رواں سال عازمینِ حج کیلئے کورونا ویکسین لگوانا لازمی قرار

سعودی عرب کی وزارت صحت نے حکم دیا ہے کہ رواں سال صرف ان افراد کو حج میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے گی جنہیں کووِڈ 19 سے بچاؤ کی ویکسین لگ چکی ہیں۔
برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ میں یہ بات سعودی اخبار کے حوالے سے کہی گئی۔ اخبار نے سعودی وزیر صحت کے دستخط شدہ ایک سرکلر کے حوالے سے بتایا تھا کہ ‘وہ افراد جو حج کےلیے آنا چاہتے ہیں ان کےلیے کووِڈ 19 کی ویکسین لازمی ہے اور (آنے کا اجازت نامہ لینے کےلیے) یہ مرکزی شرط ہوگی’۔
اس کے علاوہ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کہا کہ ‘سال 2021 کے حج سیزن میں شرکت کرنے والے ہیلتھ ورکرز کےلیے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانا لازمی ہے’۔ ایک سرکاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘حج 2021 کےلیے مکہ، مدینہ، مقدس مقامات اور داخلی پوائنٹس پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کےلیے درکاری افرادی قوت میں جگہ بنانے کےلیے پہلے سے تیاری کرلیں’۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ حج اور عمرہ کےلیے ایک ویکسینیشن کمیٹی بنائی جائے گی جس میں انہوں نے شرکت کرنے والے ہیلتھ ورکرز کےلیے ویکسین لگوانا لازم کیا ہے’۔ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العلی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جن افراد نے ویکسین لگوائی ہوگی اور اس کے بعد 2 یا 3 ہفتے گزر گئے ہوں تو ان کے کسی متاثرہ شخص سے رابطہ کرنے پر قرنطینہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں اب تک 3 لاکھ 78 ہزار 2 افراد کورونا وائرس سے متاثر جب کہ 6 ہزار 505 انتقال کر چکے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب میں شہریوں اور تارکین وطن کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 8 لاکھ 85 ہزار 411 افراد کو حفاطتی ٹیکے لگ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے فریضہ حج کےلیے سعودی حکومت نے محض 10 ہزار عازمین کا انتخاب کیا تھا اور تمام عازمین سعودی عرب میں رہائش پذیر تھے۔ فریضہ حج کی سعادت حاصل کرنے والے 10 ہزار خوش نصیب افراد میں سے 70 فیصد افراد کا تعلق دنیا کے دیگر ممالک سے تھا، جب کہ 30 فیصد سعودی شہریوں کو حج کےلیے منتخب کیا گیا تھا اور تمام 10 ہزار خوش نصیبوں نے زندگی میں پہلی بار حج کی سعادت حاصل کی تھی۔ فریضہ حج کی ادائی کے دوران حکومت کی جانب سے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور تمام عازمین کو فیس ماسک پہننے اور ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کرنے کی ہدایات کی گئی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button