کریمہ بلوچ کی غیر فطری موت کے الزام کو کیسے تقویت ملی؟


بلوچ قوم پرست رہنما کریمہ بلوچ کا جسد خاکی کینیڈا سے پاکستان پہنچنے پر جس طرح اسکے تابوت کو سخت سرکاری پہرے میں اس کے گاؤں پہنچا کر اور تمام راستے بند کر کے صرف محدود تعداد میں لوگوں کو نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت کی اجازت دی گئی اس سے کریمہ کی غیر فطری موت سے متعلق الزامات کو تقویت ملتی ہے۔
اس سارے عمل سے یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ اگر ریاست بھی کریمہ کی موت کا سبب جاننے میں باضابطہ دلچسپی رکھتی ہے اور کریمہ کوئی عدالتی مجرم یا دہشت گرد بھی نہیں تھی تو پھر ایک غیر نوآبادیاتی، جمہوری سویلین حکومت کو اتنی پہرے داری و عجلت کا اہتمام کیوں کرنا پڑا۔ بکوچستان کا تمب گاوں آخر کتنا بڑا ہے، جس میں اگر آس پاس کے سوگواران پہنچ جاتے تو کیا ٹریفک جام ہوجاتا یا اہم سرکاری عمارتوں کو کوئی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ زیادہ سے زیادہ کتنا بڑا ہجومِ سوگواراں ہوتا جو اگر بے قابو بھی ہو جاتا تو کتنی توڑ پھوڑ کر لیتا؟
یہ وہ سوالات ہیں جو سینئر صحافی وسعت اللہ خان نے بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں اٹھائے ہیں۔ وسعت اللہ تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 23 مارچ 1931 کو بھگت سنگھ ، سکھ دیو تھاپڑ اور شیورام راج گرو کو دہشت گردی کے جرم میں لاہور ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دی گئی۔ فسادِ خلق کے خوف سے نوآبادیاتی انگریز سرکار نے جیل کی پچھلی دیوار توڑ کر تینوں کے جسد خاکہ ایک گاڑی میں رکھے گے۔ گنڈا سنگھ والا حسینی والا کے قریب ان کا کڑے پہرے میں انتم سنسکار کیا گیا اور راکھ دریاِ ستلج میں بہا دی۔ لیکن آزادی کے بعد حسینی والا میں تینوں کی باقاعدہ سمادھی تعمیر کی گئی تاکہ ان کو یاد کر کے پھول چڑھانے والوں کو آسانی ہو سکے۔ انگریز سرکار کی عینک سے دیکھیں تو یہ سوچ سمجھ میں آتی ہے کہ میت کو ورثا کے حوالے کرنے اور پھر عوام کی جنازے میں ممکنہ کثیر شرکت دراصل دہشت گردوں کو ہیرو بنانے کے مترادف ہو گی۔
اسی طرح پیر صاحب پگارا صبغت اللہ شاہ راشدی المعروف سوریا بادشاہ کو سندھ میں ریاست کے اندر ریاست بنانے، انگریز سرکار کے خلاف بغاوت، شورش اور دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی اور 20 مارچ 1943 کو انہیں حیدرآباد جیل میں پھانسی دی گئی۔ مگر انکی لاش ورثا کے حوالے کرنے کے بجائے کہاں دفنائی گئی۔ آج تک لوگ اندازے لگا رہے ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ انکی لاش کہاں گئی۔ انگریز سرکار کی عینک سے دیکھا جائے تو اس نے یہ اقدام یوں درست جانا کہ ایک باغی دہشت گرد کی لاش کے ہیرو جیسے استقبال کی اجازت دینے سے لوگوں کے دل پر ریاستی ہیبت نہیں رہتی۔
وسعت اللہ لکھتے ہیں کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ کو انڈین عدالت نے دہشت گردی کا مجرم قرار دیا۔ چنانچہ انھیں 11 فروری 1984 کو دلی کی تہار جیل میں پھانسی دے دی گئی اور ورثا کو آخری دیدار کا موقع دیے بغیر لاش کو جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا۔ آج تک سری نگر کے مرکزی قبرستان میں ایک خالی قبر موجود ہے جو مقبول بٹ کے جسد کا انتظار کر رہی ہے۔ اگر انڈین حکومت کی عینک سے دیکھا جائے تو عدالت کی نگاہ میں مقبول بٹ لاکھ مجرم سہی لیکن اس کی لاش ورثا کے حوالے کرنے اور جنازے کی کھلی اجازت دینے سے نقصِ امن کا شدید خطرہ ہو سکتا تھا۔
ایک اور کشمیری مجاہد افضل گرو کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دہشت گردی کی پاداش میں عدالتی سزائے موت کے بعد نو فروری 2013 کو خاموشی سے پھانسی دے کر تہار جیل میں دفن کر دیا گیا۔ بعد ازاں افضل کے خاندان کو ایک سرکاری چٹھی کے زریعے باضابطہ اطلاع دی گئی۔ اور اب یہ ریاستی رسمِ احتیاط انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام ہو گئی ہے کہ جو جو نوجوان مقابلے میں مارا جاتا ہے اس کی کہیں دور دراز تدفین کے بعد ہی ورثا کو اطلاع دی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے پاکستانی ریاست قدرے غنیمت ہے۔
