کراچی کے ہوٹلوں میں اراکین اسمبلی کے ‘قیام’ کامعاملہ، پیپلزپارٹی کا تحقیقات کا مطالبہ

پیپلز پارٹی کے سینٹرل الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو ایک خط لکھ کر سندھ اسمبلی کے چند ممبران کے پراسرار طرز عمل کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے جس کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ایم پی ایز مبینہ طور پر کراچی کے نجی ہوٹلوں میں قیام پذیر ہیں۔
2 مارچ کو لکھے گئے خط میں تاج حیدر نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج ہونے والے سینیٹ انتخابات سے قبل صوبے کی تین جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز کو نجی ہوٹلوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ قبل ازیں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے اپنے صوبائی قانون سازوں کی سکیورٹی کے پیش نظر ایک جگہ پر رہنے کا انتظام کیا اور وہ آج کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کےلیے ایک ساتھ سندھ اسمبلی جائیں گے۔ تاج حیدر نے اپنے خط میں رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی نے پرل کانٹینینٹل ہوٹل میں 30 کمرے بک کرائے تھے جب کہ ایم کیو ایم نے ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں کمرے بک کرائے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کراچی میں رہائش کے باوجود ہوٹلوں میں مقیم پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ایم پی اے کے اس غیر معمولی رویے نے خدشات کو جنم دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے ای سی پی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایم پی اے کو ‘رشوت یا کسی جبر کے تحت’ نہیں رکھا گیا ہے جو انہیں سینیٹ انتخابات میں اپنی پسند کے مطابق ووٹ کاسٹ کرنے سے روکیں گے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی تحقیقات کرنے کو کہا کہ ایم پی اے کے ہوٹلوں میں قیام کےلیے کون ادائی کررہا ہے۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نگرانی میں سینیٹ کی 37 نشستوں کےلیے پولنگ کا عمل جاری ہے جس میں سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے کل 78 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے انتخابات میں حصہ لینے میں اپوزیشن جماعتوں کے اقدامات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے تاج حیدر نے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کے خلاف ای سی پی میں سینیٹ انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر شکایت درج کی تھی۔ انہوں نے ای سی پی کی توجہ ان رپورٹس کی جانب مبذول کروائی تھی جس کے مطابق گورنر نے آئندہ سینیٹ انتخابات کےلیے پی ٹی آئی امیدواروں، پی ٹی آئی ممبران سندھ اسمبلی اور وفاقی حکومت میں پی ٹی آئی کے اتحادی شراکت داروں کے اجلاس کی صدارت کی۔ چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ گورنر سندھ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں پی ٹی آئی امیدواروں کی کامیابی کےلیے حکمت عملی تیار کی گئی۔ اس شکایت میں پی ٹی آئی کی صوبائی مشاورتی کونسل کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا جو اخبارات میں شائع ہوا تھا، جس نے گورنر کو سینیٹ کےلیے پی ٹی آئی امیدواروں کے انتخاب پر تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button