کرپان رکھنا لائسنس سے مشروط: پاکستانی سکھ سیخ پا

پاکستان کی سکھ کمیونٹی نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے کرپان کا استعمال لائسنس سے مشروط کرنے کے فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوہے کا یہ خنجر سکھوں کی جانب سے کبھی بھی بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ انکے مذہب کا لازمی جزو ہے لہذا اسکو ہتھیار قرار دے کر لائسنس سے مشروط کرنا کوئی اچھا فیصلہ نہیں۔
یاد رہے کہ کرپان لوہے کا کند خنجر ہوتا ہے جس کی لمبائی 4 انچ سے 12 انچ تک ہو سکتی ہے۔ کرپان فارسی کا۔لفظ ہے جس کے معنی رحم یا انصاف دینے کے ہیں۔ سکھ مذہب کے پانچ ککھوں میں کرپان کا پانچواں نمبر ہے، یعنی پانچ کاف میں بالترتیب کیس، کنگھا، کڑا، کچھیرا اور کرپان شامل ہیں۔ خیال رہے کہ پشاور کی سکھ برادری نے اکتوبر 2020 میں چاروں صوبوں کے ہائی کورٹس میں درخواست جمع کروائی تھی جسکا مقصد سکھوں کے پانچویں مذہبی ککار ’کرپان‘ کو احاطہ عدالت سمیت تمام سرکاری اداروں میں ساتھ رکھنے کی اجازت طلب کرنا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے بدھ 22 دسمبر 2021 کو اس مقدمے سے متعلق احکامات جاری کیے ہیں جن کے مطابق 2012 کی ہتھیاروں کی پالیسی کے تناظر میں کرپان رکھنے کو لائسنس سے مشروط کر دیا گیا ہے، عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ کرپان کا بھی لائسنس جاری کیا جائے۔ تاہم پاکستانی سکھ کمیونٹی اس فیصلے پر سراپا احتجاج ہے۔
پاکستان کی رہائشی سکھ برادری کا مؤقف ہے کہ بھارتی قانون کے آرٹیکل 25 کے تحت سکھوں کو مذہبی آزادی دیتے ہوئے کرپان رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، نہ صرف کرپان بلکہ سری صاب کہلانے والی چھ فٹ لمبی تلوار بھی سکھ مذہب کے پیروکار اپنے ہمراہ آزادی کے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ 2003 میں یورپ کے ایئر پورٹ پر ایک سکھ خاندان کے سربراہ نے اس وقت احتجاج کیا جب انھیں کرپان ہٹانے کو کہا گیا۔ ایسے ہی دیگر کئی واقعات سامنے آنے کے بعد 2006 اور اس کے بعد سے ہی کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا سمیت یورپ کے ایئرپورٹوں اور پبلک مقامات پر سکھ برادری کو مذہبی ازادی کے تحت کرپان ہمراہ رکھنے کی قانونی اجازت دے دی گئی۔ لہذا پاکستان کی سکھ کمیونٹی کا مطالبہ ہے کہ کرپان کو اسلحہ قرار دے کر لائسنس سے مشروط نہ کیا جائے؟
پشاور میں آباد سکھ کہتے ہیں کہ وہ ملائشیا کی پارلیمنٹ اور دنیا کے مختلف ممالک میں کرپان آزادانہ پہن کر آتے جاتے رہے ہیں لیکن پاکستانی عدالت نے عجیب فیصلہ دے دیا ہے۔ پشاور میں سکھوں کے مذہبی سکالر باباجی گروپال اس بارے میں کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں امن وامان کی صورتحال بگڑنے کے بعد ان کی کمیونٹی کو کرپان ہمراہ رکھنے کے حوالے سے مشکلات پیش آنے لگیں۔ ان کے مطابق اب کرپان کو وہ حکومتی اداروں میں آزادی کے ساتھ نہیں لے جا سکتے اور اس کی وجہ ہے کہ اسے خنجر سمجھ کر نقصان پہنچانے کا آلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کرپان صرف مذہبی علامت ہی نہیں بلکہ ان کا مذہبی رکن ہے جس سے کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی یا جرم کرنے کا سوچنا بھی سکھوں کے لیے گناہ کبیرہ کے مترادف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میرے آباؤ اجداد کی بڑی تعداد نے اپنی زندگیاں سابق فاٹا میں برطانوی راج کے نافذ فرنٹیئر کرائم ریگولیشن کے قانون تلے گزاریں جو 1848 سے رائج تھا، جہاں کسی بھی وفاقی یا صوبائی حکومت حتی کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی دائرہ اختیار متعین نہیں تھا اب تک نہ صرف قبائلی اضلاع بلکہ پاکستان بھر میں کہیں بھی کرپان کو آلہ کار بنا کر جرم یا تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔‘ بابا گروپال نے کرپان کی مذہبی حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ احاطہ عدالت میں ساتھ لے جانے کی اجازت نہ ملنے پر ہم اپنے مقدمات سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔‘
اس کی مثال وہ پشاور میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم سکھ رہنما چرن جیت سنگھ کے قتل کے کیس سے دیتے ہیں، اس کیس کو اہل خانہ نے احاطہ عدالت میں ہر بار کرپان اتروائے جانے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔گروپال سنگھ کہتے ہیں اپنی خواتین کو زچگی کے لیے ہسپتال لے جانے کی بجائے وہ گھر پر ہی بچے کی پیدائش کو اسی لیے ترجیح دیتے ہیں کہ لیبر رومز میں کرپان کے ساتھ داخلے کی اجازت نہیں دی جاتی جبکہ زندگی کے اس مشکل مرحلے میں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بطور مذہبی عقیدت کرپان حفاظت کے طور پران کے ساتھ ہی ہو۔
رنجیت سنگھ پاکستان کی بڑی مذہبی وسیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھتے ہیں، وہ اس وقت جمعیت علماء اسلام کی اقلیتی نشست پرخیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں بھی کرپان اتار کر ہی ایوان میں داخلے کی اجازت ملتی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کے حوالے سے وہ بارہا اسمبلی فلور پر آواز اٹھا چکے لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ پشاور کی سکھ سنگت اس معاملے پر کہتی ہے کہ ’دس سال قبل پاکستان آرمی کے ایک سکھ میجر ہرچرند سنگھ نے سوات میں آپریشن راست اور وزیرستان کے آپریشن ضرب عضب میں حصہ لیا تھا، سکھ افسر کو پانچوں ککار کا تحفظ دینے کے لیے باقاعدہ رعایت دی گئی تھی مگر فوج کے باہر رکن اسمبلی کو کرپان رکھنے کی اجازت نہیں تو 35 ہزار عام سکھوں کا خدا ہی حافظ ہے۔‘
عدالتی فیصلے پر سکھ برادری کا کہنا ہے کرپان ان کے مذہب کے ساتھ ساتھ جسم کا بھی لازمی جزو ہے جسے اسلحہ کے ساتھ جوڑنے سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے۔ ان کے بقول ’سکھ برادری دنیا بھر میں پرامن قوم ہے جس نے آج تک کرپان کو کسی بھی جاندار کے قتل کے لیے کبھی استعمال نہیں کیا۔ کرپان کا لائسنس سکھ برادری کے لیے آسانی کی بجائے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ سکھ برادری ان تحفظات کا اظہار بھی کر رہی ہے کہ لائسنس پرمٹ، منسوخی و اجراء فیس اور دیگر مختلف قسم کے قوانین بھگتنے پڑیں گے۔ سکھ برادری نے عدالت عالیہ سے درخواست کی ہے کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
