی ان کا ثانی کوئی نہیں ہے، کراچی کے دو باسیوں کاشف اور رضوان نے دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن ’’گوگل‘‘ کو بھی اردو سکھائی ہے۔
دونوں اس مقصد کے لیے رضاکارانہ خدمات فراہم کر رہے ہیں، اور سرچ انجن میں اردو کے حوالے سے کافی الفاذ کا ذخیرہ ہونے کے ساتھ گرائمر میں بھی بہتری آئی ہے۔
سرچ انجن گوگل کئی سالوں سے دنیا کے کروڑوں افراد کو درجنوں زبانوں میں لکھنے، پڑھنے کی سہولیات فراہم کر رہا ہے تاہم کراچی کے شہری نا صرف گوگل کو اردو، پشتو اور سندھی ’سکھا‘ رہے ہیں بلکہ ان زبانوں میں گوگل کی ’اصلاح‘ بھی کر رہے ہیں، کراچی سے تعلق رکھنے والے کاشف اور رضوان گوگل میں اردو کی ترویج کے لیے رضاکارانہ طور پرکام کر رہے ہیں۔انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں گوگل رضاکار کاشف مسیدیا نے بتایا کہ میں گوگل کراؤڈ سورس کا مینٹور ہوں۔ دنیا میں کوئی 21 کے قریب مینٹورز ہیں جن میں سے میں ایک ہوں، پاکستان میں اردو لکھنے اور پڑھنے کا رجحان کم ہو گیا ہے، جب سے موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی آئی ہے تو اردو کی جگہ رومن نے لے لی جس کی وجہ سے اردو زبان زوال کا شکار ہو رہی ہے، اپنی قومی زبان کے تحفظ کیلئے میں گوگل کو اردو سیکھا رہا ہوں، ایک ایپلیکیشن کراؤڈ سورس کے ذریعے سے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ اردو صرف ایک بولی بن کر رہ جائے۔کانٹینٹ کریئیٹر کاشف مسیدیا کا کہنا ہے کہ جب پاکستان میں کمپیوٹر آیا تھا اس زمانے میں اردو کا کی بورڈ بھی آتا تھا، جو اب کہیں نظر نہیں آتا۔ میں گوگل کراؤڈ سورس کے ذریعے سے گوگل کو اردو کانٹیٹ فراہم کرتا ہوں تاکہ دنیا بھر میں یہ معلوم ہو سکے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، ان کے مطابق وہ گوگل کے براہ راست ملازم نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی زبان کی محبت میں اور اپنی کمیونٹی کی محبت میں رضا کارانہ‘ طور پر کام کر رہے ہیں، 60 فیصد تک گوگل اردو کا صحیح ترجمہ دیتا ہے کیونکہ ماضی کی نسبت اب گوگل کو اردو میں زیادہ سے زیادہ کانٹیٹ فرائم کیا جا رہا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر پاکستانی ہر اردو بولنے والا گوگل کراؤڈ سورس پر آئے اور اردو کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ہر کسی کے رسم الخط کا اپنا انداز ہوتا ہے اس طرح گوگل پر اردو کا بے شمار مواد جمع ہوتا جائے گا، رضا کار رضوان شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گوگل ٹرانسلیشن کے حوالے سے ’ہم گوگل کو کراؤڈ سورس کے ذریعے معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کراؤڈ سورس ایک ایپ ہے جسے پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ایپ کے ذریعے وہ طلبا و طالبات جو معلومات یا کوئی انگریزی لٹریچر پڑھنا چاہتے ہیں تو ہم اس سے ترجمہ میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ اردو کو تحریری طور پر لکھ کر اس کی تصویر کھینچ کر اپ لوڈ کر دیں تو گوگل اسے پہچان لے گا، گوگل لینز کے ذریعے سے کسی بھی زبان میں لکھی جانے والی کتاب کا ترجمہ با آسانی اردو، سندھی اور پشتو میں آ جاتا ہے۔

Back to top button