کشمیر میں حزب کمانڈرز کی ہلاکتوں کا سلسلہ تیز کیوں؟


بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ہٹ لسٹ میں شامل حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف کمانڈر سیف اللہ میرعرف ڈاکٹر سیف کی موت کے بعد ایک بار پھر حزب المجاہدین قیادت کے بحران سے دوچار ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے خلاف برسر پیکار تنظیم حزب المجاہدین کے دو چیف آپریشنل کمانڈرز برہان وانی اور ریاض نائیکو کی شہادتوں کے بعد ڈاکٹر سیف کی موت کو حزب کیلئے بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 27 سالہ سیف اللہ کو مئی 2020 کے اوائل میں ریاض نائیکو کی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد حزب المجاہدین کا نیا آپریشنل چیف کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے سیف اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سری نگر کے رنگریٹ علاقے میں ہونے والی ایک مختصر جھڑپ کے دوران انہیں ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے جھڑپ کی جگہ پر صحافیوں کو بتایا کہ ‘کشمیر پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ جنوبی کشمیر سے ڈاکٹر سیف اللہ یہاں آئے ہیں۔ یہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سی آر پی ایف نے علاقے کو محاصرے میں لیا۔ اس کے بعد بھارتی فوج بھی وہاں پہنچی۔ محاصرے کے فوراً بعد طرفین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ڈاکٹر سیف اللہ مارا گیا۔ وجے کمار کے مطابق ان کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ‘ریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعد ڈاکٹر سیف کو حزب المجاہدین کا چیف کمانڈر بنایا گیا تھا اور حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر کا مارا جانا کوئی چھوٹی بات نہیں۔
دوسری طرف کشمیر پولیس کے مطابق ڈاکٹر سیف کی ہلاکت کی وجہ سے حزب المجاہدین سرپرست سے محروم ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر سیف کی ہلاکت کے بعد آج وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب نچلے درجے کے کمانڈرز ہی تمام آپریشنز کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔’ واضح رہے کہ کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ کے ملنگ پورہ سے تعلق رکھنے والے سیف اللہ میر عرف غازی حیدر نے 2014 میں ریاض نائیکو کے مشورے پر ہی حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 2018 میں جب بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے کشمیر میں سرگرم 17 شدت پسندوں کی ‘ہٹ لسٹ’ مرتب کی تو اس میں ریاض نائیکو پہلے جب کہ سیف اللہ میر دوسرے نمبر پر رکھے گئے تھے۔ ریاض نائیکو کی طرح سیف اللہ میر کو بھی بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے اے پلس یعنی انتہائی مطلوب عسکریت پسندوں کے زمرے میں رکھاہوا تھا ۔ سیف اللہ حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر بنائے جانے سے قبل پلوامہ کے ضلعی کمانڈر تھے۔
سیف اللہ میر عرف غازی حیدر نے بارہویں جماعت کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد پلوامہ میں قائم گورنمنٹ انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے بائیو میڈیکل انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا تھا۔ بعد ازاں سری نگر میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تین سال تک بحیثیت ٹیکنیشن کام کیا۔ اسی دوران وہ ریاض نائیکو کے رابطے میں آگئے اور بالآخر 2014 میں نوکری چھوڑ کر حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی۔ اس دوران اپنے بیمار اور زخمی ساتھیوں کا علاج کرنے کی وجہ سے ہی سیف اللہ میر ‘ڈاکٹر سیف’ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ سیف کو حزب چیف کا نیا آپریشنل چیف کمانڈر بنائے جانے کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ دونوں سابق کمانڈروں ریاض نائیکو اور برہان مظفر وانی کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور حزب کے نیٹ ورک سے بخوبی واقف ہیں۔
خیال رہے کہ بھارتی سکیورٹی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر کی ہلاکت کے ساتھ کشمیر میں رواں برس اب تک مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد بڑھ کر 192 ہوگئی ہے۔ ان میں دو درجن غیر ملکی عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔سکیورٹی ادارے کرونا وبا کی آڑ میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے انہیں اپنے آبائی علاقوں سے دور نامعلوم اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستانوں میں دفنایا جا رہا ہے۔ رواں برس اب تک کم از کم 125 مقامی عسکریت پسندوں کو غیر ملکی عسکریت پسندوں کے لیے مخصوص قبرستانوں میں سپرد خاک کیا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر سیف اللہ کو بھی اپنے آبائی علاقے سے دور کسی ایسے ہی مقبرے میں دفنایا گیا ہے۔ کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی مسلح شورش میں پہلی بار ایسا ہوا ہے جب مقامی عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے لواحقین کو سونپنے کی بجائے دوسرے اضلاع میں واقع مخصوص قبرستانوں میں دفنائی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سیف نے ریاض نائیکو کے بعد حزب کی قیادت سنبھال کر انھی کی پالیسیوں پر عمل جاری رکھا جس کی وجہ سے کشمیر کی سب سے پُرانی عسکری تنظیم حزب المجاہدین کی مقبولیت کا گراف تیزی سے اوپر گیا۔ یاد رہے کہ حزب المجاہدین کشمیر کے بارےمیں الحاق پاکستان کا موقف رکھتی ہے اور 1990 کے عشرے میں کشمیر میں بڑی مسلح کارروائیاں کرچکی ہے۔پاکستان میں مقیم محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین تنظیم کے سپریم کمانڈر ہیں۔ حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ نوجوانوں کی اکثریت جماعت اسلامی کے نظریات سے متاثر ہیں اور سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اعلی کمانڈروں کی اکثریت دراصل ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو جماعت اسلامی کے حامی ہیں۔ ماضی کی طرح اب پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ سرحد پار مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین یا کسی اور جہادی تنظیم کی کھل کر مدد کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button