گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کےلیے حکومت کو کیا کرنا ہوگا؟

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے جب کہ بھارت نے پاکستانی حکومت کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے۔
عمران خان نے اتوار کو گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا رہے ہیں اور اس کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ جب قراقرم ہائی وے نہیں بنی تھی، اس وقت شاید ہی کوئی گلگت بلتستان آتا تھا۔ ہمارے قبائلی علاقے، بلوچستان اور اندرون سندھ کے علاقے ترقی کے حوالے سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس لیے ہمارے ترقیاتی منصوبوں کا رخ پیچھے رہ جانے والے علاقوں کی طرف ہے۔ وزیرِ اعظم نے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب آئندہ چند روز میں گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری بھی شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں اور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری نقشے کے مطابق گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ ہی شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن بھارت اسے متنازع علاقہ قرار دیتا ہے۔ آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان کی بھی اپنی قانون ساز اسمبلی ہے۔ گلگت بلتستان کا اپنا وزیر اعلیٰ و گورنر ہوتا ہے۔ نومبر کی 15 تاریخ کو اسی اسمبلی کےلیے انتخابات ہونا ہیں۔ لیکن گلگت پاکستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کےلیے کیا طریقۂ کار ہوگا؟
اس بارے میں پارلیمانی امور کے صحافی محمد بخش سومرو (ایم بی سومرو) کہتے ہیں کہ اگر حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانا چاہتی ہے تو اسے آئین کے کئی آرٹیکلز میں ترامیم کرنا ہوں گی۔ حکومت کو مختلف آرٹیکلز جو پاکستان کی سرحدوں سے متعلق ہیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کی حدود سے متعلق ہیں، الیکشن کمیشن کی حدود سے متعلق ہیں، ان سب میں حکومت کو تبدیلی کرنا ہوگی۔ حکومت کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق قانون سازی کرنا ہوگی۔ اور ان سب ترامیم کےلیے حکومت کو دونوں ایوانوں میں الگ الگ دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ ایم بی سومرو نے بتایا کہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو قومی اسمبلی میں 342 میں سے 228 ارکان کی منظوری کی ضرورت ہوگی جب کہ سینیٹ کے 104 ارکان میں سے 86 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ کیا موجودہ ملکی سیاسی صورتِ حال میں یہ ممکن ہے؟ اس بارے میں ایم بی سومرو نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایسا چاہتی تو ہیں لیکن یہ معاملہ کریڈٹ کا ہے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سرد جنگ ہے۔ اگر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) یہ بل ایوان میں پیش کرے گی تو اپوزیشن حکومت کو کریڈٹ نہیں لینے دے گی۔ اس وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کےلیے خاصہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کو سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق قرار دیا ہے۔ اس بارے میں سابق سفیر علی سرور نقوی کہتے ہیں کہ جمّوں و کشمیر پر ایک مہا راجہ کی حکومت تھی اور اس نے جمّوں و کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا تھا۔ لیکن گلگت بلتستان جمّوں و کشمیر کا حصہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک الگ ریاست تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کشمیر سے متعلق ہے۔ گلگت بلتستان اس ریاست کا حصہ نہیں بنتا۔ لہٰذا اس کو ایک الگ حصہ سمجھتے ہوئے پاکستان دوسری نظر سے دیکھ رہا ہے۔ البتہ سینئر صحافی فرمان علی کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان میں ایک اتھارٹی قائم کی جانی ہے اور آزادانہ استصوابِ رائے کیا جانا ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ میں آپ نے قرارداد پر دستخط کیے ہوئے ہیں کہ آزادانہ استصوابِ رائے ہوگا۔ اگر آپ نے گلگت بلتستان کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی کرنی ہے تو پہلے اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں تبدیلی لانا ہوگی۔ اس کے بغیر کوئی بھی اقدام کرنا ایسا ہی ہے جیسے بھارت نے غیر قانونی طور پر کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ہے۔ ایسا ہی پاکستان کی طرف سے تصور ہوگا۔
بھارت نے وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے اعلان پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ بھارتی دفترِ خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستو نے عمران خان کے اعلان کو مسترد کیا ہے۔ انوراگ سری واستو نے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے غیر قانونی اور زبردستی قبضے کے تحت ہندوستان کی سرزمین کے ایک حصے میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کو پوری طرح مسترد کرتی ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جمّوں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی علاقہ جات جن میں گلگت بلتستان کا علاقہ بھی شامل ہے، یہ 1947 میں جمّوں و کشمیر کے ‘یونین آف انڈیا’ میں قانونی، مکمل اور اٹل الحاق کی وجہ سے ہندوستان کا لازمی جزو ہیں۔ ان کے بقول حکومتِ پاکستان کے پاس ان مقامات پر زبردستی اور غیر قانونی قبضے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پاکستان اپنے غیر قانونی قبضے کو چھپانے کے لیے اس طرح کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ کوششیں ان علاقوں میں سات دہائیوں سے رہائش پذیر افراد کے ساتھ انسانی حقوق کی پامالیوں، استحصال اور آزادی سے انکار کو چھپا نہیں سکتیں۔ پاکستان نے اس معاملے پر بھارتی اعتراض اور بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے ترجمان دفترِ خارجہ زاہد حفیظ کہتے ہیں کہ بھارت کا قانونی، اخلاقی یا تاریخی اعتبار سے اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جمّوں و کشمیر کے علاقوں پر اس نے 73 برسوں سے زیادہ عرصے سے غیر قانونی اور زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت کے جھوٹے اور من گھڑت دعوے نہ ہی حقیقت کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ عالمی برادری کی توجہ جمّوں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے ارتکاب کے نتیجے میں جاری انسانی بحران سے ہٹا سکتے ہیں۔ پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے وزیرِ اعظم عمران خان کے اس اعلان کو گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کےلیے ‘پری پول رگنگ’ قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تحصیل یاسین میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم کو پہلے گلگت بلتستان کا خیال کیوں نہیں آیا؟
عمران خان کہتے ہیں، سوچتا ہوں کہ گلگت بلتستان والوں کو صوبہ دے دوں۔ وزیرِ اعظم الگ صوبے کی بات کو اپنے منشور میں شامل کر کے دکھائیں۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں پہلے ہی الگ صوبے کی بات شامل ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب والوں کو بھی 100 دن میں الگ صوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وزیرِ اعظم اور حکومتی وزرا انتخابات سے پہلے دھاندلی کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ان کے وفاقی وزیر غیر قانونی طور پر گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ یہ انتخابی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وفاقی وسائل انتخابات پر اثر انداز ہونے کےلیے استعمال ہو رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا معاملہ سیاسی نہیں بلکہ سکیورٹی کا ہے۔ اس لیے اگر ہم گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے اعلان کو یکسر مسترد کرتے ہیں تو ہمارے پاس انہیں دینے کےلیے متبادل آپشن بھی تو ہو۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے۔ یہ حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے۔ تمام اکائیاں مل کر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قربانیاں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے لیے دی ہیں۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کےلیے ہماری جان بھی حاضر ہے۔ 60، 70 ہزار کشمیری پاکستان کی فوج میں جانیں قربان کرنے کےلیے شامل ہیں۔ پاکستان کا ہر وزیرِ اعظم ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔ لیکن اگر یہ اعلان الیکشن کے بعد ہوتا تو اچھا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button