وسعت اللہ لکھتے ہیں کہ معزول وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے جھوٹے الزام میں ایک عدالتی فیصلے کے نتیجے میں 4 اپریل 1979 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دیے جانے کے بعد ان کی لاش بیوہ اور بیٹی کے حوالے کرنے کے بجائے نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے زریعے گڑھی خدا بخش پہنچائی گئی۔ گاؤں میں موجود معدودے چند دور پرے کے رشتے داروں کو نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت ملی اور کڑے پہرے میں تدفین عمل میں آئی اور پھر اس قبر نے رفتہ رفتہ مزارِ عام کی شکل اختیار کر لی۔ آج بھٹو کی پھانسی کو جوڈیشل مردر قرار دیا جاتا ہے اور وہ لاکھوں لوگوں کے ہیرو ہیں۔
پاکستان کے سابق نائب وزیرِ دفاع، سابق گورنر و وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی کو کسی عدالت نے سزائے موت نہیں دی۔ جب ان کا جنرل مشرف سے اختلاف ہوا تو وقت کے آمر نے انہیں جسمانی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر ایسا ہوگیا۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ہلاکت کی سرکاری وجہ یہ بتائی کہ اکبر بگٹی ریاستی دستوں کی جانب سے اپنی گرفتاری کی مزاحمت کے دوران ایک پہاڑی غار میں 26 اگست 2006 کو ہلاک ہو گئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اکبر بگٹی نے گرفتاری دینے کی بجائے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے درجن سے زائد سینئر فوجی گئے افسران بھی موقع پر ہلاک ہوگئے۔ مگر ریاست کو پہلے سے محصور ڈیرہ بگٹی میں بھی نقصِ امن کا خطرہ تھا۔ لہٰذا نواب صاحب کے تابوت کو تالا لگا کر محدود نمازِ جنازہ کی اجازت دی گئی اور انکی کڑے پہرے میں تدفین کر دی گئی۔
لیکن وسعت اللہ خان کے مطابق بلوچ قوم پرست رہنما کریمہ بلوچ کی کہانی مندرجہ بالا کسی بھی کہانی سی مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ نہ اشتہاری تھی اور نہ ہی کسی کے قتل یا ریاست سے بغاوت کی عدالتی مجرم۔ وہ ایک خود ساختہ جلا وطن بلوچ ایکٹوسٹ تھی جس کی لاش ٹورنٹو کی ایک جھیل میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ کینیڈا کے تحقیقاتی اداروں کا بھی خیال ہے کہ اس کی موت حادثاتی تو ہو سکتی ہے مگر قتل یا زور زبردستی سے ڈبوئے جانے کے شواہد دستیاب نہیں۔ کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ کریمہ کی موت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ وہ پاکستانی شہری تھی۔ اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کریمہ کا جسد جب وطن واپس پہنچا تو کسی بھی عام پاکستانی شہری کی طرح اس کا تابوت ورثا کے حوالے کر دیا جاتا تاکہ وہ اپنی مرضی و منشا سے اس کی تدفین کے انتظامات کر سکتے۔ مگروسعت اللہ کے مطابق جس طرح کریمہ کے تابوت کو سرکاری پہرے میں اس کے آبائی گاؤں پہنچایا گیا اور تمام راستے بند کر کے صرف گاؤں کے لوگوں کو نمازِ جنازہ اور تدفین کے عمل میں شرکت کی اجازت دی گئی، اس سے مرحومہ کی غیر فطری موت کے متعلق الزامات کو تقویت ملتی ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر ریاست بھی کریمہ کی موت کا سبب جاننے میں باضابطہ دلچسپی رکھتی ہے اور کریمہ کوئی عدالتی مجرم یا دہشت گرد بھی نہیں تھی تو پھر ایک غیر نوآبادیاتی، جمہوری سویلین حکومت کو اتنی پہرے داری و عجلت کا اہتمام کیوں کرنا پڑا۔
وسعت اللہ سوال کرتے ہیں کہ تمب آخر کتنا بڑا گاؤں ہے، جس میں آس پاس کے سوگوار پہنچ جاتے تو ٹریفک جام ہوجاتا یا اہم سرکاری عمارتوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا یا پروازیں معطل ہو جاتیں۔ زیادہ سے زیادہ کتنا بڑا ہجومِ سوگواراں ہوتا جو بے قابو بھی ہو جاتا تو کتنی توڑ پھوڑ کر لیتا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button